ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیانات پر جرمن چانسلر بھی برس پڑیں

83

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی کانگریس کی غیر سفیدفام خواتین کے بارے میں متنازع بیان پر شدید تنقید کی۔ مرکل نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی بیان بازی اور غیر سفید فاموں سے متعلق ان کے نظریات سے براء ت کا اعلان کرتی ہیں۔ انہوں چاروں خواتین سے متعلق نسل پرستانہ ٹوئٹ پر اظہار یکجہتی کیا۔ دارالحکومت برلن میں سالانہ پریس کانفرنس کے دوران جرمن چانسلر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا بیان امریکی اقدار کے منافی ہے، کیوں کہ امریکا کی ترقی میں مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کا اہم کردار رہا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اکثر اوقات ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں، جن کی امریکا کے اندر اور باہر بھی سخت مذمت ہوتی ہے اور امریکیوں کو دیگر اقوام میں سبکی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی 4خواتین ارکان کے بارے میں اپنی ٹوئٹس میں تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں مشورہ دیا کہ اگر وہ امریکا میں خوش نہیں تو وہ ملک چھوڑ کر جا سکتی ہیں۔اس بیان پر امریکا میں شدید رد عمل سامنے آیا اور امریکی ایوان نمایندگان نے صدر ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیانات کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی، تاہم اسے سینیٹ میں پیش کرنے سے پہلے ہی اسپیکر نینسی پلوسی نے مسترد کردیا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ان کے بیان نسل پرستانہ ہرگز نہیں۔ انہوں نے اپنے بیان پر نظر ثانی کرنے کی بجائے ریاست شمالی کیرولینا میں منعقدہ ایک جلسے میں ڈھٹائی سے ایک بار پھر اپنے متنازع جملے دہرائے، جس پر ان کے حامیوں نے ارکان کانگریس کے خلاف واپس بھیجو کے نعرے لگائے۔