بھارت: مزید 3 شہری گئو رکھشا کی بھینٹ چڑھ گئے

150

 

پٹنہ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے ایک گاؤں میں گئو رکھششوں نے 3 افراد کو مویشی چوری کے الزام میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا ، جب کہ چوتھے شخص کی حالت انتہائی نازک ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق واقعہ پیتھوری نندلال گاؤ کے قریب پیش آیا۔ جمعہ کی صبح 4 افراد ٹرک میں مویشی لے کر جا رہے تھے کہ گاؤں کے لوگوں نے انہیں روک لیا اور گائے چوری کرنے کے الزام میں حملہ کر دیا۔ مقامی پولیس روایتی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جائے وقوع پر دیر سے پہنچی اور رسمی کارروائی کرتے ہوئے 3افراد کو حراست میں لے لیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد نے اسپتال منتقلی کے دوران راستے میں دم توڑا۔ مقامی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص مسلمان ہے۔ دوسری جانب مقتولین کے گاؤں والوں نے اسپتال کے باہر حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت ملک بھر میں گئو رکھشش کی آڑ میں تشدد اور قتل کے واقعات پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ادھر بھارتی کانگریس کے قانون دان پرمی چند مشرا نے ریاستی اسمبلی میں حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں لوگوں پر تشدد اور ان کا قتل ہورہا ہے ، جب کہ سرکار کو صرف اپنا دامن بچانے کی فکر پڑی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں2014ء کے بعد سے گائے کے رکھوالے 44افراد کو قتل اور سیکڑوں کو زخمی کرچکے ہیں، جب کہ مودی سرکار کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ان واقعات میں بہت تیز سے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ امریکا نے بھی بھارت کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ملک میں پر تشدد واقعات میں تیز ی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک طرف گئو رکشی کے نام پر مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے تو دوسری طرف دلتوں کو کمتر قرار دے کر ان سے ذلت آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔ مودی سرکار نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رپورٹ کو مسترد کردیا تھا۔ یاد رہے کہ جون میں جھاڑکھنڈ کے کھرساواں ضلع میں ایک مسلمان نوجوان تبریز کو چوری کا الزام لگا کر ہندوانتہاپسندی کی نظر کیا گیا تھا۔ شرپسندوں نے اسے کھمبے سے باندھکر گھنٹوں پیٹا اور ہندوؤں کے مذہبی نعرے لگوائے۔ تبریز کی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا تھا۔