شام کاربم دھماکے اور ٹینکر پھٹنے سے 21 افراد جاں بحق

166
دمشق: شام کے شمالی شہر عفرین میں کار بم دھماکے کے بعد آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں‘ جائے وقوع پر افراتفری مچی ہوئی ہے
دمشق: شام کے شمالی شہر عفرین میں کار بم دھماکے کے بعد آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں‘ جائے وقوع پر افراتفری مچی ہوئی ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمالی شہر میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے جبکہ ایندھن بھرے ایک ٹینکر کے پھٹنے سے ہونے والے دھماکے میں 8 شہری ہلاک ہوئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق انسانی حقوق گروپوں نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کے روز ترکی کی سرحد سے متصل شمالی شہر عفرین کے داخلی راستے پر ترک حمایت یافتہ ایک عسکری تنظیم کی چیک پوسٹ پر کار بم دھماکا ہوا، جس میں مرنے والے زیادہ تر عام شہری بتائے جاتے ہیں۔ مبصر برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ بارود سے بھری ایک کار عفرین شہر کے داخلی راستے پر بنائی گئی ایک چیک پوسٹ پر زور دار دھماکے سے پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 8 شہری، 4 ترک نواز جنگجو اور ایک شخص جس کی شناخت نہیں کی گئی ہلاک ہوگئے۔ دھماکے میں 30 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دریں اثنا عفرین ہی میں ایک مقام پر ایندھن بھرے ٹینکر میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 8 شہری ہلاک ہو گئے۔ دھماکے کے دوران ٹینکر سے بہنے والے ڈیزل نے بھی آگ پکڑ لی، جس کے بعد بڑھنے والی آتش زدگی نے اطراف میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے میں 35 شہری زخمی بھی ہوئے۔ دوسری جانب ترکی کے شہر استنبول کے میئر اکرم امام اولو کا کہنا ہے کہ شامی پناہ گزینوں کے لیے انسانی بنیادوں پر معاشی حالات ان کی ولین ترجیحات میں ہے۔ ایک ریڈیو چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران اولو نے واضح کیا کہ ترکی نے پناہ گزینوں کے معاملے کو صرف انتظامی طور پر ہی نہیں سنبھالا بلکہ انہیں ملک کے صوبوں میں بنا کسی ضابطے کے پھیلا دیا ہے۔