امریکاکا خلیج میں عالمی فوجی اتحاد بنانے کا اعلان

61
واشنگٹن: امریکی میرینز کے جنرل جوزف ڈینفورڈ صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں
واشنگٹن: امریکی میرینز کے جنرل جوزف ڈینفورڈ صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا کے اعلیٰفوجی جنرل جوزف ڈینفورڈ کا کہنا ہے کہ ایران اور یمن کے اطراف میں سمندر کی حفاظت کے لیے امریکا ایک بین الاقوامی فوجی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے۔ امریکی میرینز کے جنرل جوزف ڈینفورڈ نے کہا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، کیوں کہ اس علاقے میں اہم تجارتی گزر گاہیں ہیں۔ جنرل ڈینفورڈ کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکا کی ایسے کافی ممالک سے بات چیت چل رہی ہے، جو اس منصوبے کی حمایت کرنے پر آمادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کمانڈ اینڈ کنٹرول کے عمل کے لیے جہاز مہیا کرے گا، تاہم دیگر ممالک بھی کشتیاں دیں گے، جو امریکی جہازوں کے درمیان گشت کر سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا دوسرے ممالک کی افواج کے ساتھ براہ راست کام کرتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا کہ کون کون سے ممالک اس منصوبے میں کس طرح اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب فوجی اہمیت کے بحری راستے ہیں، جو سمندر سے خلیج اور بحیرئہ احمر تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ باب المندب کے بحری راستے سے روزانہ 40 لاکھ بیرل تیل گزرتا ہے۔ امریکا نے ایران پر جون میں آبنائے ہرمز سے کچھ ہی فاصلے پر 2 آئل ٹینکرز کو آبی بارودی سرنگ سے تباہ کرنے کا الزام لگایا تھا، جس کی ایران نے تردید کی تھی۔ اس کے کچھ ہی روز بعد ایرانی فوج نے امریکی ڈرون کو خلیج کے علاقے میں تباہ کر دیا۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے یورپ کے قائدانہ کردار کے خواہاں ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے ایک اعلیٰ سفارتی مشیر عمانول بون کو بھی ایران بھیجا ہے، جنہوں نے بدھ کے روز ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری ریئر ایڈمرل علی شمخانی سے ملاقات کی۔ فرانسیسی صدارتی دفتر نے اس ملاقات کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کا مقصد ایرانی حکومت کو جوہری معاہدے کی پاس داری پر راضی کرنا ہے۔ ادھر امریکی درخواست پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے ایران کے موضوع پر ایک خصوصی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ چند روز قبل تہران حکومت نے 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے برخلاف افزودہ یورینیم کی مقدار بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ 35 ملکی جوہری توانائی ایجنسی اس موضوع پر ویانا میں اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کے 2 نکات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افزودہ یورینیم کی مقدار میں اضافے کا مقصد یورپی ممالک پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ وہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں سے نمٹنے میں تہران حکومت کی مدد کریں۔