خلائی سائنس میں تیز رفتار پیش رفت

127

 

پروفیسر عطا الرحمن
جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی میں تحقیق و ترقی اپنے عروج پر ہے اور انسان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کائنات کے تمام راز افشاں کرنے میں سر گرداں ہے ۔ وہاں خلائی سائنس میں جدید پیش رفت بھی اسی کڑی کا حصہ ہے۔ خلائی سائنس میں پیش رفت درج ذیل ہیں۔
خلا نورد
خلا نورد طاقت ور ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک رات کے بعد دوسری رات میں، اور ایک سال کے بعد دوسرے سال میں آسمانوں کی خاک چھانتے ہیں یہ تھکا دینے والا کام ہے جو صبرآزما بھی ہے اور مستقل مزاجی بھی مانگتا ہے۔ اب انسانوں کو اس صبر آزما مرحلے سے نکالنے کے لیے روبوٹس آگئے ہیں۔ اب آسمانوں کی خاک چھاننے کا تھکا دینے والا کام بعض تجربہ گاہوں میں روبوٹس انجام دے رہے ہیں۔بعض ستاروں کی روشنی ہلکی اور تیز ہوتی ہے۔ اس سے سائنس دان یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ کائنات کی وسعت ایک جگہ جامد نہیں ہے بلکہ یہ مستقل پھیل رہی ہے، جیسے جیسے کہکشائیں ایک د وسرے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں ویسے ویسے کائنات وسعت پذیر ہو رہی ہے اور اس کو دھکا ایک پراسرار طاقت Dark Energyسے مل رہا ہے۔ یہ متغیر ستارے ایک لمحے کے لیے ظاہر ہوتے ہیں اور پھر فوراً غائب ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کو transients کہا جاتا ہے۔ Mount Palomer مشاہدہ گاہ پر ان ستاروں کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت کااستعمال کیا جارہا ہے۔ طاقت ور ٹیلی اسکوپ کے ذریعے ان تصویروں کا تجزیہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جاتا ہے جو اس میں مل جانے والی آوازوں کے اشاروں کو صاف کر کے واضح تصویر فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ Super nova جو کہ عارضی طور پر ظاہر ہوتا ہے ،اس کا بھی سراغ لگایا جا سکتا ہے۔اس کے لیے کمپیوٹر کا سماجی نیٹ ورک بنایا گیاہے جو کہ ایک اکائی کی صورت میں کام کریں گے۔ چلی،ہوائی، آسٹریلیا، جنوبی افریقا، ٹیکساس اور Canary Island میں رکھے گئے کمپیوٹر میں موجود خصوصی سافٹ ویئرز کے ذریعے ان کو آپس میں منسلک کیا جائے گا اور یہ ایک دوسرے سے ابلاغ کر سکیں گے۔
کہکشاؤں کا تصادم
ہبل ٹیلی اسکوپ سے حاصل کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق ہماری کہکشاں Milky Way ایک قریبی کہکشاں Andromeda Galaxy سے ٹکراؤ کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ماہرین فلکیات کا اندازہ ہے کہ یہ تصادم 4ارب سال بعد شروع ہوگا اور مزید 3ارب سال تک جاری رہے گا، جس کے بعد دو کہکشائیں ایک دوسرے سے مدغم ہوکر ایک بڑی بیضوی شکل کی کہکشاں میں تبدیل ہوجائیں گی ،تاہم ہماری زمین اس مظہر کے رونما ہونے سے قبل بہت سے سنگین مسائل سے دوچار ہوچکی ہو گی۔ سورج کے حوالے سے اب وہ وقت بہت قریب ہے جب وہ ایک سرخ دیوہیکل ستارے میں تبدیل ہوجائے گا۔ اس وجہ سے سمندر دس لاکھ سال کے اندر بخارات میں تبدیل ہوجائیں گے۔ مزید دو ارب سال بعد ہمارے کرۂ ارض سے پانی کا وجود بالکل ختم ہوجائے گا اوربالآخر سورج ہماری زمین کو نگل لے گا ،کیوں کہ وہ ایک بہت بڑے سرخ ستارے میں تبدیل ہوچکا ہوگا۔ جس کی جسامت ہماری زمین سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔
سیارہ جو دو ستاروں کے
گرد گردش کرتا ہے
سائنس دانوں نے اگرچہ ایسے سیاروں کا مفروضہ پیش کیا تھا جو ایک کے بجائے دو ستاروں کے گرد گردش کرتے ہیں (Circumbinary Planets) تاہم ایسے سیارے کبھی دریافت نہیں ہوئے تھے۔ اب ناسا سے تعلق رکھنے والے سائنس دان William Boruckiasنے کپلر ٹیلی اسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جو کہ زمین سے دو سو نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ جن ستاروں کے گرد یہ سیارے گردش کرتے ہیں یہ ہمارے سورج سے چھوٹے ہیں اور اس سیارے کا ایک چکر229دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ سیارہ جس کو Kepler 16b کا نام دیا گیا ہے جسامت میں زحل کے برابر ہے اور یہ قابل رہائش خطہ Habitable Zoneیعنی وہ علاقہ جہاں پانی اور زندگی ممکن ہے ۔ یہ سیارہ گیسوں اور چٹانوں پر مشتمل ہے۔
زمین کی شکل کا سیارہ
انسان کا طویل ماضی اس جستجو میں گذرا ہے کہ یہاں پر کوئی غیر ارضی حیات وجود رکھتی ہے یا نہیں۔ اجنبی مخلوق (aliens)، UFO اور بعض دوسرے زندہ اجسام کی تلاش کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس تلاش میں کہکشاں میں ایسے سیاروں کی تلاش بھی شامل ہے جو قابل رہائش علاقے یا Habitable Zone میں پائے جاتے ہوں۔کیپلر ایک بہت بڑا خلائی کیمراہے، جس کی resolution 95میگا پکسل ہے۔ اس سے بڑا خلائی کیمرا اب تک تیار نہیں کیا جاسکا ہے۔ یہ ستاروں کی چمک کو بڑی مقدار میں حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ہر مہینے ڈائون لوڈ کرتا ہے ،یہ ڈیٹاتقریباً 100 گیگا بائٹ تک ہوتا ہے ۔بعدازاں اس ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی سیارہ ستارے کے قریب سے گذرتا ہے تو ستارے کی روشنی ہلکی سی مدہم پڑجاتی ہے۔ روشنی کتنی مقدار میں مدہم ہوتی ہے اور کتنی تیزی سے روشنی واپس آتی ہے، اس معلومات کے تجزیے سے سیارے کے سائز اور اس کے محور کے بارے میں گراں قدر معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ اس کیمراکا حامل خلائی جہاز مارچ2009ءمیں خلا میں بھیجا گیا تھا اور اس خلائی جہاز کو زمین کے پیچھے helio centric orbit میں رکھا گیا۔ یہ آسمان پر معمولی سے دھبے کی بھی نشاندہی کردیتی ہے۔ جس سے اس بات کا قوی امکان پیدا ہوا ہے کہ یہ کہکشاں میں موجود exoplanetکی بھی نشاندہی کردے گی۔ کیپلر نے اب تک 21300سیارے دریافت کرلیے ہیں۔ ان میں سے20زمین کی طرح کے ہیں اور یہ Habitable Zone میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم ان دریافت شدہ سیاروں میں سب سے اہم Kepler 22b ہے۔ یہ زمین سے 600نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ ستاروں کے Cygnus اور Lyraجھرمٹ کے درمیان میں واقع ہے۔ اس کی جسامت ہماری زمین کے برابر ہے۔ اس کے قریب جو ستارہ واقع ہے وہ ہمارے سورج جیسا ہے۔
پانی کی نئی دنیا دریافت
ہمارے نظام شمسی سے باہر سیاروں کی تلاش میں ہماری ہی کہکشاں میں سات سو exoplanetدریافت ہوچکے ہیں۔ ان میں سے کئی دو سورجوں کے گرد گردش کررہے ہیں۔ بعض کی سطح پر بڑے بڑے طوفان برپاہیں۔ بعض اپنے سورجوں سے اس قدر قریب ہیں کہ ان پر موجود چٹانیں بخارات میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور آسمان سے چٹانی بارش شروع ہوجاتی ہے۔ اس کی ایک مثال COROT-7b ہے،جس کی دریافت چار سال قبل COR0Tٹیلی اسکوپ کی مدد سے کی گئی تھی۔اس حوالے سے ایک دلچسپ سیارہ GJ 1224bہے جو کہ 40نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی دریافت میں MEarth پروجیکٹ کے تحت عمل میں آئی تھی۔ یہ تحقیق Havard Smithsonian Centre برائے ایسٹروفزکس CFA میں انجام دی گئی تھی۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے 7.2 گنا بڑاہے اور اس کی سطح زیادہ تر پانی پر مشتمل ہے۔ یہاں کا درجۂ حرارت 230 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ یہاں پر زمین کے مقابلے میں زیادہ پانی اور کم چٹانیں ہیں۔ یہاں موجود شدید دباؤ اور درجۂ حرار ت ایک عجیب سے مادّے HOT ICEیا ’’گرم برف ‘‘کی تشکیل کا باعث بنتا ہے۔
سیارچوں سے بمباری
زمین کی فضامیں روزانہ کئی Meteorites داخل ہوتے ہیں جن کا وزن سینکڑوں ٹن ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر کا وزن محض چند گرام ہوتا ہے (ستاروں کا ٹوٹ کرگرنا، جس کا ہم اکثر راتوں میں مشاہدہ کرتے ہیں) بڑے مادّوں کا وزن سینکڑوں ٹن ہوسکتا ہے اور یہ زمین میں شگاف کا سبب بن جاتے ہیں۔ چند سال قبل لوہے کے 50,0000 سیارچے winslowایری زونا کےقریب گرے تھے اور اس کی وجہ سے 1200 میڑ چوڑا اور200میٹر گہرا شگاف بن گیا تھا۔ ہمارے کرۂ ارض پر 120ایسے شگافوں کی دریافت ہوچکی ہے۔جب چھوٹے اسٹرائیڈز (Asteroids) ہماری زمین سے ٹکراتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ اس کی مثال winslow ایری زونا کے قریب موجود شگاف ہے۔یہ پچاس ہزار سال قبل ایک فولادی meteorکے گرنے کی وجہ سے بنا تھا، جس کا قطر تقریباً 20سے 50میٹر تھا۔ اس کے دھانے کا قطر1200میٹر تھا۔ اس طرح کا تازہ ترین شگاف 1908ء میں Tunguska سائبریا میں پید ا ہواتھا۔ یہ اس قدر زودار دھماکے کے ساتھ رونما ہواتھا کہ اس کی آواز تقریباً نصف دنیا میں سنی گئی تھی اور 50کلومیٹر کے قطر میں موجو دتمام درخت جھلس گئے تھے۔ہمارے وجود کے لیے حقیقی خطرہ بڑے سیارچےاسٹرائیڈز ہیں۔ ایسے سیارچوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہیں جن کا قطر ایک کلومیٹر سے زیادہ ہے اور 10لاکھ سال میں ایک دفعہ ہمارے سیارے کے محور کو پار کرکے اندر آجاتے ہیں او رزمین سے ٹکراتے ہیں۔ اس طرح کا ایک سیارچہ 65ملین سال قبل ہمارے سیارے سے ٹکرایا تھا، اس کی جسامت 180کلومیٹر تھی اور یہ جنوب مشرقی میکسیکو کے جزیرہ نما Yacatanکے مقام پرآکر ٹکرایا تھا۔ڈائنوسار کے خاتمے کی ذمہ داری اسی مظہر کوقرار دیا جاتاہے۔
کیا سمندری پانی
بیرونی خلا سے آیا ہے
ایک نظریے کے مطابق یہ پانی سیارچوں (اسٹرائیڈز) کے ذریعے زمین پر آیا ہے۔ماہرین کے مطابق سمندری پانی دراصل خلاء میں موجود cometکی بمباری کا نتیجہ ہے۔ اب اس کو تقویت دینے والے ٹھوس شواہد حاصل ہوگئے ہیں ایک کامٹ ، Harltey 2کے تجزیہ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس کامٹ پر پائی جانے والی برف کے اجزائے ترکیبی (Composition)وہی ہیں جو زمین پرموجود سمندری پانی کے ہیں۔ یہ تجزیہ Herschelخلائی مشاہدہ گاہ پر نصب Obitingٹیلی اسکوپ کو استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس تجزیہ کا مقصد نامیاتی سالمات کے زیریں سرخ (انفراریڈ) سگنلز کی خصوصیات کا مطالعہ کرنا تھا۔ Katlenburg Lindau جرمنی کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار سولر سسٹم ریسرچ کے Paul Hartogh کے مطابق جب نظامِ شمسی تکمیل کے مراحل سے گذر رہا تھا تو اس وقت اس طرح کے Comets بڑی تعداد میں موجود تھی جنہوں نے ہمارے کرہ ٔارض پر بارش کی اور اس کے نتیجے میں ہماری زمین پر سمندروں کی تشکیل ہوئی۔کائنات میں پانی کے ایک بڑے ذخیرے کی دریافت کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کام کرنے والے خلا نوردوں کی دو بین الاقوامی ٹیموں نے ہماری کائنات میں پانی کا ایک بڑ اماخذ دریافت کیا ہے۔ یہاں پانی کا ذخیرہ حیران کن حد تک وسیع ہے۔ یہ ذخیرہ ہمارے سورج کی کل کمیت سے10,0000گنا زیادہ کمیت کا حامل ہے جب کہ زمین پر موجود تمام سمندروں کی کل جسامت سے 140ٹریلین گنا بڑا ذخیرہ ہے،مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ ذخیرہ ہم سے12بلین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی تصویر ہم تک پہنچنے میں 12ملین سال لگ جائیں گے۔ جب کہ ہماری کائنات کی اندازاً عمر 7.13ملین سال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائی کائنات میں بھی پانی وافر مقدار میں موجود تھا۔ حاصل ہونے والی تصویر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک بڑا روزن بلیک ہول پانی کو پی رہا ہے۔ اس روزن بلیک ہول کو Quasarکا نام دیا گیا ہے۔ Quasar انتہائی چمکدار شے ہے جو کہ اردگرد کی گرد اور گیسوں کو بھی کھا لیتی ہے اور اس کے نتیجے یں توانائی کی بڑی مقدار خارج ہوتی ہے۔