ایرانی صدر کا یورینیم افزودگی مزید بڑھانے کا اعلان

65

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک)ایرانی صدر حسن روحانی نے 7 جولائی سے یورینیم افزودگی کی سطح کو مزید بلند کرنے کا اعلان کردیا۔ روحانی کا کہنا تھا کہ یورینیم افزودگی مزید 367 کلو بڑھا نے کے بعد بھی اس میں ضرورت کے تحت اضافہ جاری رہے گا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگانے والے اور جوہری سمجھوتے پر پشیمان امریکا کو اب خوش ہونا چاہیے کہ تہران معاہدے سے دور ہورہا ہے۔ انہوں نے جوہری معاہدے پر عمل کے لیے یورپ کی کمزور کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے دعوے دار یورپی ممالک امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کی مذمت نہیں کرتے۔ جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں میں کمی لانا خلاف ورزی نہیں ہے، کیوں کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم نے اس حوالے سے کوئی قدم نہ اٹھایا تو معاہدہ مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا۔ ادھر یورپی ممالک جرمنی، فرانس، برطانیہ اور یورپی یونین کی مندوب نے مشترکہ بیان میں کہاکہ جوہری سمجھوتے پرعمل کا انحصار ایران کے رویے پر منحصر ہے۔ ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرتا ہے تو یورپی ممالک بھی معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ یورپی وزرائے خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں یورینیم کی مقرر کردہ مقدار سے زیادہ افزودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر معاہدے کے فریقین نے عملی اقدامات نہ کیے تو ایران 7جولائی کو جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں سے دستبردار ہوجائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افزودہ یورینیم کی حد تجاوز کرنے کے فیصلے پر اسے برا فیصلہ قرار دیا۔ اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ایران امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو پامال کر رہا ہے، جس کی قیمت 150 ارب ڈالر ہے۔