گیس کے نرخوں میں 200فیصد اضافہ عوام اور معیشت کی تباہی ہے، حافظ نعیم

87

 

کراچی(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے گیس کی قیمت میں 200 فیصد تک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کافیصلہ نہ صرف صنعتوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ لاکھوں گھریلو صارفین کے لیے بھی انتہائی ظالمانہ قدم ہے،گیس کے نرخوں میں 200فیصد اضافے سے ملکی معیشت کی تباہی کا آغاز ہوگااور پہلے سے مشکلات میں گھری ہوئی صنعتوں کو مالکان بند کرنے پر
مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت گیس کے نرخ میں اضافے کے بجائے گیس کی پیداوار میں اضافے کی کوشش اور متبادل ذرائع تلاش کرے ،سابق حکومت میں بھی معیشت کا سالانہ خسارہ 50ارب روپے ہی تھا لیکن انہوں نے گیس نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ،موجودہ حکومت گیس کی چوری روکنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کرے اور مؤثر حکمت عملی ترتیب دے تاکہ عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف حاصل ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک فرنس آئل کے بجائے 70فیصد بجلی گیس سے بناتی ہے اور جب گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تو اس کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کا جواز بنایا جائے گااور یوں اس کا نقصان بھی براہ راست صنعتوں کو بھی ہوگااور گھریلو صارفین بھی متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ گیس کے نرخوں میں اضافہ 200فیصد ہو یا100فیصد اس کا بوجھ عام گھریلو صارفین کو بھی برداشت کرنا پڑے گا جبکہ بجلی کے نرخوں میں بھی بغیر اطلاع کے فی یونٹ پیسے بڑھا دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ آمدنی بڑھانے کے لیے عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے دوسرے ذرائع اختیار کرے اور بچت کا راستہ اپنائے، عوام پہلے ہی بدترین مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہر نئی حکومت نے ان ہی دلائل کی بنیاد پر ٹیکسوں اور مہنگائی میں اضافہ کیا اس لیے موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کی امیدوں کے مطابق ان سے کچھ لینے کے بجائے دینے کی کوشش کرے۔
حافظ نعیم