یمن: حوثیوں کے انتقامی حربے‘ مخالفین پر مقدمات کی تیاری

98

صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں پارلیمانی ذرائع نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے ایک نئے سیاسی انتقامی حربے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کی حوثی باغیوں نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے یا آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے 100 ارکان پارلیمنٹ کے خلاف نام نہاد عدالتی تحقیقات کی آڑ میں اُنہیں حاصل پارلیمانی تحفظ ختم کرنے کی کوششیںشروع کی ہیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق یمن کے پارلیمانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کی سپریم انقلابی کونسل کے چیئرمین مہدی مشاط نے حال ہی میں صنعا میں پارلیمانی کمیٹیوں کے سربراہوں کا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں حوثیوں کی عدالتی کونسل کے عہدیدار بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مہدی مشاط نے بتایا کہ وہ پارلیمنٹ کے 100 ارکان کے ٹرائل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ارکان اندرون ملک نہیں۔ ان کے خلاف پراسیکیوٹر جنرل کے ذریعے قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں آئین کے تحت حاصل پارلیمانی تحفظ ختم کردیا جائے گا۔ ان ارکان کا پارلیمانی تحفظ ختم کرنے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا جائے گا۔ ان ارکان کی مسلسل غیرحاضری کی پران کی املاک ضبط کی جائیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹیوں کے سربرہان نے اس طرح کے کسی بھی انتقامی سیاسی حربے کے نتائج سے خبر دارکرتے ہوئے کہا کہ ہے ارکان پارلیمان کے ٹرائل اور انہیں حاصل آئینی تحفظ ختم کرنے سے حوثی باغیوں کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔ اس طرح کے اقدامات سے پارلیمنٹ تقسیم ہوجائے گی اور ملک میںجاری بحران کے حل کے لیے کوششیں اور بھی مشکلات کا شکار ہوںگی۔