پاکستان ‘ ترکی‘ سعودیہ اور ایران کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا‘ لیاقت بلوچ

204

لاہور( نمائندہ جسارت ) قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ عالم اسلام کے مسائل حل کرنے کے لیے پاکستان، ترکی ، سعودی عرب اور ایران کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا،کشمیر، فلسطین اور افغانستان پوری امت کے مشترکہ مسائل ہیں، ان مسائل کو حل کیے بغیر عالم ا سلام اور پوری دنیا میں امن ممکن نہیں،محلاتی سازشوں اور کرپٹ مافیا کو چھوٹ دینے سے حالات خراب ہی رہیں گے،جماعت اسلامی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں ، ظلم کرنے والوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی جدوجہد میں مظلوموں کے ساتھ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں مرکزی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن سیاسی تاریخ کا بڑا المیہ ہے۔ یہ ظلم اور جبر کی انتہا ہے کہ طویل مدت گزرنے کے باوجود ریاستی دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات و عدالتی فیصلہ نہیں ہوسکا ۔ وفاقی اور پنجاب حکومت نے حالات کو خود خراب کیا اور احتجاج کو آخری حد تک لے جانے کی ذمے دار نااہل حکومت ہے ۔ جماعت اسلامی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کے ساتھ اور قاتلوں ، ظلم کرنے والوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی جدوجہد میں ساتھ ہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت پر حملے کے بعد عوامی بیداری کے سامنے حکومت پسپا ہوگئی ۔ تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی کی سازشیں شروع ہوچکی ہیں۔ اسلامی قوانین کی حفاظت کے لیے عقیدہ ختم نبوت کے قوانین پر ڈاکا ڈالنے والے مجرموں کو انجام تک پہنچانا ناگزیر ہے ۔ حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان مسلم اور غیر مسلم ووٹر لسٹوں کے حوالے سے ابہام دور کرے ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ کشمیر، فلسطین اور افغانستان پوری امت کے مشترکہ مسائل ہیں ۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر عالم ا سلام اور پوری دنیا میں امن ممکن نہیں ۔ قبلہ اول بیت المقدس پر امریکی صدر ٹرمپ کو آلہ کار بنا کر اسرائیلی صہیونیت نے خوفناک وار کیالیکن پوری دنیا نے طویل مدت بعد اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جرأت مندی کا ثبوت دیا اور صہیونی سازش ناکام ہوگئی ۔ عالم اسلام کے مسائل حل کرنے کے لیے پاکستان، ترکی ، سعودی عرب اور ایران کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا ۔ ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہاکہ آئین ، عدلیہ اور جمہوریت کی بالادستی ہر کوئی قبول کرے ۔ محلاتی سازشیں ، کرپٹ مافیا کو چھوٹ دینے سے حالات خراب ہی رہیں گے ۔ احتساب کا عمل کرپٹ مافیا کے سامنے ڈھیر نہ کیا جائے ۔