حالات جیسے بھی ہوں

161

سیاست میں نام پیدا کرنا ہے تو حالات جیسے بھی وطن میں رہنا ضروری ہے، سیاست اللہ کے نظام کی سر بلندی کے لیے کرنا ہو تو سید مودودی کی طرح کال کوٹھری میں بھی استقامت دکھانا پڑتی ہے، آج کے دور میں ہمارے سامنے تین سیاست دان ہیں، ایک نواز شریف، دوسرے آصف علی زرداری اور تیسرے عمران خان، یہ تینوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ایک دوسرے نیچا دکھانے کے لیے ہر دم تیار رہتے ہیں لیکن عمران خان کیوں ان دونوں پر حاوی ہیں، وجہ یہ کہ نواز شریف نے جیل میں رہنا مشکل سمجھا اور مفاہمت کی چادر اوڑھ کر لندن چلے گئے، آصف علی زرداری ملک میں تو رہے مگر سندھ میں اپنی حکومت کے ذریعے عوام کو ریلیف نہ دے سکے، نتیجہ کیا نکلا؟ عمران کے مقابلے میں ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کے تمام امیدوار ہار گئے، اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی کو دھول چٹا دی، وجہ کیا تھی؟ وجہ یہی تھی کہ حافظ نعیم الرحمن کھڑے رہے، ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور بھاگے نہ بھاگنے دیا، اور پھر نتیجہ بھی اللہ نے ان کے حق میں دیا، اب سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال گردش کررہا ہے کہ ملک میں آگے کیا ہونے والا ہے؟ ملک میں وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا اور اللہ اپنی مخلوق کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ ہے، اسٹیبلشمنٹ جسے مرضی پلانٹ کرے یا نہ کرے، ملک میں جب بھی عام یا صوبائی انتخابات ہوں گے، انہیں روکا جائے گا یا مزاحمت کی جائے گی، اس کی وجہ سیاسی حالات ہیں، اگر اسمبلی کی تحلیل کے فیصلے دیکھے جائیں تو نفسیاتی اثرات زیادہ نظر آتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ عمران خان اپنی نئی حکمت ِ عملی بنانے کے بجائے حکومت کو اپنے فیصلے پر ردِعمل دینے پر مجبور کررہے ہیں وزیر ِاعلیٰ پرویز الٰہی کہتے نظر آئے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ قبل ازوقت انتخابات کے حق میں نہیں ہے، پی ٹی آئی کی صوبائی اسمبلی کے ارکان بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان پر دبائو ڈالا جارہا تھا کہ وہ وزیر ِاعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ نہ دیں۔ فون کالز کے دعوے، 4 سال قبل مسلم لیگ (ن) بھی اسٹیبلشمنٹ پر اسی طرح کے الزامات لگاتی نظر آتی تھی، عام خیال یہ ہے کہ عمران خان مزاحمت اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور کامیاب ہوگئے، اب وہ اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر خود ہی کھڑے ہوں گے، لیکن اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ مسلم لیگ (ن) جوابی وار کرتی ہے تو سب سے بڑا چیلنج ان کے اندرونی اختلافات ہیں ان کی مرکزی قیادت بھی منظر سے غائب ہے شہباز شریف کے پاس اپنی جماعت کو دینے کے لیے وقت نہیں ہے، اور اگر باقی خاندان کی بات کی جائے تو وہ نالاں نظر آرہے ہیں۔ حمزہ شہباز بھی ناراض ہیں ناراضی کی وجہ مریم نواز ہوسکتی ہیں۔ ضمنی انتخابات میں پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت کارکنوں کی رہنمائی کے لیے میسر نہیں، پنجاب میں تحریک ِ عدم اعتماد کوعطا تارڑ اور رانا ثنااللہ نے سنبھالا اور نتیجہ بھی دیکھ لیا، آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے لیے صرف مریم نواز کی وطن واپسی کافی نہیں ہے، شریف خاندان کو سیاسی محاذ پر متحد ہونا پڑے گا ورنہ مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ معیشت تیسرا عنصر ہے جو آنے والے انتخابات میں اہم ہوگا۔
سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے وقت اسحاق ڈار نے پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا تو یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آیا مگر پیپلزپارٹی کو اس کے باوجود فائدہ نہیں ہوا اس کے ووٹر ڈالر کی طرح غائب رہے، اب پنجاب میں ہونے والے انتخابات پر بات کرلی جائے، مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام اور اس کے نتیجے میں مہنگائی میں ہونے والے اضافہ روکا جائے مگر کیسے؟ آئی ایم ایف پروگرام نہ ملا تو مسلم لیگ (ن) اپنی مدت میں توسیع تو کیا ماندہ مدت بھی پوری نہیں کرسکے گی وہ چاہتی ہے کہ جلد از جلد آئی ایم ایف پروگرام کو حتمی شکل دے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر مسلم لیگ (ن) انتخابات میں کامیاب نہیں ہوسکتی اسحاق ڈار چاہ رہے ہیں کہ عوام پر بوجھ نہ ڈالے، تاہم آئی ایم ایف کو تو اپنے مفاد عزیز ہیں۔