بھارت میں سوگ، مقبوضہ کشمیر میں جشن

468

پاکستان میں کئی ماہ کی سیاسی کشیدگی اور کھینچا تانی کے بعد بالآخر نئے آرمی چیف کا تقرر عمل میں آگیا اور پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ آرمی چیف کے تقرر کے اداراتی عمل کو عوامی جلسوں میں زیر بحث لانے اور اسے ممکنہ طور پر متنازع بنانے والے صرف عمران خان تھے۔ وہ اس موضوع پر بار بار اپنا موقف بدلتے رہے، پہلے وہ اس بات پر ڈٹے رہے کہ وہ چوروں کو آرمی چیف مقرر کرنے کا حق نہیں دے سکتے۔ ’’چوروں‘‘ سے ان کی مراد شریف برادران تھے۔ نواز شریف لندن میں بیٹھے تھے اور برادر خورد شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز اسلام آباد میں براجمان تھے۔ وہ آئینی طور پر آرمی چیف کے تقرر کا پورا اختیار رکھتے تھے لیکن انہیں اس مسئلے پر مشاورت کے لیے بارہا لندن کی یاترا کرنا پڑ رہی تھی جس پر عمران خان بجا طور پر برہم تھے اور بیانات کے ذریعے سیاسی اشتعال پیدا کرنے میں مصروف تھے۔ پھر انہوں نے یہ مطالبہ شروع کردیا کہ آرمی چیف کا تقرر میرٹ پر ہونا چاہیے۔ شاید ان کا خیال تھا کہ جو کچھ ہونے جارہا ہے اس میں میرٹ کا خیال نہیں رکھا جائے گااور وہ ایک اصولی موقف اختیار کر کے فضا ہموار کرسکیں گے۔ انہوں نے آرمی چیف کے تقرر کے باضابطہ اعلان سے ایک دن پہلے بھی یہ کہا کہ صدر عارف علوی میری پارٹی کے آدمی ہیں اور میں پارٹی کا سربراہ ہوں۔ صدر علوی سمری پر دستخط کرنے سے پہلے مجھ سے ضرور مشورہ کریں گے، پھر ہم آئین کے مطابق کھیلیں گے، لیکن خان صاحب کا کھیل دھرے کا دھرا رہ گیا۔ جو اعلان آیا وہ میرٹ کے عین مطابق تھا۔ صدر علوی نے اپنی پارٹی کے چیئرمین سے مشاورت ضرور کی لیکن اس کا کوئی منفی نتیجہ سامنے نہیں آیا اور صدر نے مشاورت کے بعد سینئر موسٹ جرنیل سید عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرر کی فوری منظوری دے دی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت پاکستان کے داخلی معاملات میں غیر معمولی دلچسپی لیتا ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عمران خان تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہو کر فوجی قیادت کو جارحانہ تنقید کا نشانہ بنارہے تھے تو بھارت میں خوشی کی لہر دوڑی ہوئی تھی اور اس کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ جو کام ہم اربوں روپے خرچ کرکے نہیں کرسکتے تھے وہ عمران خان نے گھر بیٹھے کر دکھایا ہے۔ پاکستانی فوج کو بدنام کرنا اور اسے ایک بدمعاش فوج (Rogue Army) قرار دینا بھارت کا اولین مشن ہے۔ عمران خان جس طرح گھر کی لڑائی کو چوراہے پر لائے اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی سُبکی ہوئی اور بھارت میں جشن منایا گیا۔ نئے آرمی چیف کے تقرر کے معاملے پر عمران خان نے جو تنازع پیدا کیا تھا اس کے پیش نظر بھارت کو توقع تھی کہ جب بھی نئے آرمی چیف کے تقرر کا اعلان ہوا عمران خان ضرور پھڈا ڈالیں گے اور دنیا میں پاکستان کا تماشا بن جائے گا لیکن یہ کام جتنی خاموشی اور خوش اسلوبی سے ہوا اس سے یقینا بھارت کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ اس نے دل کی بھڑاس اس طرح نکالی کہ جنرل عاصم منیر کے حافظ قرآن ہونے کے سبب انہیں ’’ملا‘‘ قرار دے دیا۔ جنرل عاصم منیر اپنے مذہبی پس منظر کی وجہ سے کس حد تک دین دار تو ہوسکتے ہیں لیکن انہیں مولوی یا ملا نہیں کہا جاسکتا۔ جنرل عاصم منیر کا مذہبی پس منظر بھی بھارت کے لیے سوگ کا باعث ہے۔
دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے پاکستان میں نئے آرمی چیف کے تقرر پر جشن منایا ہے۔ جونہی مقبوضہ کشمیر میں یہ اطلاع پہنچی سڑکوں پر خیر مقدمی بینرز لگ گئے اور نئے آرمی چیف کی تصویروں کے بڑے بڑے پوسٹرز دیواروں کی زینت بن گئے۔ اصل میں کشمیری عوام پاکستانی فوج کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تو ایک مدت ہوئی حالات کی گرد میں گم ہوگیا ہے۔ بھارت کسی سیاسی حل کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں وہ اپنی فوجی طاقت کے ذریعے اس مسئلے کو حتمی طور پر حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس کا جواب بھی فوجی طاقت کے ذریعے ہی دیا جاسکتا ہے۔ کشمیری عوام پاکستانی فوج سے غیر معمولی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صرف پاکستانی فوج ہی انہیں بھارت کی غلامی سے نجات دلا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کی فوجی قیادت کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ تین سال پہلے جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے اپنے اندر ضم کرنے کا غیر اخلاقی اور غیر قانونی قدم اُٹھایا تھا تو سید علی گیلانی نے جو اُس وقت بقید حیات تھے پاکستان سے فوری مداخلت کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان کے بس میں جو کچھ بھی ممکن ہے وہ کشمیریوں کو بچانے کے لیے کر گزرے، ان کا واضح اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں فوجی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے اہم فریق کی حیثیت سے مقبوضہ کشمیر میں فوجی مداخلت کا پورا حق رکھتا تھا، یہ مداخلت اس اعتبار سے بھی بالکل جائز تھی کہ خود کشمیری قوم اسے مدد کے لیے پکار رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس وقت کی فوجی قیادت نے گیلانی صاحب کے پیغام کا بالکل صحیح مطلب اخذ کیا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی حفاظت کے لیے آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑیں گے۔ اس بیان کا نشر ہونا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سڑکوں پر ’’پاک فوج خوش آمدید‘‘ کے بینرز لگ گئے اور دیواریں پاکستانی جرنیلوں کی تصویروں سے جگمگانے لگیں۔ لیکن یہ ایک منافقانہ بیان تھا جس کی حیثیت محض طفل تسلی سے زیادہ نہ تھی۔
پاکستانی فوج نے کشمیریوں کے حق میں آخری گولی کیا پہلی گولی بھی نہیں چلائی بلکہ اس کے برعکس آرمی چیف جنرل باجوہ نے یہ بھاشن دیا کہ ہمیں جنگ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ بلاشبہ جنگ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ یہ تباہی و بربادی اور خونریزی کی علامت ہے لیکن غیور قومیں اپنی بقا اور سلامتی کے لیے جنگ کا آپشن اختیار کرنے پر بھی مجبور ہوجاتی ہیں۔ پاکستان کو بھارت جیسے کینہ پرور دشمن کا سامنا ہے جو پہلے ہی اسے دولخت کرچکا ہے اور باقی ماندہ پاکستان کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔ اس کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت ہی میں پاکستان کی بقا ہے۔ کشمیر کو بھارت کے ناجائز قبضے سے چھڑانا بھی پاکستان کا اولین ہدف ہوجانا چاہیے جسے ہم تقریباً بھول چکے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایکشن پلان تیار کرنا تو خیر حکومت وقت کی ذمے داری ہے لیکن آرمی چیف کی حیثیت سے جنرل عاصم منیر بھی اس سے مبرا نہیں۔ ماضی میں کشمیر کے حوالے سے فوجی قیادت نے بڑی غلطیاں کی ہیں لیکن اب مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ کشمیری عوام پاکستانی حکومتوں کے بجائے پاکستانی فوج کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور اسے ان کی امیدوں پر پورا اترنا چاہیے۔