اور جب آدھی رات کو بھٹو مولانا مودودی سے ملنے آئے

427

1977 کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے نتیجے میں نو جماعتوں کا اکٹھ پاکستان قومی اتحاد دوبارہ الیکشن کرانے کے سلسلے میں بھٹو صاحب کے خلاف تحریک چلارہا تھا پاکستان قومی اتحاد کے صدر مولانا مفتی محمود اور رفیق باجوہ جنرل سیکرٹری تھے تحریک اپنے عروج پر تھی روزآنہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں مقامی لیڈروں کی قیادت میں جلوس نکل رہے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو بڑی باریک بینی سے تحریک کا جائزہ لے رہے تھے۔ وہ اپنی ضد پر اڑے ہوئے تھے کہ انتخابات ٹھیک ہوئے ہیں اور دوبارہ انتخاب کا کوئی جواز نہیں ہے بھٹو صاحب نے پی این اے کے اندر پھوٹ ڈالنے اور بد اعتمادی کا ماحول پیدا کرنے کے سلسلے میں ایک چال چلی، انہوں نے کسی نہ کسی طریقے سے رفیق باجوہ کو پیغام بھیجا کہ کچھ ضروری تجاویز پر تبادلہ خیال کرنا ہے آپ رات کو مجھ سے اسلام آباد میں ملاقات کرلیں۔ اس میں شک نہیں کہ رفیق باجوہ مخلص آدمی تھے نئے نئے سیاست میں داخل ہوئے تھے جمعیت علمائے پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی اور مولانا شاہ احمد نورانی نے انہیں اپنی پارٹی کا نائب صدر بنایا ہوا تھا، جب پی این اے کی تشکیل ہوئی تو انہیں پی این اے کا جنرل سیکرٹری بنادیا گیا۔ وہ بھٹو کی چال کو نہ سمجھ سکے۔
بھٹو نے جب ملنے کا پیغام بھیجا تو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہوگی ہماری یہ ون ٹو ون ملاقات ہوگی جو خفیہ ہوگی اور اس کا کسی کو پتا بھی نہیں چل سکے گا، چنانچہ ایک رات کو سرکاری ہوائی جہاز پر رفیق باجوہ نے اسلام آباد میں بھٹو سے ملاقات کی اور اس کی خبر فوراً ہی باہر آگئی اور پورے ملک ہی نہیں آناً فاناً پوری دنیا میں پھیل گئی جس صبح یہ ملاقات کی خبر لیک آئوٹ ہوئی اسی دن شام کو پاکستان قومی اتحاد نے اپنا ہنگامی اجلاس بلایا اور اس میں فیصلہ ہوا کہ رفیق باجوہ کو جنرل سیکرٹری کے منصب سے معزول کردیا جائے اور ان کی جگہ جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور کو جنرل سیکرٹری بنایا جائے۔ اس کے بعد مولانا شاہ احمد نورانی نے رفیق باجوہ کو نہ صرف اپنی جماعت کی نائب صدارت سے علٰیحدہ کیا بلکہ پارٹی سے ان کی بنیادی رکنیت بھی ختم کردی۔ اسی دن بی بی سی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی این اے نے اتنا سخت ایکشن اس لیے لیا کہ عوام کے اندر کسی قسم کے شکوک و شبہات نہ پیدا ہوں اور ملک میں جو تحریک چل رہی ہے اس پر کوئی منفی اثرات نہ مرتب ہوں۔
پاکستان قومی اتحاد میں شگاف ڈالنے کے حوالے سے پہلی چال تو ناکام ہوگئی دوسر ی انہوں نے ایک اور چال چلی کہ اپنے سیکرٹری سے کہا کہ مجھے آج ہر صورت میں مولانا مودودی سے ملاقات کرنا ہے، سیکرٹری صاحب بہت پریشان ہوئے کہ رفیق باجوہ اور مولانا مودودی میں تو زمین آسمان کا فرق ہے مولانا تو کسی صورت میں اس ملاقات کے لیے تیار نہیں ہوں گے لیکن ان کے ذہن میں بھٹو کا خوف بھی تھا۔ ان کے ذہن میں ایک ترکیب آئی، پھر انہوں نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا جو اس وقت جماعت اسلامی صوبہ پنجاب کے جنرل سیکرٹری تھے، یہ بہت ذہین تیز اور وسیع رابطے والے آدمی تھے سیکرٹری صاحب نے ان سے خوشامد والے انداز میں بات کی کہ کسی طرح آج رات آپ مولانا سے ملاقات کے لیے وقت لے لیں، بہر حال بادل نہ خواستہ جماعت اسلامی پنجاب کے جنرل سیکرٹری نے ان سے وعدہ کرلیا۔ اب یہ مولانا سے ملنے اچھرہ گئے اور ملاقات میں مولانا سے بتایا کہ آج رات بھٹو صاحب آپ سے ملنے آرہے ہیں مولانا چونک گئے اور کہا آپ نے پہلے بتایا نہیں مجھے، انہوں نے کہا مولانا میں نے ان سے وعدہ کرلیا ہے۔ بہر حال یہ تھی تو بڑے غصے والی بات لیکن کسی عالم نے کہا ہے کہ مولانا مودودی کا حلم ان کے علم پر حاوی تھا، مولانا اچھا ٹھیک ہے کہہ کر خاموش ہو گئے۔
رات بارہ بجے کے آس پاس بھٹو صاحب مولانا سے ملنے آئے کچھ دیر گفتگو ہوئی پھر واپس چل گئے یہ خبر آناً فاناً شہر میں پھیل گئی اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان آگئے اور کچھ لوگ بھی آئے مولانا نے ان سے کہا کہ میں نے اخباری نمائندوں کو بلایا ہے اور بھٹو صاحب سے جو بات چیت ہوئی ہے وہ میں پریس میں بتادوں گا صحافی حضرات آئے مولانا نے پوری تفصیل ان کے سامنے رکھ دی چونکہ رات زیادہ ہو چکی تھی اس لیے یہ پریس کانفرنس دوسرے دن اخبار میں نہیں آسکی البتہ یہ خبر آگئی تھی بھٹو صاحب نے رات گئے مولانا مودودی ان کے گھر پر جا کر ملاقات کی ہے پورے ملک میں اس واقع پر بڑی کھلبلی مچ گئی اس ملاقات کی تفصیل اخبارات میں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے نہیں آسکی اس لیے کہ بھٹو نے پریس پر سخت پابندی عائد کی ہوئی تھی لیکن سینہ گزٹ اور جماعتی ذرائع سے مذاکرات کی جو باتیں سامنے آئیں اس کے کچھ اہم نکات جو یاد رہ گئے وہ بتا سکتے ہیں، لیکن اس سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس وقت تحریک کا مومنٹم کیا تھا پی این اے کے زیر انتظام جو جلسے وغیرہ ہو رہے تھے اس میں تو عوام یہ نعرہ لگا رہے تھے کہ گنجے کے سر پہ حل چلے گا آج نہیں تو کل چلے گا واضح رہے کہ حل پاکستان قومی اتحاد کا انتخابی نشان تھا لیکن پی این اے کے قائدین بھٹو سے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔ اور دوسری طرف بھٹو کسی صورت میں دوبارہ انتخاب کے لیے تیار نہیں ہورہے تھے وہ سرکاری طاقت سے جلسے جلوس کا مقابلہ کررہے تھے یہاں تک کے انہوں نے تین شہروں کراچی ملتان اور لاہور میں مارشل لا لگا دیا۔ اس گرما گرم ماحول میں بھٹو نے مولانا سے ملاقات کی مولانا نے بھٹو کو جو تجاویز دیں ان میں پہلی بات تو یہ تھی کہ آپ یہ رٹ لگانا چھوڑ دیں کہ انتخابات صاف و شفاف ہوئے ہیں آپ کو بہر حال دوبارہ انتخابات کے حوالے سے قومی اتحاد کے رہنمائوں سے مذاکرات کرنے ہوں گے اور مذاکرات کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے اب تک اس تحریک میں قومی اتحاد کے جتنے لوگ گرفتار ہوئے ہیں ان کو رہا کردیا جائے اور بھی کچھ تجاویز دی گئیں لیکن یہ دو اہم تھیں دوسری طرف مولانا نے پاکستان قومی اتحاد کے رہنمائوں کے بارے میں کہا وہ بھٹو سے استعفے مطالبہ نہ کریں بلکہ بھٹو سے مذاکرات کریں۔
مجھے یاد ہے قومی اتحاد کے رہنمائوں کی کہیں میٹنگ تھی اس میں نواب زادہ نصراللہ خان نے کسی صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا نے جو تجاویز دی ہیں وہ ان کی ذاتی رائے ہے قومی اتحاد کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اس بات پر جزبز تھے کہ مولانا نے یہ کیوں کہا کہ پاکستان قومی اتحاد بھٹو سے استعفے کا مطالبہ نہ کرے اور ان سے مذاکرات کرے دوسرے دن مولانا کا بھی یہ بیان آیا کہ میں نے بھٹو کو جو تجایزدی ہیں وہ میری ذاتی رائے ہے اس سے قومی اتحاد کا کوئی تعلق نہیں ہے اور ویسے بھی حکومت نے میری تجاویز کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اسے رد کردیا ہے دوسرے دن حکومت کی طرف سے یہ جواب آیا کہ حکومت نے مولانا مودودی کی تجاویز کو رد نہیں کیا چونکہ ان تجاویز کے دور رس اثرات ہیں لہٰذا ان پر غور کیا جارہا ہے۔ پھر کچھ با اثر شخصیات بالخصوص سعودی عرب کے سفیر کی کوششوں سے یہ ہوا کہ اس وقت کے پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری طاہر محمد خان کا یہ بیان آیا کہ حکومت قومی اتحاد کے دوسرے انتخابات کے مطالبے پر غور کرسکتی ہے ریڈیو سے یہ بیان سن کر ہمیں حیرت اور خوشی ہوئی کہ چلو کچھ برف پگھل رہی ہے پھر کچھ دن بعد ہم نے دیکھا کہ قومی اتحاد کے لوگ استعفے کے مطالبے سے دستبردار ہو کر بھٹو سے مذاکرات کررہے ہیں اور دوسری طرف بھٹو بھی نئے الیکشن پر آمادہ ہیں یہی بات تو مولانا مودودی نے تھوڑے دن پہلے کہا تھا جس کا سب لوگوں نے برا منایا تھا۔ یہ تاریخی واقعہ میں نے اس لیے لکھا ہے کہ کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی دونوں سیاسی قوتیں یہ سمجھ لیں کہ مذاکرات ہی سے مسائل خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں جس طرح عمران خان آرمی چیف کے مسئلے پر دستبردار ہوگئے تھے اسی طرح پی ڈی ایم بھی قبل از وقت انتخاب پر مذاکرات پر آمادہ ہو جائے۔