تعلیمی اداروں میں موسیقی کیلیے اساتذہ کی بھرتی قابل مذمت ہے، حسین محنتی

187
fair elections

کراچی: جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے سندھ حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں رقص و موسیقی کی اجازت اور طلبا کو موسیقی کی تربیت دینے کے لیے 1500 اساتذہ بھرتی کرنے کے اعلان کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے حکومتی عمل کو اسلام اور آئین پاکستان سے بغاوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ سندھ کے ہزاروں تعلیمی اداروں کی تباہ صورتحال، تعلیمی اداروں میں رشوت کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی ،ہزاروں اسکولوں کی بندش، عمارتوں کی خستہ حالی اور بچوں کے لیے صاف پانی، بجلی،واش رومز کی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے تعلیمی اداروں میں رقص و موسیقی کی محفلیں کروانے کی فکر پڑ گئی۔معصوم بچے درختوں کی چھاؤں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔

محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ کچھ پرائیویٹ تعلیمی ادارے پہلے ہی اسلامی اور اخلاقی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں اور رقص و موسیقی اور دیگر مخرب اخلاق پروگرامات کے ذریعے طلبہ کا کردار تباہ کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف تعلیمی فیسوں کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس کیخلاف سندھ حکومت توجہ دلانے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتی لیکن نسل نو کو مغربی تہذیب اور تعلیمی اداروں میں بے حیائی کو فروغ دینے کے لیے فوری طور پر موسیقی کلاسز شروع کرنے کے لیے گانا بجانا اور ڈانس سکھانے کے لیے 1500 اساتذہ کو بھرتی کیا جارہا ہے جو ملک اور قوم کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبا آڈیٹوریم میں جماعت اسلامی شعبہ تعلیم کے اعلیٰ سطح کے  اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر شعبہ تعلیم سندھ کے ڈائریکٹر محمد عظیم ، اسلامی نظامت تعلیم کے سابق صدر پروفیسر اسحاق منصوری، انتصار غوری سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم کو اپنے قائد ذولفقار علی بھٹو کے دیئے ہوئے آئین کاہی بھرم رکھنا چاہیے تھا،جس میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہ بنانے اور عوام کو اسلامی نظام زندگی کے لیے ماحول مہیا کر نے کی ضمانت دی گئی ہے۔

امیر جماعت اسلامی سندھ نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں موسیقی اور ناچ کی کلاسز کا آغاز کرنے سے معاشرہ تباہ اور نوجوان نسل میں بے راہ روی کا چلن عام ہوجائے گا، سندھ حکومت کے اس عوام دشمن اور اسلام دشمن فیصلے کو واپس لینے کے لیے جماعت اسلامی کا شعبہ تعلیم دیگر تنظیموں سے ملک کر موثر لائحہ عمل ترتیب سے احتجاجی تحریک چلائے گی۔سندھ حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے فی الفور اس متنازعہ فیصلے کو واپس لے۔

شعبہ تعلیم سندھ کے ڈائریکٹر محمد عظیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم دینے والے مقدس اداروں میں بے راہ روی کی تربیت ایک شرمناک عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، یہ نظریاتی جنگ ہے جس میں قوم کی نسل کے اذہان اور روح کو چھلنی کیا جارہا ہے۔ حکومت سرکاری تعلیمی اداروں میں ایسی تقریبات کے انعقاد پر قدغن لگانے کے بجائے خود سرکاری سطح پر تعلیمی اداروں میں موسیقی کو نصاب کا حصہ اور موسیقی کے اساتذہ کا تقرر کررہی ہے جو ریاست پاکستان کی بنیادی مقصد سے انحراف اور آئین پاکستان کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایسے بیہودہ اور دین دشمن اقدامات کیخلاف ہر سطح پر احتجاج اور فیصلہ واپس لینے کیلئے اقدامات اٹھائے گی۔اس سلسلے میں اتوار27نومبر کو جماعت اسلامی شعبہ تعلیم کے تحت سہ پہر 3بجے پریس کانفرنس میں آئندہ کا لائحہ عمل پیش کریں گے۔اس دھرتی پر سید علی ہجویری ، سید عبدالقادر جیلانی، سید ابوالاعلیٰ مودودیکا پیغام یہی تھا کہ لوگو خالق کے ساتھ جڑ جاو، اگر دنیا اور آخرت کی کامیابی اور سرفرازی چاہتے ہو تو اللہ کی بندگی اورنبی کریم کی غلامی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔