جھوٹ بولتا نہیں سچ بول نہیں سکتا

276

ہمارے زمانے میں نویں دسویں کے انگلش کے پرچے میں کسی عنوان پر ایک مضمون کا لازمی سوال آتا تھا ہم لوگ پھر ایسی کوئی تحریر یا مضمون زبانی یاد کرتے تھے کہ یہ پانچ سے دس عنوانات (Topics) پر کام آجائے۔ جیسے ایک پکنک، کوئی یادگار واقعہ، گھڑسواری، کوئی حادثہ، ایک اچھا دوست اور اسی قسم اور عنوانات ہوتے تھے مرکزی مضمون ایک ہی ہوتا تھا جو یاد کرلیا جاتا تھا پھر ہر عنوان کے حوالے کچھ دو چار جملے الگ سے یاد کرتے تھے کہ جیسے اگر کوئی حادثے پر مضمون آئے تو یہ پیرا گراف اس جگہ پر اس میں جوڑ دینا ہے۔
ایک بادشاہ نے اپنے ایک ذہین وزیر سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی بات بتائو کہ اگر میں غم زدہ ہوں تو اس بات سے میرا غم ہلکا ہوجائے اور جب میں بہت خوش ہوں تو اس بات سے میری خوشی کچھ نارمل ہو جائے۔ وزیر صاحب آنکھ بند کرکے کچھ سوچتے رہے پھر انہوں نے بادشاہ سلامت سے کہا کہ مجھے دو دن کا وقت دیجیے۔ بادشاہ نے وقت دے دیا دودن بعد وزیر صاحب بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ بادشاہ سلامت بس آپ ایک جملہ یاد کرلیجیے اس سے جب آپ بہت خوش ہوں گے اس جملے کو یاد کریں گے تو آپ کی خوشی نارمل ہو جائے گی اور جب آپ غمزدہ ہوں گے تو آپ کا غم ہلکا ہو جائے گا، اور وہ جملہ ہے ’’یہ وقت تو گزر جائے گا‘‘ بادشاہ نے یہ جملہ یاد کرلیا۔ اب اس کے بعد جب بھی بادشاہ کسی بات سے غمزدہ ہوتا تو یہ جملہ سامنے آتا اور اس کا غم ہلکا ہوجاتا کہ یہ عارضی مرحلہ ہے گزر ہی جائے گا اور اسی طرح جب وہ بہت خوش ہوتا یہ جملہ دہراتا اور پھر وہ فکر مند ہوجاتا کہ یہ خوشی بھی عارضی ہے اس لیے احتیاط سے کام لیا جائے۔
1981 میں ہم نے تنظیم نوجوانان لیاقت آباد کی طرف سے 12ربیع الاول کو لیاقت آباد میں نیرنگ سنیما کے پاس ایک سیرت نمائش کا انعقاد کیا تھا جو تین دن تک چلی اور ہزاروں مرد و خواتین بچوں اور نوجوانوں نے دیکھا، اس نمائش میں ہم نے بچوں اور طالب علموں کی دلچسپی کے لیے ایک کوئیز بورڈ رکھا تھا، اس کی بناوٹ کچھ اس طرح تھی کہ 4بائی 4فٹ لکڑی کا کھانچہ بنایا اور اس میں 24خانے بنائے جیسے کہ کبوتروں کے کابک بنائے جاتے ہیں ہر خانے میں ایک بلب لگایا گیا اس کے پیچھے ہارڈ بورڈ کی شیٹ لگائی اور سامنے وائٹ پلاسٹک کی شیٹ لگائی ان تمام بلبوں کا کنکشن نیچے ساتھ ہی رکھے ایک بورڈ جس میں 24الیکٹرک بٹن لگائے گئے تھے ہر بٹن پر 1 سے 24تک نمبر لکھے ہوئے تھے، وائٹ شیٹ پر ہر خانے کے ایک جواب لکھا وہ بھی الٹے الفاظ میں تاکہ جب یہ بلب جلے تو سامنے کی طرف وہ لفظ سیدھا نظر آئے پھر ہر جواب کے دس بارہ سوالات کی پرچیاں بنائی گئیں جو ڈھائی تین سو بن گئیں ہر پرچی پر سوال کے ساتھ کہ اس نمبر کا بٹن دبائیں تو سامنے وائٹ شیٹ پر اس کا جواب آجائے گا مثلاً۔ ایک جواب تھا سیدنا عمرؓ اب ان کی ذات سے متعلق دس بارہ سوالات بنائے گئے جیسے کے دوسرے خلیفہ کا نام بتائیے یا وہ کون سے صحابی تھے جن کے لیے نبی اکرمؐ نے دعا مانگی تھی اس سوال کی پرچی پر نمبر 4لکھا ہوا ہے آپ 4نمبر کا سوئچ دبائیں گے تو سامنے سیدنا عمرؓ لکھا ہوا آجائے گا۔
اوپر کی تین مثالیں اس لیے دی گئیں ہیں کہ پچھلے دنوں مغربی پریس سے وابستہ ایک خاتون صحافی نے عمران خان سے کوئی سوال کیا جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جھوٹ بولتا نہیں اور سچ بول نہیں سکتا۔ میرے خیال سے یہ ایک ایسا ملٹی پرپز جواب ہے اور عمران خان کی طرف اٹھنے والے ہر سوال کا جواب اس جملے میں پوشیدہ ہے، مثلاً میں تو نہیں کررہا ہوں لیکن سوشل میڈیا پر اگر کوئی عمران خان سے پوچھے کہ آپ کے کتنے بچے ہیں تو یہ جواب بالکل فٹ بیٹھتا ہے، اسی طرح ہمارے ذہن میں شروع سے اب تک عمران خان کے حوالے سے بہت سارے سوالات ہیں ہم یہاں صرف سوالات لکھ رہے ہیں جواب تو ہیڈنگ میں دے دیا گیا ہے اور یہ سوالات کسی ترتیب سے نہیں ہیں جو ذہن میں آتے جائیں گے لکھتے رہیں گے۔ یہ بتائیے کہ آپ نے 2014 کا دھرنا کس کے کہنے پر دیا تھا؟ اس دھرنے کے دوران چین کے صدر شی پنگ کا دورہ شیڈول تھا آپ سے کہا گیا کہ صرف ڈی چوک خالی کردیں تاکہ چین کے سربراہ مملکت کا دورہ ہوجائے آپ نہیں مانے اور وہ دورہ جو پاکستان کی معیشت کے لیے منفعت بخش ثابت ہوتا آپ کی ضد کی وجہ سے منسوخ ہو گیا یہ بتائیے آپ نے ایسا کیوں کیا؟ اب جو 2022 میں آپ دھرنا دے رہے ہیں اس کی وجہ سے سعودی عرب کے شاہ سلمان کا دورہ ملتوی ہوگیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو شدید قسم کا معاشی دھچکا لگا پاکستان کے اس نقصان پر آپ خوش کیوں ہیں؟ آرمی چیف کی تعیناتی کو آپ نے متنازع کیوں بنایا؟ جس جرمن خاتون صحافی نے آپ کا انٹرویو کیا تھا اس میں ایک سخت سوال آپ سے کیا گیا تھا اس انٹرویو کے بعد جرمن خاتون کا بیان آیا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں، کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ دھمکیاں کون لوگ کیوں دے رہے ہیں؟
پچھلے دنوں وال اسٹریٹ جرنل جو پورے یورپ میں عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس میں ایک مضمون شائع ہوا ہے اس مضمون میں آپ کے لانگ مارچ کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے اس نے لکھا ہے کہ پاکستان کی فوج بکھرے گی تو پاکستان بھی بکھر جائے گا اس نے ایک سوال اٹھایا ہے جو ہمارا بھی سوال ہے کہ فوج کی تذلیل کرکے آپ کس کا ایجنڈا مکمل کررہے ہیں؟ آرمی چیف باجوہ صاحب کی ایکسٹنشن کے لیے آپ نے قانون میں ترمیم کی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل کی پھر اب ان کی مخالفت کیوں کررہے ہیں؟ آپ کی سوشل میڈیا ٹیم شروع ہی سے فعال اور متحرک رہی ہے آپ پر کوئی صحافی یا سیاسی رہنما تنقید کرتا تو آپ کی یہ ٹیم اس فرد کے لتے لے لیتے اس میں معیار سے گری زبان حتی ٰ کے بعض دفعہ گالیوں سے جواب دیا جاتا آپ نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو اتنی چھوٹ کیوں دی ہوئی تھی؟ اب آپ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا ٹیم ایک بے قابو جن ہے اس ٹیم کو بے قابو جن کس نے بنایا؟ سعودی عرب کے شاہ سلمان نے جو قیمتی گھڑی آپ کو تحفے میں دی تھی آپ توشہ خانے سے قانونی طور پر اسے لے سکتے ہیں لیکن اخلاقی طور اس کے متوقع خسارے سے آپ یقینا واقف تو ہوں گے آپ نے ایسا کیوں کیا آپ کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟
آپ کے زمانے کے وزیر خزانہ شوکت ترین کی جو آڈیو پکڑی گئی کہ جس میں وہ پنجاب اور کے پی کے، کے وزرائے خزانہ کو آئی ایم ایف کے حوالے ایسی ہدایات دے رہے تھے جس سے پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف سے ملنے والا ریلیف خطرے میں پڑجاتا کیا شوکت ترین نے اتنا بڑا قدم آپ کو بتائے بغیر اٹھا لیا؟ آپ کی پارٹی کی طرف سے نکلنے والا لانگ مارچ اب بے اثر اور بے دم ہوتا جارہا ہے ان میں جو لوگ شریک ہورہے ہیں ایک خبر شائع ہوئی کہ انہیں واپسی پر 2000 روپے فی کس کے حساب سے دیے گئے کیا اب لانگ مارچ میں لوگوں کو پیسے دے کر لایا جارہا ہے؟ عمران خان سوالات تو ویسے بہت سارے ہیں آخری ایک سوال یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ آئندہ الیکشن کے حوالے سے کچھ کچھ ذہنی طور پر تیار نظر آتے ہیں کہ اگست 2023 میں ہی انتخاب میں حصہ لیا جائے اور آپ یہ بیان بھی دے چکے ہیں کہ ہم دس ماہ تک انتظار کرسکتے ہیں، لہٰذا ایک آخری سوال یہ ہے کہ آپ کی پارٹی ایک عوامی پارٹی بن چکی ہے تو یہ بتائیے کہ آپ انٹرا پارٹی الیکشن کب کروا رہے ہیں؟