اپریل تک پیٹرولیم لیوی 50 روپے فی لیٹرتک جائے گی، سیکریٹری پیٹرولیم

208
Petrol prices

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم میں سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ اپریل تک پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے فی لیٹرتک لے جایا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین اوگرا نے بریفنگ میں بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن2010 سے شروع ہوئی۔

 پہلے مرحلے میں فرنس آئل پھر2016 میں ایچ اوبی سی کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا، اب پیٹرول اور ڈیزل کی ڈی ریگولیشن کیلئے کام شروع کردیا ہے۔ سینیٹر محسن عزیز کا کہنا تھاکہ پاکستان میں صارفین کے تحفظ کیلئے کوئی ادارہ نہیں، ڈی ریگولیشن سے کمپنیوں کو لوٹ مارکی اجازت مل جائے گی، میں ڈی ریگولیشن کا مخالف ہوں۔

 اس پرچیئرمین اوگرا کا کہنا تھاکہ ڈی ریگولیشن لفظ سے ابہام ہوتا ہے کہ حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا، پیٹرولم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نظام مکمل شفاف ہے۔ ان کا مزید کہناتھاکہ پیٹرول پر لیوی 37روہے42 پیسے فی لیٹر ہے،  ڈیزل پر لیوی سات روپے 58پیسے فی لیٹر ہے۔

 پیٹرولیم کے درجن سے زائد قسم کے معیار ہیں اور ان کے حساب سے ریٹ مقرر ہوتا ہے۔ سیکرٹری پیٹرولیم کا کہنا تھاکہ پٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لگانے کا فی الحال کوئی پلان نہیں، پیٹرولیم مارکیٹ میں سرکاری کمپنی پی ایس او کا 55 فیصد شیئر ہے اور حکومتی کمپنی کا اتنا زیادہ مارکیٹ شیئر کسی قسم کا گٹھ جوڑ روکنے کیلئے کافی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ اپریل تک پیٹرولیم لیوی کو50 روپے فی لیٹرتک لے جایا جائے گا، حکومت کا فی الحال پیٹرولیم مصنوعات پرجی ایس ٹی لگانے کا ارادہ نہیں۔ کمیٹی نے سوئی میں مقامی لوگوں نوکریاں فراہم کرنے کیلئے ذیلی کمیٹی قائم کردی۔