پھر ’’ڈو مور‘‘ کی گردان

99

امریکا کی طرف سے ایک بار پھر ’’ڈو مور‘‘ کی گردان شروع ہوگئی ہے کہ ’’پاکستان تمام دہشت گردوں کے خلاف مسلسل اور موثر کارروائی کرے‘‘۔ یہ وہی امریکا ہے جو افغانستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے داخل ہوا تھا لیکن دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت جس کے ساتھ دنیا 40 سے زیادہ ممالک کی تمام بڑی بڑی فوجی قوتیں تھیں جدید ترین ٹیکنالوجی تھی، افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے میں ناکام رہی، بجائے اس کے کہ امریکی اپنی حکمت عملی کا جائزہ لیتے کہ کہاں کمزوری ہے؟ کیا غلطی ہوئی ہے۔ لیکن امریکی اس قدر بوکھلائے ہوئے تھے انہوں نے اپنی تمام تر ناکامی کا الزام پاکستان پر لگادیا۔ کیونکہ بھارت ان کو یہی سبق پڑھا رہا تھا۔ جبکہ پاکستان نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو کمک کی فراہمی کے لیے راستہ بھی فراہم کیا اور اس جنگ میں اپنی اقتصادیات کو داؤ پر لگاتے ہوئے 100 ارب ڈالر سالانہ نقصان بھی برداشت کیا، لیکن اس کے باوجود کہ امریکا نے پاکستان کا یہ نقصان نہیں پورا کیا۔ بلکہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر جو رقم پاکستان کو دی جانی تھی وہ بھی بار بار روکی گئی۔ بلکہ پاکستان کے ادائیگی کے مطالبے پر امریکا نے جنوری 2018 میں پاکستان سے سیکورٹی تعاون کی معطلی کا اعلان کردیا اور کولیشن سپورٹ فنڈ کا جو ادھار امریکا پر قرض تھا وہ بھی نہیں ادا کیا۔ یہ رقم 30 کروڑ ڈالر تھی جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر تھا۔ پاکستان کے ساتھ سیکورٹی تعاون کی معطلی کے باوجود ترجمان پنٹاگون نے کہا تھا کہ ’’پاکستان پر حقانی گروپ سمیت تمام دہشت گرد گروپوں کے خلا ف بلا امتیاز کارروائی کے لیے دباو ڈالتے رہیں گے۔ طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے یا گرفتار کرکے بے دخلی کے لیے بھی پاکستان پر دباؤ ڈالتے رہیں گے‘‘۔ پھر کیا ہوا کہ انہی طالبان کے سامنے امریکا نے ہتھیار ڈال دیے اور اچانک راتوں رات افغانستان سے امریکی پرواز کرگئے اور اپنے حامیوں کو افغانستان میں بے یارو مدد گار چھوڑ گئے۔
آج ستمبر 2022 میں امریکا کی جانب سے ایک بار پھر یہ مطالبہ سامنے آگیا کہ پاکستان دہشت گردوں کے ہر گروپ کے خلاف موثر اور مسلسل کارروائی کرے۔ چند دن پہلے یعنی منگل کو امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ واشنگٹن توقع کرتا ہے کہ اسلام آباد تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف ’’مستقل کارروائی‘‘ کرے گا۔ پاکستان امریکا کے ساتھ اس مجوزہ فوجی سودے جس کی لاگت 450 ملین ڈالر ہے کہ امریکا پاکستان میں ایف سولہ لڑاکا طیاروں مرمت اور دیکھ بھال کا انتظام کرسکے، لیکن امریکا اس کے ساتھ یہ شرط عائد کررہا ہے پاکستان یہ طیارے ’’دہشت گردوں‘‘ کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کرے گا۔ یہ امریکی امداد نہیں ہے پاکستان کی جانب سے سودا ہے لیکن امریکا کا طنطنہ تو دیکھیے کہ سودے کے ساتھ بھی اپنی شرائط عائد کررہا ہے۔ منگل کو پریس بریفنگ کے دوران نیڈپرائس نے کہا کہ ’’پاکستان کا F-16 پروگرام، یہ امریکا اور پاکستان کے وسیع تر دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے، اور یہ مجوزہ فروخت F-16 کے بیڑے کو قائم رکھتے ہوئے پاکستان کی موجودہ اور مستقبل کے انسداد دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو برقرار رکھے گی‘‘۔ یہ بات قابل تشویش ہے کہ امریکا پاکستان کے حوالے سے مستقبل میں دہشت گردی کی پیش گوئی کررہا ہے پاکستان تقریباً 4 دہائیوں سے امریکا کی وجہ سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ پہلے سوویت یونین کے ساتھ افغان جہاد میں پاکستان میں دہشت گردی ہوتی رہی اوراس کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کے اثرات پاکستان پر پڑتے رہے کہ اس عرصے میں نائن الیون کا واقعہ پیش آگیا جس کا الزام لگا تو اسامہ بن لادن پر لیکن امریکا کا غصہ ’’نزلہ بر عضو ضعیف‘‘ کے مترادف پاکستان اور افغانستان پر گرا۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ 1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے اور اپنی قوت کا اظہار کیا تھا۔ دنیا کو خاص طور پر امریکا کو پاکستان کی یہ کامیابی ہضم نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے پاکستان کو ایسے معاملات میں الجھانا ضروری تھا جہاں اس کی سیکورٹی کو خطرات لاحق ہوں۔ سوویت یونین کے خاتمے کے لیے جن جہادی گروپوں کو امریکا نے ڈالروں سے سینچا تھا وہ اب اس کے لیے کسی کام کے نہیں رہے تھے امریکا نے انہیں دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ امریکا کے دانشورسیموئیل پی ہٹنگٹن نے ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ Clash of Civilizations کا نظریہ پیش کیا تھا اور انہیں نظر آیا کہ جہاد کے جس شیر کی دم کو کھینچ کر انہوں نے بیدار کیا تھا وہ کہیں انہی پر نہ جھپٹ پڑے۔ 1996 میں یہ نظریہ پیش کیا گیا اور 2001 سے تہذیبی تصادم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 2001 میں 11/9 کا پراسرار واقعہ پیش آیا یہ ابھی تک ایک معما ہے کہ محض جہازوں کے ٹکرانے سے وہ بلند و بالا عمارتیں زمیں بوس ہوگئیں اور پنٹاگون کا قلعہ بھی جہاز کے ٹکرانے تباہ ہوگیا۔ امریکا کی وہ تمام ٹیکنالوجی کہاں چلی گئی جو کسی بھی جہاز کو اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیتی ہے وہ اینٹی میزائل سسٹم کہاں گیا؟ اس واقعے کا قبل از وقت امریکی محکمہ دفاع کو کیوں علم نہیں ہوا؟ یہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ اتنی بڑی فوج اتنی جدید ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود امریکا دہشت گردی کے اس حملے کو نہیں ٹال سکا تو پاکستان سے یہ توقع کیوں کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرے۔ یہ امریکا کی جنگ میں اس کا ساتھ دینے کا ہی ثمر ہے کہ 2004 سے پاکستانی افواج اپنے ہی ملک میں دہشت گردوں سے برسر پیکار ہیں کبھی قبائلی علاقوں میں اور کبھی بلوچستان میں، لیکن یہ آگ ہے کہ بجھنے میں ہی نہیں آرہی ہے۔ اس لیے کہ امریکا کے اسٹرٹیجک اتحادی اس پر مسلسل تیل ڈالتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے ان کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن انہیں کبھی اس عمل سے باز رہنے کے لیے نہیں کہا جاتا۔
پاکستان نے ایف سولہ طیارے اپنی رقم خرچ کرکے خریدے تھے تاکہ اپنی سرزمین کا دفاع کرسکے نہ کہ ان طیاروں سے اپنے ہی ملک پر بمباری کی جائے۔ جیسا کہ امریکا چاہتا ہے اس پریس کانفرنس میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’’یہ ایک ایسا فضائی بیڑا ہے جو پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دیتا ہے، اور ہم توقع کرتے ہیں کہ پاکستان تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف مستقل کارروائی کرے گا‘‘۔ امریکا پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اپنا حق سمجھتا ہے ہم اپنے ملک میں کسی شورش کو کسی طرح رفع کرتے ہیں اس کی حکمت عملی ہمیں ہی بنانی چاہیے اگر ہم امریکا یا ان جیسے دوسرے ممالک کی حکمت عملی اپنائیں گے تو ملک میں ہر وقت کہیں نہ کہیں فوجی آپریشن چلتا رہے گا ایک طرف ہمارے فوجی جوان شہید ہوتے رہیں گے دوسری جانب گمراہ پاکستانی اپنی جان سے جاتے رہیں گے، کہیں تو اس سلسلے کو رکنا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری اپنی حکمت عملی ہونی چاہیے اس میں ضروری نہیں ہے کہ جنگ اور حملے ہی کیے جائیں بات چیت اور مذاکرات سے بھی دہشت گردی کو روکا جاسکتا ہے۔ لیکن امریکا یہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں شورش جاری رہے یہی وجہ ہے کہ پرائس نے کہا کہ ’’پاکستان متعدد حوالوں سے انسداد دہشت گردی کا ایک اہم پارٹنر ہے اور ہماری دیرینہ پالیسی یہ ہے کہ ہم امریکی مفادات کی خاطرایسے پیکیج فراہم کرتے ہیں‘‘۔ واضح رہے امریکی کانگریس کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس ملٹری پیکیج میں پاکستان کو کوئی نئی صلاحیت، ہتھیار یا گولہ بارود نہیں دیا گیا۔ 40 سال قدیم یہ لڑاکا جہاز امریکا کے پاس نئی شکلیں اختیار کرچکے ہیں لیکن پاکستان کو وہ نئی ٹیکنالوجی دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پاکستان پر یہ پابندی لگائی جاتی ہے کہ ان طیاروں کو بھارت کے خلاف نہیں استعمال کیا جائے گا لیکن بھارت کو ئی ٹیکنالوجی دیتے وقت یہ شرط نہیں عائد کی جاتی کہ وہ اسے اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف نہیں استعمال کرے گا۔ دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار بھی لٹکا رکھی ہے امریکا نے پاکستان کا اقتصادی طور پر گلا گھونٹ رکھا ہے۔ امریکا سے کون کہے گا کہ ہماری گردن تو چھوڑو۔