حکومت سے کون جیت سکتا ہے مگر سیلاب مگر کیوں

216

پچھلے مہینے سابق وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں اس حال میں لوگوں سے خطاب کیا کہ جلسہ گاہ سے کچھ ہی فاصلے پر وہ علاقہ تھا جو سیلاب سے شدید متاثر تھا لیکن پوری تقریر میں ایک بار بھی عمران خان نے سیلاب اور اس سے متاثرہ لوگوں کا ذکر نہیں کیا۔ یہی نہیںعین اس وقت جب سوات ڈوب رہا تھا اس وقت بھی پختون خوا کی برسر اقتدار جماعت پوری آب وتاب سے ہری پور میں جلسہ کررہی تھی۔ سیلابی صورتحال جب پوری شدت پر تھی تب بھی جلسوں کا روکنا تو دور کی بات عمران خان نے ان میں ایک دن کا تعطل بھی نہیں آنے دیا۔ جن صوبوں میں ان کی حکومت تھی وہاں جاکر بھی سیلاب میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے وہ کسی امدادی سر گرمی کا حصہ نہیں بنے۔ جنوبی پنجاب ڈوب رہا تھا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب گجرات میں جلسے کے انتظامات میں مصروف تھے تا کہ عمران خان اپنے مخالفین کو للکار کرسکیں۔ جہاں تک شہباز حکومت کا تعلق ہے ہر بات کے جواب میں اس کا یہی کہنا ہے کہ جتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اس سے اکیلے نمٹنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہے حالانکہ اسی دوران الخدمت، پاکستانی فوج، دیگر رفاحی ادارے اور عام شہری دور دراز علاقوں میں سیلاب زدگان تک پہنچ رہے تھے۔ جب کہ دوسری طرف جنوبی پنجاب کے جنوبی اضلاع میں بہت سی بستیاں ایسی ہیں جہاں ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی کوئی حکومتی نمائندہ نہیں پہنچا۔ حکومت کی پوری توجہ بیرونی امداد، عالمی برادری سے اپیلیں کرنے تک محدود ہے۔ اس کے علاوہ حکومت بے بس ہے۔ سندھ میں سیلاب کے بعد لوگ بھوک پیاس اور بیماریوں سے مررہے ہیں۔ وہ حال ہے کہ اللہ کی پناہ لیکن بلاول زرداری سے لے کر وزیراعلیٰ تک سب ایک ہی بات کررہے ہیں کہ کوئی بھی حکومت اتنی بڑی آفت کا تنہا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ملکی سطح پر عوام آگے بڑھیں اور عالمی سطح پر عالمی برادری جن کے سامنے ہم نے ہاتھ پھیلا رکھے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا حکومت پاکستان واقعی اتنی کمزور ہے جتنا کہ وہ ظاہر کررہی ہے۔ کیا تمام معاملات میں وہ ایسی ہی عدم کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ کورونا کے دوران تو ایسا دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ سیلاب سے نصف پاکستان متاثر ہوا ہے جب کہ کورونا نے پورے پاکستان ہی کو معطل کرکے رکھ دیا تھا لیکن چونکہ عالمی دبائو تھا کہ حکومت اپنے ہر شہری کو ویکسین مہیا کرے کس تیزی کے ساتھ تمام صوبوں میں اور وفاقی سطح پر ایک نظام کھڑا کردیا گیا، نادرا کو استعمال کیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے حکومت کروڑوں لوگوں کو ویکسین لگانے میں کامیاب ہوگئی حالانکہ پاکستانیوں کی اکثریت ویکسین کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا تھی۔ کتنے برسوں سے پاکستان میں پولیو کے حوالے سے مہم چلائی جا رہی ہے۔ گلگت بلتستان کے آخری کونے سے لے کر گوادر تک ملک کا شاید ہی کوئی حصہ باقی بچتا ہو جہاں تمام تر مشکلات کے باوجود ایک مربوط نظام کے تحت پولیو ٹیمیں نہ پہنچتی ہیں اور لوگوں کے منع کرنے، فائرنگ اور پولیو ہیلتھ ورکرز کی شہادت کے باوجود چنددنوں میں پورے ملک میں کروڑوں بچوںکو پولیو ویکسین پلادی جاتی ہے۔ ایک ایک گھر کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے کہ کس کس گھر میں قطرے پلادیے گئے اور کس نے پلانے سے انکار کردیا۔ ایک سال پہلے کی بات ہے جب افغانستان سے امریکی اور مغربی افواج کو بصد سامان رسوائی بھاگنا پڑا۔ ہزاروں کی تعداد میں امریکی اور مغربی فوجی اچانک پاکستان پہنچ گئے۔ یہ عام شہری نہیں فوجی تھے، کس اعلیٰ درجے کی سیکورٹی اور رہائش انہیں فراہم کی گئی اور راتوں رات کس خاموشی سے پاکستان سے دنیا بھر میں روانہ کردیا گیا۔ یہ کام اتنی مستعدی اور چا بکدستی سے کیا گیا کہ پورے ملک میں لوگوں کو پتا ہی نہیں چلا کہ یہ کب اور کیسے ہوا اور مشن مکمل ہو گیا، ایف اے ٹی ایف کے دبائو پر کس تیزی کے ساتھ حکومت نے بینکنگ، لانڈری اور اکائونٹ کھولنے کے حوالے سے قوانین میں ترامیم کیں اور ان کے جائز ناجائز تمام مطالبات پورے کیے۔ حکومتیں الٹی لٹک جاتی ہیں لیکن آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرکے دم لیتی ہیں اور ان کی دی ہوئی تاریخ کے اندر اندر۔ معاملہ اصل میں یہ ہے کہ پاکستان میں حکمران طبقے کے سامنے جو اہداف آتے ہیں اگر وہ بین الاقوامی طاقتوں یا ان کی شرائط سے منسلک ہوتے ہیں تو پاکستان میں حکومتیں ان تمام اہداف اور مطالبات کو بہترین طریقے سے پوری کرتی ہیں۔ پولیو کے قطرے پلانا چونکہ ایک بین الاقوامی آرڈرکا حصہ ہے حکومت کی طرف سے کبھی یہ واویلا سننے میں نہیں آتا کہ ایسی ملک گیر مہم کے لیے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔ کورونا ویکسینیشن پر عالمی دبائو تھا کیا پھرتی سے عمل کیا گیا۔ اسی طرح امریکی فو جیوں سے لے کر آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کبھی مین پاور کا رونا رویا گیا اور نہ وسائل کا لیکن جب پاکستان اور اس کے عوام کی کوئی مشکل اور مسئلہ سامنے آتا ہے خواہ وہ کتنا ہی اندوہناک ہو تو بہانوں، ٹال مٹول اور عذرو انکار کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست سامنے آتی چلی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان حکمرانوں کا حکومت میں آنے کا مقصد نہ اسلام کا نفاذ ہے اور نہ اپنے عوام کے مفادات کی نگہبانی۔ اس حکمران طبقے کا حکومت میں آنے کا مقصد عالمی استعماری طاقتوں کے ورلڈ آڈر، ان کی خارجہ اور معاشی پالیسیوں کی تکمیل اور ان کی خدمات بجا لانے کے سوا کچھ نہیں۔ اس حوالے سے کبھی کوئی شکایت سننے میں نہیں آتی۔ ہاں اگر معاملہ اپنے ملک اور عوام کا ہو تو وسائل کی کمی اور نجانے کیسے کیسے عذر ہائے لنگ تراش لیے جاتے ہیں۔ معاملہ ذمے داریوں کے تعین اور ان کی بجا آوری کے احساس کا ہے۔ افواج پاکستان، الخدمت جیسے اداروں اور عام آدمی کے پاس چونکہ ایسے عذر نہیں آتے لہٰذا ایک کچرا چننے والے کے پاس بھی اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کے لیے وسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ پورے اخلاص کے ساتھ بروئے کار آتا ہے جنب کہ حکومت ان سب کتے پیچھے کہیں بہت دور کھڑی نظر آتی ہے۔
اگر حکومتوں میں کام کرنے کا جذبہ ہوتا توکورونا کی طرح وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں دو مہینے پہلے ہی سیلاب اور بارشوں کا آغاز ہوتے ہی انفرا اسٹرکچر بنانے کی سمت پیش قدمی ہوتی، آپریشن سینٹر بن جاتے، ذمے داران وہاں بیٹھے ہوتے اور پوری تندہی کے ساتھ ایک ایک دن اور ایک ایک علاقے کی صورتحا ل مانیٹر کی جاتی۔ ایک دوسرے زاویہ نظر سے دیکھا جائے تو اس کی بھی ضرورت نہیں تھی انفرا اسٹرکچر اور ریاست کا پورا نظام پہلے ہی موجود ہے۔ صوبائی دارالحکومتوں سے لے کر ایک ایک گائوں تک افسران اور ریاست کے اسٹرکچر کا پورا نظام موجود ہے لیکن چونکہ عوام کا دکھ درد اور ان کی مشکلات کا ازالہ حکمرانوں کی ذمے داری نہیں، ان کی ترجیحات میں کہیں شامل نہیں لہٰذا زبانیں چلانے کے علاوہ کہیں ایسی سرگرمی نظر نہیں آتی جو حالات کے تقاضوں کے مطابق ہو اور انہیں کما حقہ پورا کرسکے۔ سندھ میں سیلاب کے نتیجے میں مچھروں کی افزائش کی وجہ سے لوگ ملیریا اور بخار سے مررہے ہیں کیا حکومت کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں کہ ان علاقوں میں مچھر مار اسپرے کراسکے۔ رسالت مآبؐ کا فرمان ہے اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔
حالیہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا کوئی منفرد اور اچانک رونما ہونے والا حادثہ نہیں ہے۔ یہ قدرتی آفت بھی نہیں ہے۔ یہ بدانتظامی، بارشوں اور پانی کی مس مینجمنٹ کا شاخسانہ ہے۔ 2010 کے بعد بارہ سال گزر گئے کسی حکومت نے اس باب میں کسی منصوبے پر کام کیا، کوئی حکمت عملی بنائی۔ نہیں۔ اس نظام میں قلیل المدتی حکومتیں آتی ہیں جو پورا عرصہ اپنی حکومتیں بچانے اور اندرونی اور بیرونی آقائوں کی چاکری میں لگی رہتی ہیں۔ اگر حکمران طبقے نے اس ملک میں اسلام نافذ کیا ہوتا اس ملک کو اور اس کے عوام کو اپنا سمجھا ہوتا تواس ملک میں اتنے وسائل موجود ہیں کہ یہ ملک جنت نظیر بن جائے۔ ویسے بھی حکومت کی طاقت بہت ہوتی ہے۔ حسن اور حکومت سے کون جیت سکتا ہے۔