عدالت یا پنچایت

264

دس پندرہ نوجوان محو گفتگو تھے زیر بحث موضوع تھا کہ آئین اور قانون میں کیا فرق ہے مگر بحث کی گرم جوشی اور سرگرمی کے باوجود ماحول سردمہری کا شکار ہوتا جارہا تھا ایک نوجوان نے زیر بحث موضوع کو سمیٹتے ہوئے کہا آئین اور قانون کے فرق میں سر کھپانے کی کیا ضرورت ہے سیدھی سی بات یہ ہے کہ انسان اور آدمی میں جو فرق موجود ہے وہی فرق آئین اور قانون میں پایا جاتا ہے انسان اور آدمی کے درمیان جو فرق پایا جاتا ہے اسے کیسے واضح کیا جائے گا تم نے سوال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بہتر ہے خاموش ہی رہو۔ مگر خاموشی سے مسائل حل نہیں ہوتے مزید الجھ جاتے ہیں وہاں پر موجود ہر نوجوان نے سوال کا جواب دینے کی کوشش کی مگر بات نہ بنی بلکہ مزید الجھ گئی۔
مکالمہ مقالے کی حد سے بھی تجاوز کرتا جا رہا تھا حالاں کہ مکالمے کی افادیت یہی ہے کہ بگڑی ہوئی بات کو سنوارنے میں آسانی ہوتی ہے مگر یہاں ہر آسانی مشکل بنتی جا رہی تھی بالآخر فیصلہ کیا گیا کہ اس سوال کا جواب عدالتی فیصلوں کی روشنی میں کیا جائے بات تو ٹھیک ہے ایک نوجوان نے کہا گویا زیر بحث سوال کا آسان ترین جواب یہی ہو گا کہ پارلیمنٹ کی امن وامان اور انصاف کی فراہمی سے متعلق متفقہ رائے قانون کہلاتی ہے اور عدالتوں کے صواب دیدی فیصلے آئین کہلاتے ہیں قانون کا اطلاق عوام پر ہوتا ہے اور آئین خواص کے لیے ہوتا ہے عوام کے مقدمات کا فیصلہ عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے مگر خواص کے مقدمات کا فیصلہ عدلیہ کے صواب دیدی اختیار کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
کہتے ہیں سیاست ایک ایسی شاہ راہ ہے جس میں جگہ جگہ سہ راہے آتے ہیں اس لیے سیاسی مسافت پر گامزن راہی کو راستہ بدلنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی اسی طرح آئین کی شاہ راہ میں بھی بہت سے سہ راہے پائے جاتے ہیں مگر قانون میں کوئی سہ راہا نہیں ہوتا صرف دو راستے ہوتے ہیں ایک راستہ انصاف کی طرف جاتا ہے اور دوسرا راستہ نا انصافی کی سمت جاتا ہے اور یہ فیصلہ مسند انصاف پر براجمان شخصیت کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نیابت کا فریضہ سر انجام دیتا ہے یا شیطان کی جانشینی کا فرض ادا کرتا ہے اس کا کردار ان دونوں میں سے کسی ایک کی خوشنودی کے حصول تک ہوتا ہے مگر آئین کا سہ راہا اس کے دائرہ اختیار میں ہوتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ اکثر منصف سہ راہے کا انتخاب کرتے ہیں جو ملک کو غیر مستحکم کرنے کس کا باعث بنتا ہے اور قوم انتشار گرفت میں آ جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ فیصلے ضمیر کے مطابق ہوتے ہیں اور ضمیر سے مطابقت رکھنے کے لیے گرائیں ہونا بہت ضروری ہوتا ہے پیپلز پارٹی کو ہمیشہ یہی شکوہ رہا ہے کہ میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے مابین مقدمات کے فیصلوں نے گرائیں ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے کہ عدلیہ ہمار ے خلاف فیصلے کر رہی ہے کیونکہ وہ اپنے لاڈلے عمران خان کو خوش دیکھنا چاہتی ہے لاڈلے کو کھیلن کے لیے چاند دینا اس نے اپنی ذمے داری بنالی ہے گویا معروضی حالات میں عمران خان بھی گرائیں ہونے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ میاں نواز شریف کے گرائیں سبک دوش ہو چکے ہیں اور عمران خان کے گرائیں اپنے منصب پر براجمان ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک کوئی اور گرائیں نہیں آ جاتا عمران خان کو عدالتوں سے ریلیف ملتی رہے گی البتہ اس ضمن میں یہ بات قابل غور ہے کہ میاں نواز شریف یہ کیوں نہیں سوچتے کہ گرائیںان سے ناراض کیوں ہو گئے ہیں اور ناراضی کی وجہ کیا ہے میاں نوازشریف اس وجہ تک پہنچ گئے تو یہ بات یقینی ہے کہ ناراض گرائیں کو منانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان آنے میں بہت بے تاب ہیں مگر ان کی بے تابی فی الحال سیاسی ماحول کی تاب لانے کی متحمل نہیں ہو سکتی مگر یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ جب بھی عمران خان کے گرائیں گھر چلے جائیں گے میاں نواز شریف بھی اپنے گھر آجائیں گے ایسا کب ہو گا؟ اس کا انحصار حالات پر ہے سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ملکی معیشت کا کیا ہوگا ڈالر کے پر کون کترے گا عوام کو ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لیے کو ن سے اقدامات ناگزیر ہیں اور ان پر عمل درآمد کب ہو گا۔
قابل غور امر یہ بھی ہے کہ مقدمات کے فیصلے تو قانون کے مطابق ہوتے ہیں اسی لیے عدالتیں وجود میں آئی ہیں پنچایت اور عدالت میں یہی فرق ہے کہ پنچایت ضمیرکے مطابق فیصلے کرتی ہے اور عدالت قانون کے مطابق فیصلے سناتی ہے اگر عدالتیں بھی ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے لگے تو پھر ان کے وجود کا کیا جواز ہے ان کا وجود قومی خزانے کو برباد کرنے کے مترادف ہے اس تناظر میں یہ سوچنا غلط نہ ہوگا کہ فیصلے پنچایت کے ذریعے کیے جائیں تاکہ ملکی معیشت عدالتوں کے بوجھ سے نجات پا سکے۔