ثقافتی نسل کشی (آخری حصہ)

287

’’احمد آباد‘‘ یہ شہر دریائے سابرمتی کے کنارے آباد ہے۔ 1411ء میں مظفری خاندان کے سلطان احمد شاہ نے 4 احمدوں – قاضی احمد، ملک احمد، اپنے اسلامی استاد شیخ احمد کھٹو اور خود کی تعریف میں اس کا نام احمد آباد رکھا۔ یہ شہر سوتی کپڑے کی مِلوں کی وجہ سے ہندوستان کا مانچسٹر کہلاتا تھا۔ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل اس شہر کا نام اگر حکومت تبدیل کرنا چاہتی ہے تو پھر اسے یونیسکو سے بھی منظوری لینی ہوگی۔ گجرات کے متعصب سیاسی لیڈران کہتے ہیں کہ احمد آباد نام غلامی کی علامت ہے۔ جب کہ کرناوتی ہماری عزت نفس اور غیرت مندی و خود داری اور ہماری ثقافت کی علامت ہے۔ راجستھان میں 2018ء کے وسط میں سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا نے 20 سے زائد مسلمان ناموں کے گاؤں کو ہندو نام دے کر شدھی کرن کردیا۔ مظفر نگر، الہ آباد، فیض آباد، علی گڈھ، احمد آباد، حیدرآباد، کریم نگر، اورنگ آباد، عثمان آباد، مومن آباد، احمد نگر وغیرہ یہ سارے نام چونکہ ایک مسلم شناخت رکھتے ہیں، اور یہ نام ان کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ لہٰذا ان کی دیرینہ خواہش یہی ہے کہ ان ناموں کو تبدیل کرکے اپنے مجروح یا کھوئے ہوئے وقار کو بحال کیا جائے۔
آج ’’حیدرآباد‘‘ کا نام ’بھاگیہ نگر‘ و ’’’اورنگ آباد‘‘ کا ’شمبھاجی نگر‘ اور ’’عثمان آباد‘‘ کا ’دھراشیو‘ ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ریاست مہاراشٹر میں ’شیوسینا‘ نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اورنگ آباد اور عثمان آباد کے نام بدلے۔ کہیں کسی سیاسی رہنما کی خواہش کے مطابق شہروں کے نام تبدیل کیے جارہے ہیں۔ سامنا کے اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ ’بالا صاحب ٹھاکرے نے اورنگ آباد کا نام، شمبھاجی نگر‘ رکھا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس کے نام کو سیاسی مقاصد کے لیے تبدیل کرنے کے لیے زور و شور سے اٹھایا جاتا ہے۔ اورنگ آباد کبھی دکن میں طاقت کا مرکز تھا۔ یہ بہت سی سلطنتوں کا دارالحکومت بھی رہا ہے۔ اس سرزمین کی اپنی زریں تاریخ ہے۔بی جے پی کے ہندو قوم پرست سیاست دانوں نے ہندوستانی قصبوں، گلیوں، ہوائی اڈوں اور ملک کے ریلوے اسٹیشنوں کے نام تبدیل کیے ہیں، ایسے ناموں کو تبدیل کیا ہے جو مسلم ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ ہندوستان کے نقشے پر نظر ثانی کر رہے ہیں اور اس کی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اپوروآنند (دہلی یونیورسٹی)، دی ہندو (13.11.2018) میں لکھتے ہیں، ’’ہم ہندوستان میں شہروں اور ریلوے اسٹیشنوں کے نام بدلنے سے پیدا ہونے والے جوش و خروش میں یہ دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ ماضی، جس کی طرف یہ نئے پرانے نام اشارہ کرتے ہیں، ایک تصوراتی سر زمین ہے جس میں ہمیں آباد ہونے کی دعوت دی جارہی ہے۔ ہم بالکل کھوئی ہوئی زمین کو دوبارہ حاصل نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ جیسا کہ ہندی شاعر بودھی ستوا نے لکھا ہے، ایسا پریاگ کبھی نہیں تھا جسے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی اب بحال کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ماضی کی شان و شوکت پر قبضہ کرنے کے دفاع میں جو کچھ بیچا جا رہا ہے وہ ایک نظریاتی تعمیر
ہے‘‘۔ سوشیالوجی کے ماہر سنجے سری واستو نے کہا کہ ’اصل سماجی بہبود میں وسیع تر بہتری کی عدم موجودگی میں نام کی تبدیلی، تبدیلی کا احساس دلاتی ہے‘۔
ہندوتوا نواز سیاسی پارٹیوں کے نام تبدیل کرنے کی روش کو ووٹرز کو قائل کرنے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ دلی یونیورسٹی کے گگن پریت سنگھ کہتے ہیں کہ انڈیا میں ناموں کی تبدیلی کی سیاست کی جڑیں عام طور پر ’تہذیب کو قومیت کے دائرے میں لانے سے جڑی ہوتی ہیں‘۔ سیاسی لیڈر و وزیر، اوم پرکاش راج کہتے ہیں کہ ’’پس ماندہ اور کچلے ہوئے طبقات کی اپنے حقوق سے توجّہ ہٹانے کے لیے، بی جے پی سرکار نام تبدیل کرنے کا ڈراما رچا رہی ہے۔ بھارت کے لیے مسلمانوں کی خدمات بے مثال ہیں‘‘۔ پروفیسر منوج کے جھا جو دہلی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں وہ اس مسئلہ پر کہتے ہیں ’’تاریخ بتاتی ہے کہ جب حکمرانوں کے پاس اپنی قوم کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، تو وہ نام تبدیل کرنے لگتے ہیں۔ بھارت ہمیشہ سے ایک وسیع و عریض سمندر رہا ہے اور اس حکومت کو، تاریخ میں ایک سمندر کو غلیظ مقام میں بدلنے والی حکومت کے طور پر یاد رکھا جائے گا‘‘۔ سرکار پر تنقید کرتے ہوئے انہوں مزید کہا ’’چوں کہ اقتصادی ترقی کے اعتبار سے بی جے پی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، لہٰذا وہ اس قسم کی حماقتیں کر رہی ہے۔ اگر معیشت، ملازمتوں اور سماجی بہتری کے لحاظ سے اس حکومت کا جائزہ لیا جائے، تو اس کی کارکردگی منفی ہے۔ یہ حکومت صحت، تعلیم اور ملازمتیں نہیں دے سکتی، البتہ نام ضرور تبدیل کرسکتی ہے‘‘۔ حکومت کو چاہیے کہ اضلاع و شہروں کے نام تبدیل کرنے کے بجائے، وہ اپنا وقت ملک سے بے روزگاری کو دور کرنے، کسانوں کو ان جائز حق دینے، ان کی معاشی و زرعی بہتری، ملک کو لوٹ کر ملک کے باہر پیسہ لیجانے والوں سے دوبارہ پیسہ لانے پر، عوام کی فلاح و بہبود پر، مہنگائی کو ختم کرنے پر اور الیکشن سے قبل کیے گئے وعدے پورے کرنے میں صرف کرے۔
تحقیقی ادارے آر ایس ایس کے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ تاریخ ہندو وراثت کا مطالعہ ہے، جس کا مقصد ہندو فخر کو ابھارنا اور قوم کے دشمنوں کے خلاف انتباہ کرنا ہے۔ نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تاریخ کی ریٹائرڈ پروفیسر تنیکا سرکار کہتی ہیں۔ ’’چاہے وہ سائنس ہو یا تاریخ، ہمیں قدیم ہندو اقدار، ہندو ایجادات، ہندو سائنس کے بارے میں بات کرنی چاہیے‘‘۔ موجودہ سرکار ’’ہندوتوا‘‘ نظریے کے تحت ملک کے امن و آشتی اور محبت کے تشخص کو ختم کرتے ہوئے اسے ایک ہندو ریاست بنانے پر تْلی ہوئی ہے۔ ملک میں حکمراں سیاسی پارٹی نے کوئی ایسا ٹھوس تعمیری کارنامہ انجام نہیں دیا، جسے وہ تمغائے امتیاز سے تعبیر کرسکے، چنانچہ وہ انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے لیے مذہبی و سیاسی منافرت کو پروان چڑھا رہی ہے۔ ناموں کی تبدیلی کا فیصلہ نہ صرف ملک کی اسلامی تاریخ کا نام و نشان مٹانے کی کوشش ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں مذہب کے نام پر ایک کثیر الثقافتی معاشرے میں خلیج بھی پیدا ہوگی۔ بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ یہ تمام رونما ہونے والی تبدیلیاں زندگی کے نشیب و فراز ہیں۔ آج ہمارے حصے کی رات ہے کل ان شاء اللہ! ہماری صبح دوبارہ آئے گی۔ اس وقت ہر طرف امن و انصاف کا بول بالا ہوگا۔