بیانیے کا تعاقب

384

عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کی کامیابی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ جس کے بعد حمزہ شہباز کی حکومت ختم ہو گئی اور اس کی جگہ مسلم لیگ ق کے چودھری پرویز الٰہی پی ٹی آئی کے تعاون سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ عدالتی فیصلے کے تحت صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیا۔ پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت سرتاپا ایک بحران ہی تھی۔ عدالت نے ان کی حکومت کو مستعار سانسیں فراہم کرکے کچھ مزید دن گزارنے کی مہلت دی تھی۔ یہ حکومت پی ٹی آئی کے منحرفین کی حمایت سے قائم ہوئی تھی اور یہ منحرفین عدالتی فیصلے کے نتیجے میں اپنی نشستوں سے محروم ہوگئے تھے۔ جس کے بعد ان نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات کے نتائج ایک ایسا بادنما ثابت ہوئے جس نے عوامی مزاج اور موڈ کی ہوائوں کے رخ کا پتا دیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ پنجاب میں عمران خان کی جماعت اب شہریوں کی اربن کلاس اور برگر گروپ کے بجائے دیہاتوں کے اندر مسائل زدہ آدمی تک اپنا راستہ بنا چکی ہے۔ ایک دور تھا جب پیپلز پارٹی پنجاب کے شہر وقصبات کی مقبول جماعت تھی تو میاں نواز شریف نے شہری ووٹوں اور تاجر طبقے کی حمایت سے پیپلزپارٹی کی بالادستی کو چیلنج کرنے کا قدم اُٹھایا تھا۔ اس دور میں پیپلز پارٹی کے فخرالزمان جیسے دانشور مسلم لیگ ن کو شہری بابوئوں کی جماعت کہتے تھے۔ مسلم لیگ نے جلد ہی اپنی سیاست کے اوپر سے شہری بابوئوں کی جماعت کا اسٹکر یوں اُتار پھینکا تھا کہ پنجاب کے شہروں کے بعد دیہاتوں سے بھی پیپلزپارٹی کے قدم اُکھڑتے چلے گئے تھے۔
عمران خان کی سیاست اور جماعت پر بھی شہری کلاس، برگر گروپ یا فین کلب کا تاثر بہت گہرا تھا اور مخالف جماعتیں انہیں اسی طرح ہلکا لے رہی تھیں مگر رجیم چینج آپریشن کے خلاف پی ٹی آئی کی مزاحمت کو قومی اور مقبول مزاحمت بنانے اور اس کے بعد پنجاب کے ضمنی انتخابات کے نتائج نے پنجاب کی سیاسی رُتوں میں تبدیلی کا اشارہ دیا۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات کے بعد سیاسی منظر تبدیل ہو کر رہ گیا تھا مگر پی ڈی ایم کی جماعتوں نے پی ٹی آئی کی عددی برتری کو قانونی موشگافیوں میں ڈال کر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے نرم پیٹ کا کام مسلم لیگ ق کو ہی سمجھا جارہا تھا۔ اس نرم پیٹ کو استعمال کرنے کے لیے قرعۂ فال سابق آصف زرداری کے نام نکلا۔ آصف زرداری نے چودھری شجاعت حسین کے گھر ڈیرہ ڈال دیا۔ جوں جوں آصف زداری کا چودھری شجاعت حسین کے گھر قیام طویل ہوتا گیا پنجاب کے روایت پسند جاٹ خاندان کی درمیان اختلاف کی دراڑیں گہری ہوتی چلی گئیں یہاں تک کہ جب آصف زرداری چودھری شجاعت حسین سے ایک خط حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے چودھری خاندان دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ مسلم لیگ ش اور پ میں تقسیم ہو چکی تھی۔ پرویز الٰہی عمران خان کے شانہ بشانہ چلنے پر تُلے بیٹھے تھے اور شجاعت حسین آصف زرداری کی سیاسی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہونے کا حتمی فیصلہ کرچکے تھے۔ چودھری شجاعت حسین کا خط پی ڈی ایم کے ہاتھ میں ایک نسخہ ٔ کیمیا ثابت ہوا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ووٹنگ کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے جیب سے یہی خط لہرا یا اور چودھری پرویز الٰہی کے دس ووٹوں کو منسوخ کرکے حمزہ شہباز کی کامیابی کا اعلان کیا۔ حمزہ شہباز کے حامیوں نے لبرٹی چوک میں اس عارضی کامیابی کا جشن منایا۔ اس جشن سے دو چیزیں برآمد ہوئیں ایک فنکار اللہ رکھا پیپسی جن کا گانا کسی کو سمجھ میں نہ آنے پر وائرل ہوگیا اور راتوں رات اللہ رکھا پیپسی ٹویٹر پر بھی نمودار ہوگئے۔
بہت سے فنکار اپنی پرفارمنس اور آواز کے سوز اور سحر کی بدولت وائرل ہوتے ہیں مگر اللہ رکھا پیپسی دنیا کے واحد فنکار ہیں جو اپنا گانا سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے محض ایکشن کی وجہ سے مشہورہوگئے۔ دوسری بات یہ تھی کہ مسلم لیگ ن میں حقیقی نون کے لوگ اس جشن سے دور اور کھچے کھچے رہے۔ جس سے مسلم لیگ ن میں گجرات کے چودھری برادران کا منظر اُبھرنے کے خدشے کی ایک لہر سے گزر گئی۔ معاملہ ایک بار پھر عدالت جا پہنچا اور پی ڈی ایم نے باجماعت ہوکر عدالت کو دبائو میں لانے کے لیے ایک زوردار پریس کانفرنس کی۔ جس میں بغاوت کی دھمکیاں بھی تھیں بائیکاٹ کے اشارے بھی دھمکانے کا انداز بھی تھا اور کسی نئی مہم جوئی کا عزم بھی۔ کسی دور میں ملک میں اقتدار کی سیاست میں سرگرم جماعتوں کے صف اول کے قائدین ایک قطار میں بیٹھ کر دنیا کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ ان کا فیصلہ اور مطالبہ ملک کے اجتماعی ضمیر کا ترجمان اور پاسبان ہے۔ عدلیہ نے اس دبائو کو نظر انداز کرتے ہوئے فل بینچ کے بجائے تین رکنی بینچ کے ذریعے ہی سماعت کا حتمی فیصلہ کیا اور اس فیصلے کے نتیجے میں ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کالعدم ہوئی اور چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ اس سے ملک میں جاری بحران کم نہیں ہوا بلکہ بحران میں اضافہ ہوا اور ایک نئی جہت کا اضافہ ہوا۔ پرویز الٰہی کا انتخاب عدالت کا ایک مقبول فیصلہ ثابت ہوا کیونکہ اس فیصلے کے ساتھ ہی ملک کے طول وعرض میں کسی کال کے بغیر ہی عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ اسے عوام نے ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کے معاملے کے بجائے بیانیے کی جنگ میں ایک محاذ کی کامیابی جانا۔ پی ڈی ایم اب نئے سرے ایک بیانیے کی تشکیل اور ترتیب میں کوشاں ہے مگر بیانیے کے میدان میں ان کے لیے اسپیس بہت کم ہے۔ انہیں اپنے موقف کی قبولیت کے لیے عمران خان کے غیر مقبول ہونے کا انتظار کرنا ہوگا اور عمران خان صرف اپنے حکومتی اقدامات ہی سے غیر مقبول ہوں گے۔ پی ڈی ایم کے لیے بہتر یہی ہے کہ عام انتخابات پر مذاکرات کرکے وقت بدلنے ۱کا انتظار کرے۔ فی الحال وہ عمران خان کے بیانیے کا تعاقب ہی کر سکتے ہیں۔