ڈالر کو کنٹرول کرنا ہمارے اختیار سے باہر ہے، وزیر مملکت خزانہ

221

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں وزیرمملکت برائے خزانہ نے کہاکہ ڈالرکی قیمت بین الاقوامی سطح پر بڑرہی ہے اورڈالر کوکنٹرول کرناہمارے اختیارسے باہر ہے۔

ایم ایف بیل آﺅٹ پر اسٹاف لیول کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور آئی ایم ایف کا موجودہ بیل آﺅٹ 25 اگست 2022 تک مکمل ہوجائے گا۔کمیٹی نے سینیٹر دانش کمار کی طرف سے پیش کردہ “پبلک فنانس مینجمنٹ ترمیمی بل، 2022 کو متفقہ طور پر منظور کیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، محصولات اور اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔اجلاس کا آغاز ہواتوپی ٹی آئی سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ ایجنڈا موخر کرکے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاجائے۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ادویات ساز کمپنیاں عوام کو بنیادی ادویات فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیںڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا میرے منہ میں خاک آج ملک دیوالیہ ہو چکا ہے،ادویات کی صنعت کی درآمدی خام مال کا لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھولا جارہا ہے،ٹویوٹا نے پاکستان میں اپنی پیداوار بند کردی ہے۔

 آج ملکی معیشت جس دوراہے پر کھڑی اس سے مسائل میں اضافہ ہورہاہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کمیٹی کو بتایا کہ امریکہ میں مہنگائی کی شرح 28 سال کی بلند ترین سطح پر ہے اور ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ بنیادی طور پر امریکی ڈسکانٹ ریٹ میں اضافہ ہے۔

مختصر عرصے میں دنیا بھر کی بڑی کرنسیوں کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سوال کیا کہ ڈالر کیسے مستحکم ہوگا؟ اس کے جواب میں عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ بین الاقوامی عوامل ہمارے قابو سے باہر ہیں اور جہاں تک مقامی عوامل کا تعلق ہے۔

 ہمارا مقصد ترسیلات زر کو بڑھانا ہے جو اس وقت 3.12 بلین امریکی ڈالر (اپریل 2022)پر ہے اور درآمدی خسارے تقریبا 8 بلین امریکی ڈالر کم کرنا ہے۔ آئی ایم ایف بیل آﺅٹ کے معاملے پر وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہاکہ اسٹاف لیول کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور آئی ایم ایف کا موجودہ بیل آﺅٹ 25 اگست 2022 تک مکمل ہوجائے گا۔ “ہم سری لنکا کی صورتحال کے قریب نہیں ہیں”۔