بارش: حکومتی نااہلی کے باعث شہریوں کی صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے، ماہرین

205

کراچی: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزی سے زوال پذیر انفراسٹرکچر، سڑکوں کی ابتر صورتحال کے بعد مون سون بارشوں نے سڑکوں کو مزید خراب کردیا ہے جو کراچی والوں کی صحت کو متاثر کر رہا ہے،شہر میں 50 فیصد سے زیادہ نوجوان بائیک سوار خراب سڑکوں کی وجہ سے  کمر کے نچلے حصے میں دائمی درد میں مبتلا پائے گئے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار اور مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرین صحت نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ 56 فیصد بائیک چلانے والے نوجوان اپنی موٹر سائیکلوں کو بری طرح سے تباہ شدہ سڑکوں پر چلانے کی قیمت چُکا کر رہے ہیں جو گڑھوں، کھلے مین ہولز اور سیوریج کے جمع ہونے کی وجہ سے گاڑی چلانے کے قابل نہیں ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف موٹر سائیکلیں بلکہ کراچی میں رکشوں میں سفر کرنے والی خواتین بھی کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے میں درد میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ تمام مین اور برانچ روڈز کی مرمت کے لیے فوری مہم شروع کریں، سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے نوجوان مرد اور خواتین کو مستقل معذوری سے بچانے کے لیے شہر میں میگا مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار پاک امریکن آرتھرائٹس سینٹر کی سربراہ نے کراچی میں عہد میڈیکل سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عہد میڈیکل سینٹر کے سی ای او ڈاکٹر بابر سعید بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

ڈاکٹر صالحہ اسحاق کا کہنا تھا کہ  ہماری تحقیق اور مختلف اداروں سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 56 فیصد موٹر سائیکل سوار، جن میں زیادہ تر نوجوان کالج اور یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے میں درد مبتلا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  یہ اعدادوشمار انتہائی تشویشناک ہے، بہت سے موٹر سائیکل سوار کراچی میں سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے اپنی ریڑھ کی ہڈی کو شدید نقصان پہنچانے کی وجہ سے موٹر سائیکل چلانے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس طرح کے مسائل کا بروقت علاج نہ کیا گیا تو اس سے معیار زندگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ہمارا مشورہ ہے کہ بروقت تشخیص اور علاج کے لیے تربیت یافتہ اور مستند رہیومٹولوجسٹ سے رجوع کریں۔

لوگوں کی اسی ضرورت کو محسوس کرتے ماہرین صحت نے حال ہی میں کراچی میں پاکستان کا پہلا گٹھیا مرکز شروع کیا گیا ہے تاکہ عضلاتی امراض اور آٹو امیون ڈیزیزز کی جلد تشخیص اور علاج کیا جا سکے،

عہد میڈیکل سینٹر کے سی ای او ڈاکٹر بابر سعید کا کہنا تھا کہ عہد میڈیکل سینٹر پاک امریکن آرتھرائٹس سینٹر کے تعاون سے کراچی بھر میں اپنے 20 مراکز میں ایسے مریضوں کا علاج کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستانی آبادی کا تقریباً تین فیصد پہلے ہی مختلف آٹو امیون بیماریوں کے ساتھ ساتھ ریمیٹائڈ آرتھرائٹس میں مبتلا ہے،

لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تربیت یافتہ اور مستند ریمیٹولوجسٹ کی کمی کی وجہ سے ہزاروں افراد علاج کے بغیر کئی سالوں سے دائمی درد کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ تیزی سے تباہ ہوتا ہوا انفراسٹرکچر اور کراچی میں سڑکوں کی خراب حالت ہمارے صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے اور سب سے زیادہ خطرناک حد تک لوگوں کی صحت اور معمولات زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گٹھیا کے زیادہ تر مریضوں خاص طور پر کمر کے درد کی غلط تشخیص ہوتی ہے اور وہ مہینوں یا سالوں تک کسی بھی تربیت یافتہ اور مستند رہیوموٹولوجسٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا شکار رہتے ہیں۔