دی پشتی سیاست

293

باہر ملکوں کی سڑکیں بڑی صاف نظر آتی ہیں۔ ہر چیز بہت منظم ہوتی ہے۔ انصاف ہوتا ہے۔ صحت اور تعلیم کے بنیادی سہولت مہیا کی جاتی ہیں۔ یہ ساری باتیں ایک جملے میں ہم لوگ اکثر بول دیتے ہیں لیکن براہ مہربانی مجھے ذرا یہ بھی تو بتائیں آپ اور ہم کیا کرتے ہیں؟ موجودہ بارشوں میں شادمان کے راستے میں ایک نالے میں ماں اور بچہ ڈوب گئے اور کئی حادثات ہوئے ہوںگے کراچی کی سڑکوں پر، اللہ کو حاضر ناظر جان کر سوچیں کہ آپ نے کبھی سڑکوں پر کچرا نہیں پھینکا؟ اپنے طور پر آپ نے کیا کوشش کی؟ اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ ہاں چند لوگ ہیں جو خدمت خلق کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں لیکن صرف چند لوگوں سے پورا سسٹم نہیں بدل سکتا بدلنا ہے تو خود کو بدلیں سوچ کو بدلیں۔ تھوڑے عرصے پہلے جب ترکی میں طیب اردوان کو ہٹانے کی سازش ہوئی تو عوام مضبوطی سے کھڑے ہو گئے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ بندہ اس ملک کی سربراہی کہ لیے بہترین ہے۔ اور ہم کیا کرتے ہیں اپنے نانا دادا کے زمانے سے جو سیاست چلی آ رہی ہے اسی پر مہر لگاتے ہیں۔ منتخب آپ کو کرنا ہے، آپ آزادی رائے کا اختیار رکھتے ہیں تو پھر پرانی سیاست کا بھرم کیوں رکھا ہوا ہے؟ ہاں اگر رکھنا ہی ہے اور کچھ کرنا ہے تو خدارا اپنا اور اپنی اولادوں کا سوچیں اپنی آنے والی نسلوں کا سوچیں۔ معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے صرف اس بات سے دلاسہ دینا کہ یہ ملک پاکستان 27 رمضان المبارک کو آزاد ہوا تھا تو اس کو آنچ نہیں آئے گی، ٹھیک نہیں۔ اللہ رب العزت سے دن رات یہی دعا ہے کہ اللہ ہمارے وطن عزیز کو سلامت رکھے اور تباہی سے بچائے۔ لیکن یاد رکھیں
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
ہاں ٹھیک ہے کہ کچھ اختیارات صرف ہمارے حکمرانوں کے پاس ہوتے ہیں لیکن حکمرانوں کے انتخاب کا اختیار تو آپ کے پاس ہے نا، تو خدارا لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کو ووٹ نہ دیں آپ بھی اس گناہ اور جرم میں شامل نہ ہوں۔ اب آتی ہو اصل بات کی طرف بحیثیت قلم کار تو مجھے بہت سارے لوگ جانتے ہیں کچھ لوگ صحافت کے حوالے سے بھی جانتے ہوں گے لیکن سیاسی پس منظر کے حوالے سے شاید نہ جانتے ہوں میرا ابھی تک کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی میں نے ابھی تک کسی کو ووٹ دیا لیکن جب بحیثیت قلم کار میں نے حریم ادب کے پروگرام میں شرکت کرنا شروع کی تو ایک بات دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ادارہ نورحق بہت ہی سادہ بنا ہوا تھا جو کہ جماعت اسلامی کا مرکزی آفس ہے۔ یہ لوگ چاہتے تو تو کچھ پیسے جو کہ انہیں ڈونیشن کے طور پر ملتے ہیں اپنے اداروں پر لگا لیتے لیکن انہوں نے وہ پیسے صحیح حقداروں تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں رکھی میں نے خود الخدمت کے آغوش کا دورہ کیا تو وہاں بھی ہر چیز کو بہترین پایا اور کئی ایسے پروگرام جن میں کئی پروجیکٹ قابل ذکر ہیں جن میں سے آنے والے وقتوں میں بنو قابل آئی ٹی کی فیلڈ میں مستقبل کے معماروں کے لیے بہترین ترقیاتی پروگرام ہے۔
بات کے الیکٹرک کے حوالے سے ہو یا کراچی کا کوئی اور بلدیاتی مسئلہ تب بھی وہاں آپ حافظ نعیم الرحمن کو کھڑا ہوا پائیں گے۔ حافظ نعیم الرحمن سے قبل نعمت اللہ خان اور جماعت اسلامی کے جتنے بھی میں مئیر آئے انہوں نے اپنی جائدادیں بنانے کے بجائے ملک و قوم کے مفاد میں اپنی تمام تر صلاحیتیں پیش کی اور آخر میں ان کے پاس اپنی ذاتی جائداد کے علاوہ کچھ نہ تھا چاہے اس میں صرف دو کمروں کا گھر ہی کیوں نہ ہو۔ کچھ باتیں میں نے آپ کے سامنے ذکر کر دیں باقی آپ لوگ سب خود سمجھدار ہیں۔ تو آئیں بچائیں کراچی کو۔ انصاف کا ترازو آپ کا منتظر ہے۔