جو بائیڈن۔ محمد بن سلمان کی تلخیاں؟

491

امریکی صدر اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنی تین گھنٹے کی ملاقات کے دوران بحیرہ احمر سے لیکر ایران تک علاقائی سلامتی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ہی مستقبل میں فائیو جی اور سکس جی جیسی موبائل ٹیکنالوجی کے تعاون پر بھی بات چیت کی۔ لیکن کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب بائیڈن نے محمد بن سلمان پر دباؤ بڑھانے کے لیے ان سے کہا کہ امریکی سی آئی اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے تم نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا ہے جس کا محمد بن سلمان نے فوری جواب دیا کہ ساری دنیا میں انسانوں کا قتل کرنے والے امریکا کو یہ بات زیب نہیں دیتی وہ ایک ایسے شخص کے قتل کی ذمے داری سعودی ولی عہد پر لگائے جس کا قتل سعودی عرب سے باہر ہوا ہے۔ ابوالغرائب۔ گوانتا نامو اور دنیا بھر میں امریکی بمباری سے قتل ہونے والوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکا کا بنیادی انسانی حقوق کہاں چلا جاتا جب امریکی فوج بے گناہوں کے گلے کاٹتی ہے۔ فلسطینی نژاد امریکی خاتون صحافی شیرین ابو عاقلہ بھی جمال خاشقجی کی طرح ایک صحافی تھی اس کو کس نے قتل کیا؟ وہ بھی امریکی سی آئی اے کو معلوم ہے۔ امریکی صدر اس پر خاموش رہے؟۔ محمد بن سلمان نے بائیڈن کو امریکی کارنامے گنوائے لیکن امریکی صدر باہر آکر یہی کہتے رہے کہ انہوں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا مقدمہ بہت اچھی طرح لڑا ہے اور پھر وہی رٹ لگائے رکھی کہ امریکا انسانی حقوق کی جنگ لڑتا رہے گا۔
صدر جو بائیڈن دو دن اسرائیل میں رہنے کے بعد سعودی عرب پہنچے تھے۔ ان کے اس دورے کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو ’’دوبارہ ترتیب دینے‘‘ کی ایک کوشش تھی، جو خطے میں امریکا کے سب سے پرانے اتحادیوں میں سے ایک ہے۔ بائیڈن اور سعودی عرب کے حقیقی حکمران محمد بن سلمان کے مابین گفتگو کے دوران تناؤ اس وقت دیکھنے میں آیا، جب بائیڈن نے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے حوالے سے سعودی عرب کو ایک ’’پاریہ اسٹیٹ‘‘ قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے پاس ’’معاشرتی اقدار کے طور پر تبادلے کے لیے کچھ نہیں ہے‘‘۔ سعودی صحافی جمال خاشقجی امریکا میں رہتے ہوئے معروف میڈیا ادارے واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرتے تھے۔ انہوں نے سعودی عرب میں بعض پالیسیوں کے حوالے سے محمد بن سلمان پر بھی نکتہ چینی کی۔ بائیڈن کا مزید کہنا تھا، ’’میں نے اس پر کھل کر بغیر کسی جھجک کے بات کی۔ میں نے اپنا نقطہ نظر پوری طرح سے واضح کر دیا‘‘۔
امریکا سے روانگی سے ایک دن قبل صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے ایک خاص مضمون میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ تیل کی دولت سے مالا مال مملکت کے ساتھ تعلقات کو ’’دوبارہ ترتیب‘‘ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی پہلی منزل اسرائیل ہے پھر وہاں سے وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کریں گے اور واپسی سے قبل آخر میں وہ سعودی عرب پہنچیں گے۔ جو بائیڈن نے اپنے اس مضمون میں لکھا، ’’مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو میرے سعودی عرب کے اس سفر کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں، تاہم انسانی حقوق کے بارے میں میرے خیالات واضح اور دیرینہ ہیں، اور جب بھی میں بیرون ملک سفر کرتا ہوں تو بنیادی آزادی ہمیشہ ایجنڈے میں شامل ہوتی ہے‘‘۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انقرہ میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کا 2018ء میں قتل ہوا، اس کے پیچھے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی تھے۔ امریکی صدر نے اپنے مضمون میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی نے مشرق وسطیٰ کو ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے حالات کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور محفوظ بنایا ہے۔ امریکا کی سلامتی کو روسی جارحیت کا سامنا کرنے اور چین کے ساتھ مقابلہ کرنے سے بھی جوڑا اور یہ دلیل دی کہ ان تمام پہلوؤں سے نمٹنے میں سعودی عرب ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے لکھا، ’’بطور صدر، یہ میرا کام ہے کہ ہم اپنے ملک کو مضبوط اور محفوظ رکھیں۔ ہمیں روس کی جارحیت اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ممکنہ حد تک بہترین پوزیشن میں رکھنا ہے، اور دنیا کے جس خطے پر اس کے اثرات زیادہ مرتب ہوتے ہیں، اس کے استحکام کے لیے اور زیادہ کام کرنا ہے‘‘۔ جدہ میں سعودی فرمانروا محمد بن سلمان نے امریکی صدر جو بائیڈن کا استقبال کیا تو، صدر نے کہا کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا موضوع ان کی، ’’ملاقات کے ایجنڈے میں سر فہرست‘‘ ہے۔ اس کے بعد جو بائیڈن نے اپنے ایک اور بیان میں کہا، ’’جمال خاشقجی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ اشتعال انگیز تھا۔ میں نے تو یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر دوبارہ ایسا کچھ ہوتا ہے تو انہیں نہ صرف اس کا جواب ملے گا، بلکہ اور بھی بہت کچھ ہو گا‘‘۔
جدہ کے کنگ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قدر کم اہم استقبال کے بعد، محمد بن سلمان نے سعودی شاہی محل میں جو بائیڈن کا نہایت گرم جوش اور دوستانہ ماحول میں خیر مقدم کیا اور یہ تمام مناظر سعودی عرب کے قومی ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے۔ بعد میں سعودی میڈیا پر بائیڈن کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔ ملاقات کے بعد سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے ایران کو ’’جوہری ہتھیار حاصل کرنے‘‘ سے باز رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا ہے۔ 2015 میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو کم کرنے کے لیے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت جہاں ایران نے جوہری ہتھیار بنانے اور یورینیم کی افزودگی کو کم کرنے کا وعدہ کیا تھا وہیں بدلے میں اس پر عائد پابندیوں کو نرم کرنا تھا۔ تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2018ء میں یکطرفہ طور پراس معاہدے سے دستبردار ہو گئے تھے۔ مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بائیڈن ’’سعودی عرب کی سلامتی، علاقائی دفاع، اور بیرونی خطرات کے خلاف اپنے عوام اور سرزمین کا دفاع کرنے کے لیے ضروری صلاحیتیں حاصل کرنے میں مملکت کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘‘۔
اس بات سے اتفاق یا اختلاف کیا جاسکتا ہے محمد بن سلمان نے عالم ِ اسلام کے حوالے کچھ نہیں کیا لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں سعودی عرب کے بارے میں اس تاثر کو ختم کر دیا ہے کہ وہ مکمل طور سے امریکا کا غلام ہے جس تاثر کو پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ختم کرنے میں یکسر ناکام رہا ہے۔ حکومتوں کی بقا اور سلامتی کے لیے اسلحہ کا انبار نہیں حکمرانوں کی حمیت اور غیرت اہم ہے اور محمد بن سلمان نے آل ِسعود کو اس تحفہ سے سرفراز کر دیا ہے۔