سینیٹ ،اعظم تارڑ قائد ایوان مقرر،یاسین ملک کے حق میں قرارداد منظور

141

اسلام آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کو سینیٹ میں قائد ایوان جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شہزاد وسیم کو قائد حزب اختلاف مقرر کردیا گیا اور اجلاس میں بھارت میں قید کشمیری رہنما یٰسین ملک کے حق میں قرارداد منظوری کی۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت ایوان کا اجلاس ہوا، تلاوت کلام پاک سے اجلاس کے آغاز کے بعد جنوبی وزیرستان، میرانشاہ، کراچی اور دیگر علاقوں میں بم دھماکوں میں شہید ہونے والے اہلکاروں اور افراد اور سابق سینیٹر کی رحلت پر دعا کی گئی۔پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے نومنتخب سینیٹر نثار کھوڑو نے رکنیت کا حلف لیا، جس کے بعد پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے احتجاج کیا اور انہوں نے حکومت مخالف پوسٹرز اٹھائے ہوئے تھے ۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑکی تقریر کے دوران تحریک انصاف کے اراکین کی جانب سے’’ امپورٹڈ حکومت‘‘ اور’’ بھکاری حکومت نامنظور ‘‘کے نعرے لگائے گئے، اس موقع پر اپوزیشن اراکین چیرمین سینیٹ کی ڈائس کے آگے جمع ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔قائد حزب اختلاف شہزاد وسیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں کوئی قانونی حکومت موجود نہیں اور امپورٹڈ ٹولہ مسلط ہے، ملک میں بڑی واردات ہوئی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔اس دوران حکومتی بینچز سے جملے کسے گئے کہ اپنی ساڑھے تین سال کی کارکردگی بتائیں۔قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے حالیہ دنوں کے واقعات بیان کیا لیکن افسوس کہ اگر وہ 44 مہینوں کی کارکردگی بھی بتاتے، اسی وجہ سے پاکستان بھر کی سنجیدہ قیادت نے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر عین آئینی اور انونی طریقے سے رخصت کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں آناجانا رہتا ہے، اس طرح رونے سے یہ اپنے گناہوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے، انہوں نے 44 مہینوں میں ملک کی معیشت کے ساتھ دہشت گردی اور کھلواڑ کیا، لوگوں پر پیٹرول، بجلی اور گیس کے بلوں کے بم گرائے۔چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن کو ہدایت کی کہ بھارت کی بات ہو رہی ہے، آپ نشستوں پر بیٹھ جائیں، آپ بھارت کو کیا پیغام دے رہے ہیں، یٰسین ملک سے متعلق بات ہو رہی ہے، آپ دو منٹ خاموش ہو جائیں۔قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آج ایوان سے آواز جانی چاہیے کہ یٰسین ملک کو حقوق دیے جائیں، وزارت قانون اور انصاف نے یٰسین ملک کے معاملے پر رابطے کرنے شروع کیے ہیں۔قائد ایوان کی جانب سے سینیٹ میں پیش کردہ یٰسین ملک کی حمایت میں قرارداد منظور کرلی گئی۔قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت عالمی معاہدوں کی پاسداری کرے اور حریت رہنما یاسین ملک پر جھوٹے مقدمات واپس اور کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ بھی بند کر دیاجائے۔ قرارداد میں عالمی برادری سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ایوان بالا نے حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف تمام بے بنیاد الزامات ختم کرنے اورانہیں ہر قسم کی قانونی معاونت اور انسانی حقوق فراہم کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ۔اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں اپنا احتجاج ختم کرتے ہوئے قرارداد کی منظور ی میں حکومت کا ساتھ دیا پیپلز پارٹی کے سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے ایوان میں قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔علاوہ ازیں ایوان بالا نے بچوں کی ملازمت (رہن مشقت) (ترمیمی) بل 2021منظور کر لیا۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان نے بچوں کی ملازمت (رہن مشقت) (ترمیمی) بل 2021قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے بل شق وار منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا جسے منظور کر لیا گیا۔سینیٹ نے ضابطہ فوجداری میں بنیادی نوعیت کی اہم ترامیم کیلئے سینیٹر عرفان صدیقی کے پیش کردہ بل کی منظوری دے دی. اس بل کے ذریعے مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 کی شق 4، شق 408 , شق 414A میں ترامیم کر دی گئی ہیں،اس کے علاوہ سیکشن 14، سیکشن 14A تبدیل کرکے نئی شقیں ڈالی گئی ہیں۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد اب یہ بل قومی اسمبلی میں جائیگا جہاں سے منظوری کے بعد یہ بل باضابطہ قانون بن جائیگا۔اس بل کی منظورِی کے بعد اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر وغیرہ کے عدالتی اختیارات ختم ہو جائیں گے۔ پارلیمنٹ ہائوس کے باہر اخبار نویسوں سی گفتگو کرتے ہوئے بل کے محرک سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ آج آئین کے ایک اہم تقاضے کی تکمیل ہو گئی ہے اور ضابطہ فوجداری کی سامراجی روح نکال دی گئی ہے۔