دو تہائی اکثریت، پھر؟

263

عمران خان اپنی تقاریر میں متعدد بار یہ کہتے آئے ہیں کہ اگر عوام ان سے کچھ کام لینا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ وہ ان کی پارٹی کو کم از کم دو تہائی اکثریت سے کامیاب کریں۔ بات ان کی غلط نہیں۔ سادہ اکثریت یا الیکشن کے تمام نتائج آنے کے بعد محض ایک بڑی سیاسی جماعت بن جانے سے بہت سارے مسائل جنم لیتے ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ کئی چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنانا بھی ہے اور پھر ہوتا یہ ہے کہ وہی جماعتیں جو بہت چھوٹی ہوتی ہیں جیتنے والی بڑی جماعت سے بھی کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں اور یوں محض ایک سیٹ حاصل کرنے والی جماعت کو بھی اپنے سر پر بٹھانا پڑ جاتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ واضح اکثریت حاصل نہ کرنے کی وجہ سے دیگر جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنانا ایک مضبوط حکومت کی علامت ہے یا بہت ہی واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد کوئی مستحکم حکومت بنا کر حکومتی امور چلانا زیادہ بہتر اور آسان ہیں؟۔ بات یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بہت واضح اکثریت حاصل کرنے والی جماعت مستحکم حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے یا پھر ان قوتوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار رکھ کر آگے بڑھا جا سکتا ہے جن کو کبھی خلائی مخلوق یا کبھی نادیدہ قوت کا نام دیا جاتا ہے۔
ماضی میں دو نہیں تین طرح کی حکومتیں منظر ِ عام پر آئی ہیں۔ وہ حکومتیں بھی بنی جن کو عوام نے بہت ہی واضح اکثریت کے ساتھ کرسی اقتدار تک پہنچایا، کبھی ایسا بھی ہوا کہ بہت ہی سادہ اکثریت کے ساتھ ایوان ہائے اقتدار تک رسائی دی گئی، لیکن دیکھا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا تعاون حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ہر دو قسم کی حکومتیں جلد ہی چلتی کی گئیں اور یوں عوام کو اپنی رائے کے ٹھکرائے جانے پر شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بات بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے کہ نہایت کم اکثریت حاصل کرنے والی جماعت نے کئی چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنائی اور اپنا آئینی دورانیہ مکمل کیا جس کی بہترین مثال پی پی پی کی وہ حکومت ہے جس کے نتیجے میں مشرف کو کرسی اقتدار چھوڑنا پڑی۔ اس کے علاوہ ایک اور بھی کامیاب حکومت رہی جو خود مشرف صاحب نے اپنے دور میں تشکیل دی تھی اور خود کرسی صدارت پر براجمان ہو کر دیگر تمام چھوٹی جماعتوں پر خاکی ہاتھ رکھ کر اسے کامیابی کے ساتھ چلایا۔
عمران خان محض اس لیے دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کرکے ایوانِ اقتدار میں براجمان ہونا چاہتے ہیں تاکہ وہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں اور سیاہ و سفید کے مالک بن کر اپنی سوچ اور فہم کے مطابق امورِ حکومت چلا سکیں۔ ان کی یہ سوچ اپنی جگہ بہت اچھی ہی سہی لیکن کیا پاکستان میں انتخابات کے نتیجے میں کبھی ایسا نہیں ہوا جس میں عوام نے اپنی پسندیدہ جماعت کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ ایوان ہائے اقتدار میں نہیں بھیجا ہو؟۔ ذوالفقارعلی بھٹو، بے نظیر اور مسلم لیگ ن نے کم از کم ایک ایک مرتبہ دو تہائی اکثریت حاصل کر کے ملک کی زمام اقتدار سنبھالی لیکن ہر مرتبہ یہ پارٹیاں اپنی آئینی و قانونی مدت پوری کرنے میں ناکام رہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان میں حکومت کرنے کی صلاحیتیں نہیں تھیں بلکہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے پنجہ آزمائی کی پالیسی پر گامزن تھیں یا پھر اسٹیبلشمنٹ اپنے تئیں اس خدشے کا شکار تھی کہ کہیں سیاست میں جو کردار وہ روا رکھنا چاہتے ہیں، ممکن ہے کہ ان پارٹیوں کی موجودگی میں ان کے لیے اس بات کا تسلسل برقرار رکھنا آہستہ آہستہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے۔
لگتا تھا کہ عمران خان کی حکومت نہ صرف اپنی آئینی و قانونی مدت پوری کرے گی بلکہ آئندہ کے پانچ سال بھی اس کے نصیب میں ڈال دیے جائیں گے۔ اس سوچ کی وجہ یہ تھی کہ سات دھائیوں کے بعد پاکستان میں ایک ایسی حکومت وجود میں آئی تھی جس کے پشت پر نہ صرف پاکستان کی ساری ایجنسیاں تھیں بلکہ پاکستان کی فوج بھر پور طریقے سے حکومت کا ساتھ دینے کے لیے تیار تھی۔ اگر نیک نیتی سے سوچا جائے تو یہ استحکام جمہوریت اور پاکستان کی خوشحالی سے متعلق ایک خوش آئند بات تھی لیکن بد قسمتی سے عمران خان کی حکومت اس نادر موقع کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔
عمران خان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اگر ماضی میں قائم ہونے والی وہ حکومتیں جو عوام کی رائے سے بہت واضح کامیابی حاصل کرنے کے باوجود دو ڈھائی سال سے زیادہ اقتدار کی کرسی پر براجمان نہیں رہ سکیں تو عوام نے اگر ان کی مراد پوری کر بھی دی تو کیا وہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لینے کے بعد اپنی کامیابی کو برقرار بھی رکھ پائیں گے؟۔ یہ بات عوام کو بھی اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ہر وہ بات جو ان کا لیڈر کہے، درست نہیں ہوا کرتی۔ وہ کسی کو چور، ڈاکو، لٹیرا یا غدار کہے تو وہ یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ملک میں احتساب کے ادارے ہیں، عدالتیں ہیں، انتظامیہ ہے، تحقیقاتی ایجنسیاں ہیں اور خود سمجھدار عوام کی عقل، سمجھ اور گہرائی تک دیکھنے والی آنکھیں ہیں، جب تک کسی کے متعلق یہ حتمی فیصلہ نہ دیدیں، کسی لیڈر کی خواہش یا کہنے کی وجہ سے وہ سب کچھ نہیں ہو سکتا جو وہ ثابت کرنا چاہ رہا ہے اس لیے ماحول کو خراب کرنے کے بجائے وقت کا انتظار کیا جائے اور انتخابات کا جو بھی نتیجہ سامنے آئے اسے خوش دلی کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ ایسا ہوگا تو پاکستان خوشحال بنے گا ورنہ اپنے ہاتھوں جو درگت ہم بنا چکے ہیں اس کے بہتر ہونے کے فی الحال کوئی امکانات دور دور تک نظر نہیں آ رہے ہیں۔