وزیراعظم کی ہداہت پر موسمیاتی تبدیلی ٹاسک فورس قائم 

215
Climate change

  اسلام آباد: وزیرِ اعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی پر فوری طور پر ٹاسک فورس قائم  کر دی گئی ۔ ٹاسک فورس میں متعلقہ وفاقی وزراء ، سیکٹریز، صوبائی چیف سیکٹریز و متعلقہ صوبائی سیکٹریز، چیئرمین NDMA اور دیگر اداروں کے اعلی افسران شامل ہیں۔

وزیرِ اعظم  نے  ہدایت کی  ٹاسک فورس ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، شسپر گلیشئیر واقعے جیسے واقعات سے مسقبل میں بچاؤ، غذائی اور پانی کی قلت سے بچنے کیلئے اقدامات، پانی کے بچاؤ و موجودہ ذخائر کی حفاظت اور جنگلات کے تحفظ کیلئے جامع حکمتِ عملی مرتب کرکے فوری عمل درآمد کیلئے اقدامات کرے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت حالیہ گرمی کی شدید لہر  اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر اعلی سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد  ہوا ۔ اجلاس میں وفاقی وزراء  سید خورشید شاہ، شیری رحمن، احساس الرحمن مزاری، طارق بشیر چیمہ، مریم اورنگزیب، چیئرمین  NDMA لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز، اور متعلقہ اداروں کے افسران کی شرکت. وفاقی وزیرِ تعلیم رانا تنویر حسین اور صوبائی چہف سیکٹریز کی وڈیو لنک کے ذریعے شرکت  کی۔

اجلاس کو حالیہ گرمی کی شدید لہر کے بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ گرمی کی شدید لہر کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے. پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر سب سے ذیادہ نتاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ملک ہے. اسکے علاوہ پاکستان کو گلیشیئرز کے بڑے ذخائر ہونے کے باوجود پانی کی کمی کا خطرہ بھی لاحق کے، اس سب کے براہِ راست اثرات پاکستان کی زراعت پر مرتب ہوتے ہیں.۔

وزیرِ اعظم نے  ہنگامی بنیادوں پر اس حوالے سے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی ۔  وزیرِ اعظم. نے کہا پانی کے بچاؤ کیلئے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے بھی آئندہ مون سون سے پہلے فوری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔   وزیرِ اعظم کو چولستان میں پانی کی قلت پر بھی بریفنگ دی گئی.۔ وزیرِ اعظم  نے ہدائت کی  کہ  چولستان میں انسانی بستیوں اور جانوروں کیلئے پانی کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔