امریکی غلامی نا منظور!کیا یہ ممکن ہے

355

دوسری قسط
امریکی غلامی کوئی محدود، وقتی اور سطحی حقیقت نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ سے ملاقات یا صدر بائیڈن کا عدم التفات یا الہان عمر کی صورت کسی امریکی وفد کی عمران خان یا آرمی چیف سے بات چیت!!! امریکی غلامی کا حلقہ اس سے متاثر نہیں ہوتا۔ پاکستان جیسے ملکوں کی جکڑ بندی کرنے والا یہ نظام اتنا کمزور، ناقص اور محدود نہیں ہے۔ یہ بڑی باریک بینی سے تیار کردہ ایک مربوط اور منظم نظام ہے جس سے امریکا کی غلامی نا منظور جیسے نعرے لگا کر یا امریکی صدور اور انتظامیہ سے ذاتی روابط استوار کرکے نجات حاصل نہیں کی جاسکتی۔ امریکا نے ہمارے جیسے ممالک کو اپنے قابو میں رکھنے اور کنٹرول کرنے کے لیے جو نظام تشکیل دیا ہے اس کے چار بنیادی ستون یا میکنزم ہیں:
اوّل بین الاقوامی ادارے اور بین الاقوامی قوانین۔۔ بین الاقوامی اداروں سے مراد ہے اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف، آئی اے ای اے (انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی)، ایس ڈی جی گولز (سسٹین ایبل ڈیو لیپمنٹ گولز)، مذ ہبی آزادی کے چارٹس، انسانی حقوق کی رینکگز، بین الاقوامی عدالت انصاف، ورلڈ بینک وغیرہ۔ ان اداروں کی پاکستان میں پہنچ اور دخل اندازی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے سے پہلے وزارت خزانہ، ایف بی آر، وزارت پٹرولیم، وزارت توانائی اور وزارت معیشت کا ڈیٹا اور اکائونٹس ’’پوری دیانت داری کے ساتھ‘‘ آئی ایم ایف کے کے سامنے رکھے جاتے ہیں، ان کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور اس کے بعد درخواست کی جاتی ہے کہ حضور یہ ہے ہماری حالت، اب آپ رہنمائی کیجیے کہ ہم کیا کریں۔ حکومت سنبھالتے ہی مفتاح اسماعیل جب واشنگٹن جارہے تھے تو انہوں نے اسی ایمانداری کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا ’’ہم اکائونٹس کے اندرگڑ بڑ نہیں کریں گے صاف اور سیدھی بات ان کو بتائیں گے‘‘۔ ان تمام محکموں کے اکائونٹس دیکھ کر آئی ایم ایف فیصلہ کرتا ہے کہاں سبسڈی دینی ہے کہاں کم یا ختم کرنی ہے، کن کن شعبوں میں سرمایہ کاری کرنی ہے کن کن میں نہیں کرنی ہے، بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیا ہوں گی؟ جنرل سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں کیا اضافے کرنے ہیں، درآمدی ڈیوٹیز کتنی ہونی چاہییں، اس سال کا برامدی ہدف کیا ہوگا، مالی خسارہ کتنا ہوگا، پرائمری بیلنس کتنا ہوگا۔ یہ دفتر لے کر پاکستان میں ان ہدایات کو نافذ کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے تب کہیں جاکر ہمیں آئی ایم ایف سے 500 ملین یا ایک ارب ڈالر کی قسط ملتی ہے اس وارننگ کے ساتھ اگر ہدایات پر سختی سے عمل نہ کیا گیا تو آئندہ قسط روک لی جائے گی۔
اب آئیے ایف اے ٹی ایف۔۔ منی لانڈرنگ کی روک تھام کا ادارہ۔ جس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالاہوا ہے۔۔ سابقہ حکومت نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے وزیر خزانہ حماد اظہر کو ذمے داری سونپی کہ ایف اے ٹی ایف کے 27ایکشن پوائنٹس پر عمل کو یقینی بنایا جائے اس مقصد کے لیے اگر قوانین میں ترامیم کرنی ہیں ترامیم کرو، قانون پر عمل کرانے والے اداروں میں تبدیلیاں لانی ہیں تو اس کو یقینی بنائو، منی ٹراسفر کے قوانین میں ردوبدل کرنا ہے وہ کرو، کشمیر جہاد سے دستبردار ہونا ہے دستبردار ہوجائو، حافظ سعید کو 32سال سزا دلوانی ہے سزا دلوائو، جہادی اسٹرکچر ختم کرنا ہے ختم کرو، بینک قوانین میں ترمیم کرنی ہے ترمیم کرو۔ ان سب پر جی جان سے عمل کرنے کے بعد ایف اے ٹی ایف کو رپورٹ کی جاتی ہے وہ پھر بھی مطمئن نہیں ہوتا کہ دو پوائنٹس پر پوری طرح عمل نہیں ہوا ان پر بھی عمل کرکے آئندہ چھے ماہ بعد رپورٹ کرو پھر دیکھا جائے گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکا لنا ہے یا نہیں۔ برسوں سے ایسا ہی ہورہا ہے۔
پاکستان کی افغان اور کشمیر پالیسی اقوام متحدہ کے تابع ہے۔ ورلڈ بینک فیصلہ کرتا ہے کہ کون سے ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنا ہے، ڈیم بنانا ہے یا شاہراہیں اور سڑکیں تعمیر کرنی ہیں یا توانائی کے شعبے میں سرمایہ لگانا ہے کیونکہ اس کے لیے سرمایہ وہاں سے آئے گا۔ آئی اے ای اے۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام اور اثاثوں پر وہ چیک اور بیلنس رکھتا ہے، اس کے بارے میں رپورٹنگ اور اپ ڈیٹس مہیا کرتا ہے۔ عالمی عدالت انصاف پاکستان کی عدالتوں کے اوپر وہ سپر عدالت ہے۔ وہ فیصلہ کرتا ہے کہ کلبھوشن کو پھانسی چڑھانا ہے کہ نہیں۔ یہ اس پہلے ستون کے بارے میں چند گزارشات ہیں جن سے ہمیں زنجیر کیا گیا ہے۔ یہ کسی خط یا اسد مجید اور امریکی آفیسر کے درمیان سخت اور غیرسفارتی زبان استعمال کرنے تک محدود یا محض اس کا معاملہ نہیں ہے۔
اب آئیے دوسرے میکانزم پر بات کرتے ہیں۔ وہ ’’نظام یا سسٹم‘‘ جو ہمارے ملک میں نافذ ہیں۔ 1924 میں خلافت کے خاتمے کے بعد ’’نیشن اسٹیٹ کا نظام‘‘ جس کے ذریعے ہمیں 57چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کردیا گیا اور وہ قومی عصبیت پیدا کردی گئی جو امت مسلمہ کی آئیڈیالوجی سے متصادم ہے۔ جس کے بعد ہماری بھارتی سرحدوں پر امن ہے لیکن افغان سرحد مسلسل حالت جنگ میں ہے۔
پاکستان افغانستان پر بمباری کررہا ہے اور افغانستان سے پاکستان پر حملے کیے جارہے ہیں جن میں گزشتہ کئی مہینوں میں ہمارے 100سے زائد نوجوان شہید ہوچکے ہیں۔ وہاں کتنے شہید ہوئے معلوم نہیں۔ یوں مسلمانوں کی طاقت کو تتر بتر کردیا گیا ہے۔ ’’جمہوری نظام ‘‘، ظلم وستم کا دیو، جس میں حلال وحرام، جائز وناجائز کے پیمانے بدلتے رہتے ہیں۔ جس میں جو چاہیں جائز کروالیں۔ ملک کی آدھی دولت آئی ایم ایف کو دینا جائز ہے، عین قانونی ہے۔ جمہوریت میں چھوٹی چھوٹی چوریوں، موبائل، موٹر سائیکلیں چھیننے، جیبیں کترنے اور ڈاکے مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ سب قابل سزا جرم ہیں لیکن کروڑوں اربوں روپے کی چوریوں اور ڈاکوں پر کوئی گرفت نہیں، کوئی سزا نہیں۔ پانچ دس فی صد نیب کو ادائیگی کرکے، ایمنسٹی اسکیموں سے فائدہ اٹھاکر یہ سب حرام کی دولت حلال ہوجاتی ہے۔ یہ سب سیاستدان، جرنیل، سرمایہ کار مغرب کے فرنٹ مین ہیں جو یہاں کی دولت وہاں منتقل کرتے ہیں۔ یہ نظام ہے جس کے ذریعہ لوگوں کو صحت کی سہو لت جو 50ارب میں دی جاسکتی تھیں صحت کارڈ کی صورت 200 ارب میں دی جاتی ہیں تاکہ انشورنس کمپنیوں، نجی اسپتالوں اور وزراء کو پیسہ جاسکے جو عوام کی چمڑی اُدھیڑ کر نکالا جائے گا۔ جو علاج دس بیس ہزار میں ہوتا تھا اب لاکھوں روپے میں ہورہا ہے اور یہ سب قانونی ہے۔ ہمارا تیل، گیس، سونا، چا ندی، لوہا، کوئلہ، کوبالٹ، کرومیئم اس نظام میں کھربوں روپے کے معدنی ذخائر ہیں تین چار پانچ چھے فی صد رائلٹی پر عالمی کمپنیوں کو ٹھیکے پر دینا جائز اور قانونی ہے۔ زمین کے اندر ہماری دولت میں سے ہمیں محض پانچ چھے فی صد مل رہا باقی 94 یا 95فی صد عالمی کمپنیوں کو مل رہا ہے اور یہ لوٹ مار قانونی ہے۔ یہ وہ جدید نظام ہے جس پر چل کر ہم ترقی کی شاہراہ پر دوڑ سکتے ہیں!! اسمبلیوں میں منتخب ہو جائو اور کروڑوں اربوں سے کم کے سودوں میں ہاتھ مت ڈالو ورنہ پکڑے جائو گے۔ یہی اس نظام کے قانونی راستے ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ نظام میں غریب عوام کو لوٹ کران کی دولت آئی ایم ایف، ملٹی نیشنل کمپنیوں، بینکنگ مافیا اور انشورنس کمپنیوں کے پاس چلی جاتی ہے اور یہ تمام ڈاکا زنی جائز اور قانونی۔ اس نظام میں بجلی بنانے کا ٹھیکہ واپڈا سے لے کر آئی پی پیز کو دے دیا جاتا ہے اور وہ بجلی پیدا نہ بھی کریں تب بھی 900 ارب روپے انہیں ادا کیے جاتے ہیں وفاقی ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ۔ یہ ساری لوٹ مار قانونی ہے باقاعدہ معاہدوں کے تحت ہے جن سے حکومت پاکستان انکار نہیں کرسکتی کیونکہ درمیان میں ورلڈ بینک اور عالمی اداروں کی گارنٹیاں شامل ہیں جن سے ادنی سے انحراف کی صورت میں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ یہ ہے غلامی کا وہ مربوط اور منظم نظام جس کے خاتمے کا وہ شخص دعوے کررہا ہے جو ساڑھے تین سال پاکستان جیسے ملک کی چھوٹی سیی معیشت نہیں سنبھال سکا اور اس کا ستیاناس کردیا اور اب اس پیچیدہ عالمی نظام سے ٹکرانے کے دعوے کررہا ہے جس کی اے بی سی ڈی کا اسے علم نہیں۔ یا للعجب