بگڑتی معاشی صورتحال سے برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ

212

چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی) اور سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) زبیر موتی والا نے ملک میں جاری اور نہ ختم ہونے والے سیاسی لڑائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس جھگڑے نے پاکستان کی معیشت کے لیے تباہ کن صورتحال پیدا کردی ہے جو کہ پہلے ہی خوفناک حالت میں ہے اور تاجر و صنعتکار طبقے کو خدشہ ہے کہ اگر تمام سیاسی جماعتوں نے حالات کی سنگینی کو محسوس کرنے کی زحمت نہ کی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی جاری رکھی تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ چیئرمین بی ایم جی نے نشاندہی کی کہ مین اسٹریم اور سوشل میڈیا میں سیاسی لڑائی کا وسیع پیمانے پر پروپیگنڈہ پاکستان کے امیج کو متاثر کررہا ہے اور دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک انتہائی غیر مستحکم ملک کے طور پر پیش کرکے باقی دنیا کو ایک انتہائی منفی پیغام مل رہا ہے جو نہ تو ملک کے حق میں ہے اور ہی سیاسی جماعتوں کے حق میں۔ آج کل مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر سیاسی جنگ ہی نظر آتی ہے جبکہ اہم معاشی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے معیشت ایک بار پھر سنگین بحرانوں میں ڈوب رہی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارا وجود پاکستان کے وجود پر منحصر ہے۔اس لیے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر معیشت کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مشترکہ طور پر چارٹر آف اکانومی پر متفق ہوں جس کا کراچی چیمبر طویل عرصے سے مطالبہ کر رہا ہے۔ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر چارٹر آف اکانومی کے تحت جن اقتصادی پالیسیوں پر اتفاق کیا گیا اسے برقرار رکھتے ہوئے ان پر عمل درآمد کیا جائے اور جہاں تک معیشت کا تعلق ہے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر رہنا چاہیے۔سیاست کے بجائے معیشت کو کسی بھی قیمت پر ملک کی قیادت کرنی ہے اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور وہ قدم اٹھانا چاہیے جو پاکستان اور اس کی معیشت کے حق میں ہے۔ پاکستان کی بگڑتی معاشی صورتحال سے برآمدات بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ موجودہ حالات میں غیر ملکی خریدار مجموعی سیاسی اور معاشی عدم استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی آرڈر دینے سے گریزاں ہوں گے جس سے برآمدی ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستانی روپے کی قدر پاکستان کی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ بینک نہ تو دستاویزات ریٹائرکرہے ہیں اور نہ ہی کوئی دستاویزقبول کر رہے ہیں کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ادائیگی کے لیے کوئی ڈالر نہیں ہیں جو ایک انتہائی پریشان کن منظر نامہ پیدا کر رہا ہے جو کاروباری برادری کے حوصلے اور اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاجر برادری کا خیال ہے کہ یہ ساری گڑبڑ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور پاکستان کی معیشت اتنی خراب نہیں ہے کیونکہ پاکستان کی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور اداروں کی ایک دوسرے پر تنقید سے تاجر برادری کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ بیرون ملک پاکستانی اشیاء کے خریداروں کے درمیان اعتماد کی کمی کا باعث بنا کرتا ہے۔اگر تمام سیاسی جماعتیں سمجھداری کامظاہرہ نہیں کریں گی تو منظر نامہ مایوس کن نظر آتا ہے اور مزید بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے لہٰذا ہماری اپیل ہے کہ معیشت کو سیاسی مسائل سے الگ کرنا چاہیے اور پاکستان کی معیشت کو بچانے کے لیے حالات کو معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔پاکستان کی معیشت کو بچانا پاکستان کو بچانے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے یہ بھی اپیل کی کہ تمام سیاسی جماعتیں سیاسی جھگڑے اور الزام تراشی سے گریز کریں کیونکہ بین الاقوامی میدان میں پاکستان کا بگڑتا ہوا امیج اور اس کے نتیجے میں برآمدات میں کمی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگی اور پاکستان کی بقاء کو داؤ پر لگا دے گی۔ اس حوالے سے ایف پی سی سی آئی کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ معاشی اور کاروباری ماحول ایک ایسے موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں کاروباری برادری معاشی غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کے مطالبے کو جائز سمجھتی ہے، کاروبار ایسے سخت اور ناموافق حالات میں منافع بخش طریقے سے نہیں چل سکتے۔ عرفان اقبال شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی ریٹ کو جارحانہ انداز میں اس کی موجودہ 12.25 فیصد کی سطح سے کم کر کے 7 فیصد تک لایا جانا چاہیے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو رواں دواں رکھنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کے لیے قر ضو ں تک رسائی کو ممکن اور قابل برداشت بنا یا جا سکے۔ اس اقدام سے حکومت کی شارٹ ٹرم ڈیٹ سروسنگ میں 300 ارب روپے کی کمی واقع ہو گی اور بہتر بجٹ مینجمنٹ ممکن ہو سکے گی۔ صدرایف پی سی سی آئی نے پر سنل انکم ٹیکس سلیب کو موجودہ 11 سلیب سے کم کرکے 5 سے 7 سلیب تک کر کے ٹیکس کے نظام میں آسانی پیداکرنے کی تجویز پیش کی، آئی ایم ایف نے بھی اسی طرح کی سفارش کی ہے اور یہ اقدام چند ہی سالوں میں ٹیکس وصولی میں 200 ارب روپے تک کا اضافہ کر سکتا ہے۔ مسلسل خسارے میںرہنے والی اسٹیٹ اونڈ انٹر پرائزز کی وجہ سے بجٹ خسارے میں بہت اضافہ ہو رہا ہے اور اب ان میں ریفامز اور ان کی فیصلہ کن تنظیم نو کرنا بالکل ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ بجٹ خسارے میں ان کا حصہ 23 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ سگریٹ اور کاربونیٹیڈ ڈرنکس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے پرکرنے سے اضافی ریونیو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عوام الناس اور بالخصوص افرادی قوت کی صحت کو در پیش خطرات سے بچایا جا سکے جو کہ تمباکو نوشی اور ذیابیطس پیدا کرنے والے میٹھے مشروبات سے ان پر اثر انداز ہو رہے ہیں، اگر سگریٹ پر ایف ای ڈی کو 70 فیصد تک بڑھا دیا جائے تو پاکستان240 ارب روپے تک اضافی آمدن حاصل کرسکتا ہے۔کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر سلمان اسلم نے ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈالر کی قیمت 189 روپے سے تجاوز کر گئی ہے، عید سے قبل شروع ہونے والی روپے کی تنزلی نے معاشی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو دو محاذوں کا سامنا ہے، ایک تو ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور دوسری جانب زرمبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔ 10 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر میں دوست ملک سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کی رقم جو انہوں نے اسٹیٹ بینک میں تعاون کے طور پر رکھے ہیں شامل ہے۔ سعودی عرب کی امدادی رقم جو حکومت خرچ نہیں کرسکتی جس کے بعد 3 ماہ کے درآمدی بل کی ادائیگی کے ذخائر موجود نہیں۔ حکومت ہنگامی بنیادوں پر دوست ممالک سے مزید کسی بیل آؤٹ پیکیج کا انتظام کرے۔ آئی ایم ایف سے 1 ارب ڈالر کی قسط موصول ہوتی ہے تو وہ بھی مشکلات کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی بڑے بیل آؤٹ پیکیج کی ضرورت ہے جس سے فوری طور پر ذخائر میں اضافہ اور روپے پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے۔ آئی ایم ایف سے مذا کرات کو حتمی شکل دی جائے اور پاکستان کے قریبی دوست ممالک سے مزید تعاون حاصل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے حکومت کو تمام وسائل بروئے کار لانے ہوں گے، تاکہ معیشت کو سہارا مل سکے۔نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا کہ اہم فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے مارکیٹ میں اضطراب بڑھ رہا ہے جو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ حکومت اہم معاملات پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے ملکی مفاد کے مطابق فیصلے کرے۔ تیل اور بجلی کی قیمت میں اضافہ نہ کیا گیا تو آئی ایم ایف اور کوئی دوست ملک قرضہ نہیں دے گا جس سے معیشت مزید کمزور ہو تی جائے گی اور ملک دیوالیہ ہو جائے گا ۔ یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی) کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ ملکی معیشت،صنعت و تجارت، اور قومی برآمدات کے فروغ اور مضبوطی میں بزنس کمیونٹی کا کردار ہمیشہ ہر اول دستے کارہا ہے، نامساعد حالات کے باوجود ملک کے تاجروں اور صنعتکاروں نے قومی ترقی میں بھرپور حصہ لیا، حکومت کو چاہیے کہ صنعتی شعبے اور برآمدات کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے اورحکومت کومعاشی بہتری کے لیے غیرمقبول فیصلے بھی کرنا پڑے تو ضرور کیے جائیں۔خطے میں سب سے زیادہ توانائی کے نرخ پاکستان میں ہیں اوران حالات میں بجلی کے نرخ میں مزید اضافہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مشکلات سے دوچار کرے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ صنعتی پیداواری اداروں کے لیے توانائی کے نرخوں میں کمی لائے، ٹیکس نظام کو سہل و آسان بنایا جائے اور سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کی جائیں تو قومی معیشت مستحکم ہوگی۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں نعمان کبیر، سینئر نائب صدر میاں رحمن عزیز چن اور نائب صدر حارث عتیق نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ معیشت کے تمام شعبوں کو متاثر کرے گا جس سے معاشی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوگی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا ،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو روپے کی قدر کو کمزور کرنے والے عوامل پر فورا قابو پانا ہوگا جس سے کاروباری برادری کا اعتماد بھی بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے لوڈشیڈنگ جلد ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جو کہ حوصلہ افزا ہے تاہم صورتحال اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ توانائی تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کے لیے بنیادی ضرورت ہے جبکہ بلاتعطل اور سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنا کر ہی ملک کو تیز رفتار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی وافر دستیابی مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے جبکہ اس کی قلت سے ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ طلب اور رسد کے درمیان موجودہ فرق کی بنیادی وجہ بجلی کی پیداوار کے لیے فوسل فیول پر ملک کا انحصار ہے لہذا انہوں نے زور دیا کہ حکومت ملک کی بجلی کی پیداوار میں پن بجلی اور قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے پر خصوصی توجہ دے جس سے سستی بجلی پیدا ہو گی، توانائی بحران سے چھٹکارہ حاصل ہو گا اور کاروبارکی لاگت کم ہونے سے کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا۔جمشید اختر شیخ سینئر نائب صدر اور محمد فہیم نائب صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ حکومت کو توانائی کی پیداوار کے لیے مہنگے درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئیں اور بجلی کی پیداوار کے لیے سستے توانائی کے وسائل سے فائدہ اٹھانے پر توجہ دینی چاہیے جس سے تیل کے درآمدی بل میں زبردست کمی آئے گی اور پیداواری لاگت بھی کم ہو گی۔ انہوں نے توانائی کی بچت کے اقدامات پر
بھی زور دیا جس سے بھاری سرمائے کی بچت ہوگی، معیشت اور ماحولیات میں بہتری آئے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت توانائی پر انحصار کرنے والی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ وہ توانائی کی بچت کے اقدامات کو اپنائیں جس سے بے شمار مالی فوائد حاصل ہوں گے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیوپارٹس اینڈاسیسریزمینوفیکچررز(پاپام) کے سابق چیئرمین ،ڈائریکٹر مہران کمرشل اورآٹو ایکسپرٹ مشہودعلی خان نے کہا ہے کہ آٹوانڈسٹری اس وقت مثبت زون میں ہے،بجٹ چونکہ قریب ہے اور ہمیں انتظار ہے کہ حکومت بجٹ میں آٹو انڈسٹری کے لیے کیا سوچ رکھتی ہے،ہمارے لیے نئے مالی سال کا بجٹ بہت اہمیت کا حامل ہے کیو نکہ ڈالر اور جاپانی ین ڈی ویلیو ہورہا ہے اور اس سال کی تیسری سہ ماہی میں کچھ اثرات ہیں یہ خدشات ہیںکہ والیوم گرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے تاہم ابھی تک کی صورتحال بہتر ہے۔ ہمیں انتظار ہے کہ بجٹ میں حکومت پاکستان آٹو انڈسٹریز کے لیے کیا اقدامات اٹھاتی ہے ۔ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اسماعیل ستار نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل سے درخواست کی ہے کہ پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن (بی او پی) کی بگڑتی صورتحال کے باعث قومی بحران سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ ایسے اقدامات کو بروقت نہ اپنایا گیا تو مستقبل قریب میں پاکستان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قرضوں اور درآمدی ادائیگیوں میں مسلسل اضافہ پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن( بی او پی) کے بحران کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان کا موجودہ مالیاتی عدم توازن قرضوں کی تخلیق کی ضرورت سے زیادہ شرح کی وجہ سے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی درآمدات پچھلے مالی سال 2020-21 کے 44.7 ارب ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 2021-22 میں 65.5 ارب ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔مالی سال 2021-22 میں پاکستان نے 26.2 ارب ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کیں۔اس طرح کے خسارے کی ایک بڑی وجہ پاکستان کا پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اجناس کی قیمتیں آسمان کو چھونے کا باعث بنی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو آگے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ معیشت اس طرح کے اخراجات کو مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے پاکستان کا توانائی کا درآمدی بل رواں مالی سال میں تقریباً دوگنا ہو کر 14.81 ارب ڈالر ہو گیا ہے جو پچھلے سال کے 7.55 ارب ڈالر تھا۔ بی او پی خسارہ معیشت پر بہت زیادہ دباؤ کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے پہلے سے ہی محدود غیر ملکی ذخائر کا غیر مؤثر استعمال ہو رہا ہے۔
پاکستان اکانومی واچ کے چیئر مین بریگیڈئیر(ر) محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ حکومت آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد کرے تاکہ مہنگائی سے پریشان عوام کو منافع خوروں سے نجات اور کچھ ریلیف مل سکے۔ منافع خور گندم اور آٹے کی طلب اور رسد میں فرق کو مصنوعی طور پر بڑھا رہے ہیں جس سے ملک بھر میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں جو نئی حکومت کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔پانی کی کمی اور یوریا کی بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے گندم کی ملکی پیداوار میں زبردست کمی کے باوجود گزشتہ پانچ ماہ سے گندم درآمد کرنے کے بجائے زبانی جمع خرچ کو ترجیح دی گئی جبکہ اب عالمی منڈی میں گندم کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ روس اور یوکرین کے مابین جنگ ہے۔