بدترین لوڈشیڈنگ و پانی بحران،حافظ نعیم کی اپیل پر کراچی بھر میں احتجاجی مظاہرے ،کے ای ہیڈ آفس پر دھرنے کا انتباہ

170
کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے تحت شہر بھر میں غیر اعلانیہ بدترین لوڈشیڈنگ اور پانی کے شدید بحران پر کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کے خلاف جمعہ کو شہر بھر میں 100 سے زائد مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں شرکا نے حکومت کی نا اہلی اور بے حسی کے خلاف شدید نعرے لگائے ۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے لسبیلہ چوک پر پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہری شدید گرمی میں راتیں جاگ کر گزار نے پر مجبور ہیں، اگر 24گھنٹوں میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر دھرنا دیں گے۔ حکمران ساری مراعات کے الیکٹرک کو فراہم کر رہے ہیںلیکن 17سال گزرنے کے باجود کے الیکٹرک نے اپنے معاہدے پر عمل نہیں کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی ضلع قائدین و بلدیہ عظمیٰ کراچی میں جماعت اسلامی کے سابق پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ امیر ضلع قائدین سیف الدین ایڈووکیٹ نائب امیر ضلع نصیر اللہ حسینی ،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک ہمیشہ کہتی ہے کہ ہم نئے پاور پلانٹس چلانے والے ہیں لیکن نہیں چلائے جاتے ، بن قاسم پلانٹIII بار بار اعلان کے باوجود تاحال فعال نہیں کیا گیا ، عوام گرمی سے تڑپ رہے ہیں اور وزراء لندن میں بیٹھے ہیں ، ہم وزیر توانائی وبجلی خرم دستگیر سے پوچھتے ہیں کہ ملک بھر میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے اعلانات کے باوجود کراچی میں اتنی طویل لوڈشیڈنگ کیوں ہو رہی ہے ؟ کیا کراچی پاکستان کا حصہ نہیں ہے ۔ ؟ کے الیکٹرک بل جمع کروانے کے باوجود کنکشن کاٹ دیتی ہے لیکن خود سوئی سدرن گیس کمپنی کے اربوں روپے کی نادہندہ ہے ،ہم حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ اس ادارے کا لائسنس کیوں منسوخ نہیںکیا جاتا ۔ کراچی کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کافارنزک آڈٹ کروایا جائے ۔ ادارے کو قومی تحویل میں لیا جائے اور اس کی اجارہ داری ختم کر کے دیگر کمپنیوں کو شیئرز دیے جائیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کراچی کے مختلف مقامات پر پمپنگ اسٹیشن بھی کام نہیں کر رہے ہیں جس کہ وجہ سے پانی کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے ، واٹر بورڈ کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کے خلاف 20مئی کو واٹر بورڈ ہیڈ آفس پر دھرنا یا جائے گا ۔ جنید مکاتی نے کہا کہ شدید گرمی میں پھر سے کے الیکٹرک کی غنڈہ گردی شروع ہو گئی ہے ۔ ہم نے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بھی کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے کی قرار داد پیش کی تھی لیکن نا اہل اور مفاد پرست حکمرانوں نے مسترد کر دی ۔ آج تک کسی بھی حکمران پارٹی کے ایم این اے نہ ہی ایم پی اے نے کے الیکٹرک کے خلاف آواز اُٹھائی ، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی ، انہیں ان کا حق ضرور دلوائے گی اور حکومت کو مجبور کرے گی کہ پانی کے بحران کے مسئلے کو مستقل حل کرنے کے لیے K-4منصوبہ فوری طور پر مکمل کیا جائے ۔ دریں اثناء جماعت اسلامی کے تحت سخت گرمی اور ہیٹ ویوز کے باوجود شہر میں بدترین لوڈشیڈنگ اورپانی کی عدم فراہمی کے خلاف جمعہ کو تمام اضلاع میں 100سے زائد مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے‘ مظاہرے نماز جمعہ کے بعد مساجد کے باہر اور اہم پبلک مقامات پر کیے گئے جن سے امرائے اضلاع سید عبد الرشید ، فاروق نعمت اللہ ، وجیہ الحسن ، محمد یوسف ، توفیق الدین صدیقی، محمد اسلام ،عبد الجمیل خان ، مدثر حسین انصاری ، فضل احد حنیف ، ضلع شرقی کے نائب امیر انجینئر عزیز الدین ظفر اور دیگر نے خطاب کیا ۔ مظاہروں کے شرکا نے ہاتھوں میں بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈزاُٹھائے ہوئے تھے جن پر وفاقی و صوبائی حکومتوں ، نیپرا ، کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کے خلاف مختلف عبارتیں درج تھیں ۔ مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی کے الیکٹرک کی سرپرستی کر رہی ہے اور اہل کراچی پر سخت گرمی اور ہیٹ ویوو کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے کی جانے والی بدترین لوڈشیڈنگ پر اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ، کے الیکٹرک کو اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافے پر مجبور کرنے کے بجائے اسے مسلسل سبسڈی دی جارہی ہے اسی وجہ سے ایک پرائیویٹ کمپنی شہر میں مافیا بن گئی ہے ۔ مقررین نے مزید کہا کہ شہر میں پہلے ہی پانی کی قلت ایک بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے اور کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے ،17سال ہو گئے کراچی کے لیے ایک گیلن پانی کا اضافہ نہیں کیا گیا ۔ پانی کا آخری منصوبہ K-3نعمت اللہ خان کے دور میں مکمل کیا گیا تھا اور K-4منصوبہ شروع کیا گیا مگر بد قسمتی سے ان کے بعد آنے والی سٹی اور سندھ حکومت نے مل کر اس منصوبے کو تعطل کا شکار کیا ۔ جو آج تک مکمل نہ ہو سکا ۔ نواز لیگ ، پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی وفاقی و صوبائی حکومتیں بنیں لیکن افسوس کہ سٹی حکومت نے K-4منصوبہ مکمل نہ کیا اگر یہ منصوبہ بر وقت مکمل ہو جاتا تو شہر میں پانی کی قلت اور بحران کی موجودہ سنگین اور بدترین صورتحال نہ ہو تی ۔