سینیٹ میں بھی اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری ،حزب اختلاف کے 9 ارکان غائب ،فواد چوہدری کا اظہار تشکر

228

اسلام آباد/لاہور(آئی این پی+آن لائن+ نمائندہ جسارت)سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کے باجود حکومت نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کرلیا۔خیال رہے کہ سینیٹ اپوزیشن ارکان کی تعداد 57 جبکہ حکومت ارکان کی تعداد 42 ہے۔ جمعہ کو اہم موقع پر قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی سمیت اپوزیشن کے 9ارکان غائب رہے، غیر حاضر سینیٹرز کا تعلق پیپلزپارٹی ، ن لیگ ، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) ،عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں ہوا جس میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پر رائے شماری کرائی گئی جس میں بل کے حق میں 42 اور مخالفت میںبھی 42 ووٹ آئے۔چیئرمین سینیٹ نے بھی ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا۔اس طرح بل کے حق میں43ووٹ ہوگئے جس کے نتیجے میں صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے ترمیمی بل منظور ہوگیا۔ اے این پی کے عمر فاروق کانسی بل کی منظوری کے وقت ایوان سے نکل گئے جب کہ اپوزیشن کے دلاور خان گروپ نے حکومت کو ووٹ دیا۔اپوزیشن نے ایوان میں شور شرابا کیا اور آئی ایم ایف کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ پر حکومت کی طرفداری کا الزام عاید کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔چیئرمین سینیٹ نے بل پر رائے شماری کے بعد اجلاس پیر تک ملتوی کردیا گیا۔بعد ازاں لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی سینیٹ سے منظوری پر یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے بالواسطہ حکومت کا ساتھ دیا،پیپلز پارٹی نے ملک کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ آج اپوزیشن کو اس ایوان میں بھی شکست ہوئی جہاں اسے نام نہاد اکثریت حاصل ہے،یہ وہ اپوزیشن ہے جو تحریک عدم اعتماد کا خواب دیکھ رہی تھی، سینیٹ میں کاغذوں میں اکثریت رکھنے والی اپوزیشن اتنی اہل بھی نہیں کہ اسٹیٹ بینک کے ترمیمی بل کی منظوری کو روک سکتی ، اپوزیشن چوں چوں کا مربہ ہے ، ان کی کوئی لیڈر شپ نہیں، ن لیگ میں اس وقت لیڈر شپ کی لڑائی اپنے عروج پر ہے ،اسی طرح پیپلز پارٹی میں کس کوکیا بات کرنی ہے کسی کو کوئی پتا نہیں۔ان کا کہنا تھاکہ مولانا فضل الرحمن اپنا منجن اور حلوہ بیچنے کے چکر میں ہیں، ق لیگ سے پوچھا جائے کہ وہ بات کرنے کے بجائے پریس ریلیز کا سہارا کیوں لیتے ہیں،قلیگ اہم اتحادی ہے، اتحادیوں کے ساتھ پہلے بھی معاملات حل کیے، اب بھی معاملات ٹھیک ہیں۔وفاقی وزیرنے کہا کہ سینیٹ سے بل کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہو گئیں، اسٹیٹ بینک کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا گیا، آئی ایم ایف کے معاہدے سے کریڈٹ ریٹنگز بہتر ہو جاتی ہیں۔فواد چودھری نے دعویٰ کیا کہ شاہد خاقان عباسی اور کچھ دوست نواز شریف کے خلاف عدم اعتماد لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، نواز شریف آ نہیں رہے بلکہ انہیں لایا جا رہا ہے جبکہ کوٹ لکھپت جیل میں ان کے لیے نئے کمرے اور باتھ روم تیار کروا رہے ہیں۔راوی اربن پروجیکٹ پر بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ عدالتیں جب بھی پالیسی کیسز میں گئی ہیں اس کا فائدہ نہیں ہوا، جب بھی عدالت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے ، ملک کو نقصان ہوا ہے۔