کراچی کو حق دینے کا آغاز کالے بلدیاتی قانون کے خاتمے سے کیا جائے ، جماعت اسلامی

437

کالے بلدیاتی قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے تحت جاری دھرنا27ویں رو زمیں داخل ہوگیا ، شرکا کے اندر جوش وخروش، مطالبات کی منظوری کے لیے پرعزم ، اندرون سندھ و بلوچستان سے وفود کی آمد اور دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکا اور مختلف وفود و میڈیا سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ساتھ برسوں سے جاری ناروا سلوک،ظلم و زیادتی،ناانصافی اور حق تلفی کا عمل اب ختم ہونا چاہیے،کراچی اپنا پورا حق لے کر رہے گا،مسائل کے حل اور حقوق کی بحالی کالے بلدیاتی قانون کے خاتمے سے شروع ہوگی،سندھ حکومت کراچی کو بلدیاتی اختیارات دے،شہری ادارے اور محکمے واپس کرے،سندھ حکومت این ایف سی ایوارڈ پر تو بہت شور مچاتی ہے لیکن پی ایف سی ایوارڈ نہیں دیتی ،کراچی کو حق دینے کا آغاز کالے بلدیاتی قانون کے خاتمے سے کیا جائے ،وفاقی حکومت سے بھی کراچی کا حق لیں گے،جعلی مردم شماری کی منظوری دے کر جس میں کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کردیا گیا ہے، کراچی کے وسائل اور نمائندگی پر ڈاکا ڈالا گیا ہے،کوٹا سسٹم کی غیر معینہ مدت تک توسیع کراچی کے نوجوانوں کی حق تلفی اور مستقبل کو تاریک کرنے کا عمل ہے جس کی ذمے دار ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی ہیں،کالے بلدیاتی قانون کے خلاف دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا،تھکیں گے نہ جھکیں گے ،کراچی کے حقوق پر مبنی مطالبات سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے ،احتجاج اور دھرنوں کا دائرہ وسیع کریں گے ، شہر کے 5اہم مقامات پر دھرنے دیں گے ،آج کراچی آرٹ کمپٹیشن ہوگا جس میں جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات پوسٹر ڈیزائنگ ،کیلی گرافی اور مختلف پروجیکٹس کے ذریعے شہر کے مسائل کو اجاگر کریں گے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلاول زرداری ہاریوں اور کھاد کے لیے ریلیاں نکال رہے ہیں ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہاریوں کو کھاد ملے ،فصلیں لہلہائیں لیکن بلاول یہ بھی بتائیں کہ کیا انہوں نے سندھ کے ہاریوں اور کسانوں کو اتنا بااختیار اور مضبوط بنایا ہے کہ وہ اپنے وڈیرے کے سامنے کھڑے ہوسکیں اور مطالبہ کرسکیں کہ ان کو کم از کم تنخواہ 20،25ہزار روپے دی جائے،وہ بے چارے تو اپنی شادیاں بھی وڈیروں،جاگیرداروں کی مرضی کے بغیر نہیں کرسکتے،بلاول زرداری سندھ کے مظلوم و محکوم عوام کو ان کا حق دو،صرف تقریروں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا عملی اقدامات کرو،لاڑکانہ،کندھ کوٹ،شکار پور،جیکب آباد،میرپور خاص،نواب شاہ،حیدرآباد سب کو بااختیار شہری حکومت کا نظام دو اور کراچی جو ساڑھے 3 کروڑ کی آبادی کا شہر ہے اسے میگا سٹی کا درجہ دو اور اسی حساب سے اختیارات اور وسائل دو۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم ان لوگوں کے لیے بھی دھرنا دے رہے ہیں جن کو پیپلزپارٹی استعمال تو کرتی ہے لیکن بااختیار نہیں بناتی کیونکہ اصل اختیارات تو وڈیروں اور جاگیر داروں کے پاس ہی ہیں اور اسی بل بوتے پر جبری طور پر اکثریت حاصل کی جاتی ہے،اب اکثریت کے نام پر آمریت اورآئین سے متصادم اکثریت کے فیصلے اور اقدامات نہیں چلیں گے،ہمارے تمام مطالبات جائز وقانونی ہیں اور ہم کراچی کے لیے آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت اختیارات اور وسائل مانگ رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کوٹا سسٹم 1973ء میں10 سال کے لیے صرف اس لیے نافذ کیا گیا تھا کہ اندرون سندھ کے عوام کو اس قابل کیا جائے کہ وہ آگے بڑھ سکیں،پھر جنرل ضیا کے دور میں 10سال اور پھر نواز شریف اور ایم کیو ایم نے مزید 20سال اور ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے غیر معینہ مدت تک توسیع کردی ہے،شرم کا مقام ہے سندھ کے حکمرانوں کے لیے جو اندرون سندھ کے عوام کو میرٹ پر آنے کے قابل نہیں بناسکے،بلاول زرداری بتائیں پیپلزپارٹی سندھ میں طویل اقتدارکاعرصہ گزار چکی ہے سندھ کے عوام کی حالت بد سے بدتر کیوں ہوتی جارہی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم ٹنڈوالہ یار کے افسوسناک واقعات ،قتل اور سندھ حکومت اور پولیس کی طرف سے قاتلوں کی سرپرستی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور دونوں طرف سے لسانیت کوبھڑکانے کی کوششوںکو مسترد کرتے ہیں،ماضی میں لسانی بنیاد پر لوگوں کو لڑانے والے آج رسوا ہوچکے ہیں،ایک بار پھر لسانیت اور عصبیت پھیلانے والوں کی سازشوں کو اہل کراچی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور سندھ اسمبلی پر دھرنا اس کا ثبوت اور علامت ہے۔