معاشی سقوط

419

پاکستان کا معاشی سقوط (The Fall of Economy) ہو چکا ہے۔ ملک پر مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور بدترین حکمرانی کے گہرے سائے چھاگئے ہیں۔ ملکی سالمیت، پارلیمنٹ دفاع اور پوری معیشت کو عالمی ساہوکاروں عالمی بینک، آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف نے اپنے شکنجوں میں جکڑ لیا ہے۔ آج ملک کا ہر شہری چاہے وہ امیر ہو یا غریب، کسان ہو یا ہاری، مزدور ہو یا دکاندار، کاروباری ہو یا صنعت کار، طالب علم ہو یا استاد، خواتین ہوں یا بچے، بوڑھے ہوں یا جوان ہر کوئی ظالمانہ ٹیکسوں اور مہنگائی کی وجہ سے کراہ رہا ہے اور کسی انقلاب کا منتظر ہے۔
آمرانہ حکومتوں اور نام نہاد جمہوری حکومتوں کا عوام کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک رہا ہے۔ پرویز مشرف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی حکومتوں نے عوام پر مہنگائی اور بے روزگاری کے ایک ہی جیسے ڈونگرے برسائے ہیں۔ سب کا طرز حکمرانی اور طریقۂ واردات ایک جیسا رہا ہے۔ اپنی حکومتوں کو دوام دینے کے لیے انہوں نے ملکی اور عالمی قوتوں کے ساتھ ساز باز کی۔ پرویز مشرف نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘، پیپلز پارٹی نے ’’مساوات، روٹی کپڑا اور مکان‘‘، مسلم لیگ نے ’’اقدار اور ترقی‘‘ اور تحریک انصاف نے ’’احتساب اور انصاف‘‘ کے نام پر سستی شہرت تو حاصل کی مگر مساوات آئی نہ اقدار اور نہ احتساب ہوا۔ مقتدر قوتوں نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے بعد عمران خان کو نجات دہندہ بنا کر پیش کیا لیکن وہ اپنی حکومت مافیا اور آئی ایم ایف کے حوالے کر بیٹھے۔
تحریک انصاف کے سوا تین سالہ دور میں کئی بحران قوم کو لوٹ کر لے گئے۔ ادویات کے اسکینڈل میں وفاقی وزیرصحت کا نام سامنے آیا تو اسے تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا۔ چینی کا بحران آیا تو اس میں وفاقی وزراء ملوث نکلے جنہوں نے ملکی خزانہ اور عوام کی جیبوں پر 184ارب روپے کا ڈاکا ڈالا۔ آٹے اور گندم کا بحران آیا تو اس میں ملوث صوبائی اور وفاقی وزراء نے قومی خزانے اور غریب عوام کی جیب پر 220 ارب روپے کا دوسرا ڈاکا ڈالا۔ بدترین گورننس کی وجہ سے پٹرول بحران میں قومی خزانے کو تحریک انصاف حکومت نے 25ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ توانائی بحران میں وفاقی حکومت کی آشیر باد سے آئی پی پیز نے 350 ارب روپے کا غیر منصفانہ منافع کمایا۔ ایل این جی کے اسکینڈل میں حکومتی نالائقی نے قومی خزانے کو 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔ پاناما لیکس اور پنڈورا لیکس میں وفاقی اور صوبائی وزراء فیصل وائوڈا، شوکت ترین اور علیم خان سمیت بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور اعلیٰ سابق سول اور فوجی افسروں کے نام آئے۔ یہاں تک کہ کووڈ کے فنڈ میں بھی 300ارب روپے کی کرپشن کی خبریں سامنے آئیں۔ لیکن خدا کا غضب عمران خان نے اِن مافیاز کے خلاف کارروائی کی، نہ بحرانوں کے ذمے داروں کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کیا۔ جو کیس نیب میں چلائے گئے، نیب نے کرپٹ لوگوں کے احتساب کے بجائے انتقام اور میڈیا ٹرائل کا سہارا لیا اور کسی ایک کیس کا فیصلہ بھی نہ کرسکا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے سوا تین سال میں پٹرول اور اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں 110 فی صد اضافہ ہوا جبکہ13مرتبہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ 2019ء میں پٹرول فی لیٹر قیمت 103.69 روپے تھی جو بڑھ کر 150روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کی وجہ سے کھاد کا بحران پیدا ہوا تو ایک بوری 9500 روپے تک پہنچ گئی۔ اسٹل ملز، ریلویز اور پی آئی اے کا خسارہ 234 ارب تک پہنچ گیا۔ روپے کی قدر ’’افغانی‘‘ سے بھی کم ہو گئی۔ 2018ء میں 122.85 روپے کا ایک ڈالر تھا جو اب 177روپے کا ہو گیا ہے۔ قرض لینے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دینے والے عمران خان حکومت میں کل قومی قرضہ 56ہزار 350 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ معاشی عدم استحکام کی وجہ سیاسی دورِحکومت میں اسٹاک ایکس چینج کرش ہوئی تو حصہ داروں کے 3کھرب 32ارب روپے ڈوب گئے۔
وزیراعظم نے عوام سے درجنوں وعدے کیے جن میں سے ایک وعدہ ایک کروڑ نوکریاںدینے کا تھا مگر روزگار تو کیا اْلٹا سوا دو کروڑ افراد اْن کی وزارت عظمیٰ میں بے روزگار ہو گئے جبکہ 5لاکھ نوجوان ڈگریاں لیے ملازمتوں کا انتظار کرتے رہ گئے۔ وزیراعظم نے نوید سْنائی کہ 2022ء پاکستان کی اقتصادی ترقی کا سال ہو گا مگر سالِ نو میں قوم کو مِنی بجٹ کا تحفہ دیدیا۔ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرض حاصل کرنے کے عوض عوام پر 360ارب روپے کے نئے ٹیکس لگا دیے۔ ڈبل روٹی، دودھ اورنمک پر ٹیکس لگانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ پٹرول، آٹا، چینی، گھی، چائے، سبزیاں، انڈے اور ادویات کی قیمت میں نہ صرف ہوشربا اضافہ کیا بلکہ کئی اشیاء پر ٹیکس چھوٹ کے خاتمے کے علاوہ ادویات پر 160ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ بھی واپس لے لی مگر اشرافیہ اور اْمراء کو دی گئی ساڑھے چار کھرب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس نہ لی۔ بعدازاں یہ کہہ کر عوام کے زخموں پر نمک چھڑک دیا کہ مِنی بجٹ سے عوام پر بوجھ نہیں پڑے گا۔
حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر رضا باقر کو پہلے گورنر اسٹیٹ بینک مقرر کیا اور پھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خود مختاری دے کر گورنر کو عملاً مالیاتی وائسرائے بنادیا اور اس کی ماہانہ تنخواہ کو عوام سے مخفی رکھ کر ہر خاص و عام کو یہ پیغام دے دیا کہ وہ ریاست کے ماتحت ہیں، نہ آئین ِ پاکستان کے تحت پارلیمنٹ اور حکومت کو جوابدہ۔
2022ء کے مِنی بجٹ اور اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے بِل کو منظور ہونے سے روکا جاسکتا تھا مگر اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے عوام کے معاشی قتل اور ریاست کی نظریاتی اور معاشی آزادی کے خاتمے کے وقت حکومت کا ساتھ دیا۔ اْنہوں نے ایسا تعاون ایف اے ٹی ایف کے دباؤ پر قانون سازی کے وقت بھی کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتیں چاہتیں تو مِنی بجٹ میں سبسڈی اور ٹیکسوں پر چھوٹ کے خاتمے اور اشائے خورو نوش سمیت پٹرول، بجلی، آٹا،گھی،گیس کی قیمتوں میں اضافے کو روک کر عوام کا ساتھ دے سکتی تھی۔ وہ مہنگائی اور معاشی غلامی کے خلاف راست اقدام بھی اْٹھا سکتی تھی مگر اْس نے صرف سیاسی پوئنٹ اسکورنگ کی کیونکہ اپوزیشن جانتی تھی کہ موجودہ حکومت کے خاتمے کے بعد اْنہیں بھی آئی ایم ایف اور مقتدر قوتوں کی ڈکٹیشن پر ہی چلنا ہے۔
ملک کے اس معاشی سقوط پر ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے تاہم پی ٹی آئی حکومت میں فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیرمین شِبرزیدی نے سلطانی گواہی دی ہے کہ ملک کا معاشی دیوالیہ (Default) ہو چکا ہے جبکہ موجودہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے برطانیہ جا کر انکشاف کیاکہ آئی ایم ایف کا قرض لینے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف کو سب کچھ لکھ کر دے دیا ہے یعنی ملک گروی رکھ دیا گیا ہے۔ اس خطرناک معاشی سقوط پر بھی بڑی سیاسی جماعتوں نے سیاسی نقارخانے میں آواز بلند نہیں کی۔ صرف جماعت اسلامی پاکستان نے مہنگائی اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات کے لیے قومی سطح پر احتجاجی تحریک چلانے اور 101 دھرنوں کا اعلان کیا اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مِنی بجٹ واپس لے۔ آٹا، گھی، پٹرول اور بجلی کی قیمت میں فوری طور پر 50فی صد کمی کرے۔ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے دباؤ پر کی گئی قانون سازی منسوخ کرے، گورنر اسٹیٹ بینک باقر رضا کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کرے اور سْودی معیشت کے خاتمے کا اعلان کرے ورنہ مستعفی ہو جائے۔
ملک کی معاشی آزادی، یکجہتی، سالمیت، خود مختاری اور دفاع کی خاطر اور بدترین مہنگائی اور بے روزگاری خلاف اس عوامی جدوجہد میں اگر بڑی سیاسی جماعتیں، نوجوان، خواتین، طلبہ و طالبات، دانشورو، صحافی، اساتذہ، مزدور، صنعت کار، کارخانہ دار، کسان، دکاندار، ڈاکٹر، انجینئر اور تاجر بھی دل و جان سے شامل ہوگئے تو حکومت کو مطالبات منظور کرنے یا مستعفی ہونے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔