جنم جنم کے نیرو اور جلتا روم

377

اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر نئے انداز سے حکومت پر حملہ آور ہیں۔ اس بار اس کا جواز منی بجٹ یا نیا اقتصادی بل ہے۔ یہ بل آئی ایم ایف کی نئی قسط کے لیے پیش کی جانے والی شرائط کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس بل سے مہنگائی کا ایک اور سیلابی ریلا سارے بند توڑکر گزرنے کو تیار ہے۔ نئے مالیاتی بل کی منظوری چند قدم کی دوری پر ہے اور مہنگائی کا جن پہلے ہی دندناتا پھر رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس صورت حال سے فائدہ اُٹھا کر حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کی تدابیر سوچ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی لانگ مارچ کی تیاریاں کر رہی ہے تو مسلم لیگ ن ان ہائوس تبدیلی کے لیے سوچ وبچار کر رہی ہے۔ کبھی مسلم لیگ ن مارچ کراتی ہے اور عوامی احتجاج کے ذریعے دیسی ساختہ انقلاب برپا کرنے پر یقین رکھتی اور پیپلزپارٹی ایوان کے اندر جمع تفریق کرکے تبدیلی کے اندر سے تبدیلی کی فلاسفی اپناتی ہے تو کبھی سوچیں اور کردار بدل جاتے ہیں۔ اب آصف زرداری نے ایک بار پھر پی ڈی ایم میں واپسی کو خارج ازامکان قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کے دونوں دھڑے مل جائیں تو واقعی تبدیلی کے اندر سے تبدیلی برآمد ہو سکتی ہے۔ دونوں دھڑے اچھے بھلے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر متحد تھے اور قریب تھا کہ دونوں میثاق جمہوریت کے جذبے کے تحت کوئی انقلاب برپا کریں مگر پھر کراچی میں مزار قائد پر کیپٹن صفدر کی نعرے بازی سے شروع ہونے والے خاموش بحران نے اپوزیشن کے تناور درخت کو اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کیا۔ گلگت بلتستان کی انتخابی مہم زوروں پر تھی۔ گمان تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اس الیکشن میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کوئی مشترکہ معجزہ دکھائیں گی۔ دونوں واقعی اتحادی جذبے اور میثاق جمہوریت کے جوش وخروش سے یہاں مل جاتیں تو گلگت بلتستان میں کوئی کرشمہ دکھا سکتی تھیں مگر ایسا نہ ہوسکا۔ کراچی ہوٹل سے کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر بلاول منقا زیرپا تھے کہ اچانک ایک ٹیلی فون کال نے ان کا رخ کراچی سے گلگت موڑ دیا۔ وہ چترالی ٹوپی اور چغہ پہن کر برف پوش وادیوں میں انتخابی مہم کو گرماتے رہے، دریائی جلسوں سے خطاب کرتے رہے پیچھے پی ڈی ایم کا گرم محاذ سوُنا اور بے رونق ہوتا چلا گیا۔ مریم نواز بھی ان کے پیچھے پیچھے گلگت کی مہم میں سرگرم ہوئیں۔ نئی نسل کے دونوں راہنمائوں میں گلگت کی یخ بستہ شام کو میثاق جمہوریت کی تجدید کے انداز میں ملاقات کا فوٹو سیشن بھی ہوا مگر پی ڈی ایم کی جو اُلٹی گنتی شہر قائد سے شروع ہو چکی تھی بعد میں رک نہ سکی۔
پیپلز پارٹی نے اقتدار کی راہداریوں میں قدم رکھنے کا فیصلہ اسی انداز میں کیا تھا جس طرح میثاق جمہوریت کے باوجود دبئی میں جنرل مشرف کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور پیپلز پارٹی کے مرحوم راہنما جہانگیر بدر اپنے روایتی انداز میں جنرل مشرف کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے اگلے ہی لمحے کہتے تھے کہ مذاکرات تو نہیں البتہ ڈائیلاگ ضرور ہورہے ہیں پھر وہ ٹی وی ناظرین اور اینکرز کو مذاکرات اور ڈائیلاگ کا فرق سمجھانے میں باقی وقت صرف کرتے تھے۔ یہ ڈائیلاگ تھے یا مذاکرات مگر یہ بات طے ہے کہ اسی عمل سے پیپلزپارٹی نے نہ صرف یہ کہ اپنے لیے اقتدار کے راہوں کے بند پھاٹک کھلوا دیے تھے بلکہ مسلم لیگ ن بھی انہی راستوں سے استفادہ کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اب بھی مسلم لیگ کا شوق ِانقلاب اور جوش انتقام ٹھاٹھیں مار رہا ہے مگر پیپلزپارٹی ’’چشمہ یہیں سے نکلے گا‘‘ کے یقین واعتماد کے ساتھ راولپنڈی کی راہوں میں اپنے لیے راستے بنانے کی کوششوں میں مگن ہے۔
فنانس بل کے بعد عوام کے جذبات مزید بھڑک اُٹھیں گے اور بکھری ہوئی اپوزیشن جماعتیں اس صورت حال میں لوہا گرم سمجھ کر اپنا وار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اپوزیشن کی طرف سے برپا گرماگرمی کے دوران حکومت کی ایک اور بے تدبیری سامنے آئی مگر اس بے تدبیری کی جڑیں ہمارے قومی مزاج میں دور تک دھنسی ہوئی ہیں۔ کچھ حکومت کی ناقص حکمت عملی اور کچھ اخلاقیات سے عاری مافیاز کی کارستانیوں نے مل کر مری کی تفریح گاہ کو مقتل بنا ڈالا۔ اس طرح کے حادثات کو روکنے اور پھر ان کی شدت کم کرنے کے لیے کوئی سسٹم بنایا نہیں جا سکا۔ زلزلوں، سیلابوں، آتشزدگی سمیت دیگر آفات سے ہم نے سبق نہ سیکھنے کی قسم کھا رکھی ہے البتہ ان حادثات سے ہم پید اگیری کے فن میں مہارت کی ایک اور سیڑھی چڑھ جاتے ہیں۔ اس پر ایک دلچسپ تبصرہ قائدحزب اختلاف شہباز شریف نے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روم جل رہا تھا مگر نیرو گھر میں سو کر چین کی بانسری بجا رہا تھا۔ بہت اچھا محاورہ ہے مگر یہ اس ملک کے حکمرانوں کی پالیسیوں پر ہزارہا بار بولا اور لکھا گیا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ 1991 سے جب میں نے بھی سیاسی اور قومی معاملات پر لکھنے کا آغاز کیا تو نوے کی دہائی میں پانچ سو سے ایک ہزار بار یہ محاورہ استعمال کیا ہوگا اور وہ بھی حادثات اور تلخ واقعات کے بعد حکمرانوں کی بے حسی پر۔ نوے کی دہائی میں خدا جانے کون حکمران تھا؟ یہ محاورہ اگر مزدور کسان پارٹی، اپنی پارٹی، عام آدمی پارٹی ٹائپ کوئی نئی نویلی جماعت استعمال کرے تو طنز کا لطف دوبالا ہوجائے مگر اس ملک میں کسی سسٹم کو فروغ اور رواج دینے سے گریز کرنے والے حکمران طبقات کسی دوسرے کو نیرو کہیں تو بات بنتی نہیں۔ ہم سب اپنے اپنے دور کے نیرو ہیں اور ہمار ے عام آدمی کا، ماجے گامے کا روم بھی ہر دور میں یونہی جلتا رہا ہے اور دُور اقتدار کے جزیروں اور الگ تھلگ دنیائوں سے بانسریوںکی مدھر آوازیں یونہی کانوں میں رس گھولتی رہی ہیں۔