نامہ بنام جناب عمران خان

239

پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے جسے خوراک کے لیے سالانہ 28 ملین ٹن گندم درکار ہے۔ یہ بہ حساب 124 کلو گرام فی شخص بنتی ہے۔ پاکستان میں گندم ہر مرد، ہر عورت، بچہ، بیمار، بوڑھا، جوان، صحت مند خوراک کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ گندم صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں پیدا ہوتی ہے اور دنیا کی کل پیدوار 80 کروڑ ٹن ہے جو دنیا بھر کی آبادی چاول اور مکئی کے علاوہ استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں 80 فی صد گندم پنجاب پیدا کرتا ہے۔ ملک کی کل ضرورت کچھ یوں ہے کہ خوراک کے لیے 28 ملین، بیج کے لیے 1.5 ملین ٹن، سیڈ کے لیے آدھا ملین ٹن اور اسٹوریج نقصانات میں تقریباً 2 لاکھ ٹن ضائع ہوجاتی ہے۔ گویا کل ملا کر ہمیں 3 کروڑ ٹن گندم سالانہ درکار ہے۔ جو اس وقت ملک میں بابو اور چند نابالغ سیاسی رہنمائوں کی وجہ سے پیدا نہیں ہوپا رہی۔ عمران خان! روس کو اگر اسلحہ بچا سکتا تو وہ ملک بچ جاتا۔ اس کے ٹوٹنے کا آغاز نااہل افراد کو ذمے داریاں دینا اور قطار میں لگی آخری عورت کو ڈبل روٹی نہ ملنا بنی۔ روس کی طرح پاکستان میں بھی نااہل افراد اہم ’’کی‘‘ پوزیشن پر براجمان ہیں جن میں اکثریت غیرملکی پاسپورٹ کی حامل ہے۔ موجودہ سیزن کی بات کی جائے تو ملک میں ابھی 60 فی صد گندم کاشت ہونا باقی ہے۔ پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان اس کے علاوہ مرکزی محکمہ زراعت کے بابوز (سیکرٹری) اس قدر نااہل ہیں کہ جو گندم اور جَو کے پودے میں تمیز کرسکیں۔ پالیسی بنانا تو دور کی بات، انہیں بند کمرے میں فرعون بن کر بیٹھنا تو آتا ہے مگر فیلڈ میں جاکر زراعت کی بہتری کے لیے کام کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ ماضی میں جب زراعت کے پڑھے لکھے اور ماہر افراد کو پنجاب کی سیکرٹری شپ دی گئی جن کا نام جناب بُچہ صاحب تھا۔ پنجاب کی زراعت نے آنکھیں کھولنا شروع کردی تھیں۔ مگر پھر بابوؤں کی پلاننگ اور گٹھ جوڑ سے زراعت دوبارہ نااہل سیکرٹریوں کے حوالے کردی گئی۔ نتیجتاً زراعت کی بڑھوتری منفی میں چلی گئی۔ جبکہ زراعت ہمارے ملک کی پرائمری انڈسٹری ہے اور اس کا جی ڈی پی میں حصہ 40 فی صد سے بھی زیادہ ہے۔
جناب خان صاحب! آپ سے دست بستہ عرض ہے کہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اور زراعت میں ڈیزل، کھاد، بیج، مشینری، زرعی ادویات اور پانی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کے خریداری نرخ 2300 روپے فی من مقرر کریں۔ حضور! عرض ہے کہ آپ کی حکومت سے پہلے ڈی اے پی کھاد 2008 روپے بوری تھی جو اب تقریباً 8 ہزار روپے میں بھی نہیں مل رہی۔ یوریا 14 سو روپے بوری تھی جو اب 2 ہزار روپے سے بھی اوپر چلی گئی ہے۔ ٹریکٹر کے لیے ڈیزل 76 روپے لیٹر تھا جو اب 143 روپے لیٹر ہوچکا ہے۔ بیج کی قیمتیں دوگنی ہوگئی ہیں اور دو نمبر بیج فروخت کرنے والے آپ نے اپنے معاونین بنالیے ہیں۔ گندم کی پیداواری لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی خریداری شرح 2300 روپے من کردیں۔ باسمتی جس کی اب کٹائی ہورہی ہے اور اسے بیچ کر گندم کے زرعی لوازمات خریدنا ہیں، باسمتی کی پیداوار اس سال 8 سے 10 من فی ایکڑ کم آرہی ہے۔ لہٰذا باسمتی کے خریداری نرخ 3000 روپے فی من کردیں تاکہ کسان پر مالی بوجھ میں کمی آئے اور زاعت کے لیے ڈیزل میں سرخ رنگ ملا کر اسے زراعت کے استعمال کے لیے پابند کریں تاکہ ڈیزل صرف ٹریکٹر اور زرعی ٹیوب ویل استعمال کریں اور اس کی قیمت 80 روپے فی لیٹر کردیں۔ گندم کا معیاری بیج نہ ہونے کے برابر مل رہا ہے اور استعمال ہورہا ہے۔ اس کی مقدار دوگنی کردیں اور قیمت میں پچاس فی صد کمی کردیں۔ جڑی بوٹی، مال ادویات کی قیمتوں میں فی الفور 7 فی صد کمی کا اعلان کردیا جائے۔ کیونکہ گندم کی پیداوار میں 20 فی صد کمی ان جڑی بوٹیوں کی وجہ سے آتی ہے۔ جناب عالی! اگر ہم اس سال 3 کروڑ ٹن گندم پیدا نہیں کرتے تو ہمیں شاید 10 سے 15 لاکھ ٹن گھٹیا گندم درآمد کرنا پڑے اور اس کے نرخ بھی 2400 روپے فی من تک ہوسکتے ہیں۔
عالی جناب! حکم کریں کہ اس سال ملک میں 2 کروڑ 25 لاکھ ایکڑ پر گندم کی کاشت یقینی ہو۔ تمام صوبے کے زرعی بابوئوں (سیکرٹریز) کو لگائیں جو زراعت کی تعلیم رکھتے ہوں۔ گندم کی خریداری ٹارگٹ 85 لاکھ ٹن رکھیں، جس میں سے 25 لاکھ ٹن گندم پاسکو خریدے اور 60 لاکھ ٹن گندم محکمہ زراعت پنجاب اور سندھ خریدے۔ پنجاب کو پچاس لاکھ ٹن گندم خریدنا ہوگی۔ گندم کی خریداری کے نرخ جو ہم نے 52.50 فی کلو تجویز کیے ہیں اور اس میں پسائی اور دیگر اخراجات ڈال کر سات کلو یعنی 10کلو کا تھیلا 600 روپے کا بکنا یقینی بنائیں۔ پنجاب اور سندھ کے ڈپٹی کمشنر کو پانچ لاکھ ٹن خریداری کا ٹارگٹ دیں۔ محکمہ خوراک کے کرپٹ افسران سے محکمہ کی جان چھڑوائیں۔ جو سال میں دو مہینے کام کرتے ہیں اور دس مہینے مال بناتے ہیں۔ آپ سے یہ بھی گزارش ہوگی کہ فخر امام صاحب جو ایک جہاندیدہ اور ہنرمند سیاستدان ہیں ان کا استعمال کریں اور پنجاب کے وزیر زراعت اور سیکرٹری زراعت، سیکرٹری خوراک محنتی اور کام جاننے والے لوگوں کو لگائیں اور اس کے ساتھ ساتھ گندم زیادہ اُگائو مہم اور فی ایکڑ پیداوار کے لیے اب کسانوں سے خطاب بھی کریں۔ زراعت، آب پاشی، خوراک کے متعلق بندہ ناچیز مزید سفارشات بھیجے گا جو ملک وقوم کی بہتری، ریاست کی فلاح اور آپ کی حکومت کے دست و بازو بن سکیں۔