جموں و کشمیر کی سڑکوں پر نوجوانوں کا خون بہایا جارہاہے، محبوبہ  مفتی

199

نئی دہلی:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کوایک ’’پرامن علاقے‘‘ کے طور پر پیش کر رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی سڑکوں پر خون بہایا جا رہا ہے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے پرلوگوں پرکالے قوانین لاگو کئے جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محبوبہ مفتی نے نئی دہلی میں ’’نیا کشمیر‘‘کے عنوان سے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مرحوم والد مفتی محمد سعید نے 2014 میں بی جے پی کے ساتھ صرف اس لیے اتحاد کیا تھا کیونکہ وہ علاقے میں امن کے نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ میرے والد نے پہلے اٹل بہاری واجپائی جیسے سیاستدان کو دیکھا تھا اور انہیں امید تھی کہ بی جے پی کی نئی حکومت اسی نظریے پر کام کرے گی۔انہوں نے ’’نیا کشمیر‘‘ کی اصطلاح کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس نئے کشمیر کی تشہیر کی جا رہی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ آج ایک 18 ماہ کی بچی اپنے والد کی میت لینے کے لیے احتجاج پر بیٹھی ہے جس کو بھارتی فورسزنے قتل کیاہے۔

 محبوبہ مفتی نے کہاکہ ایک کشمیری پنڈت کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا۔ سڑک ایک بہاری آدمی کے خون سے لت پت ہے اور ہم اسے نیا کشمیر کہتے ہیں؟ کیا ہمیں لفظ ’’نیا کشمیر‘‘کا یہی تصور تھا؟

انہوں نے کہاکہ ہر جگہ صورت حال بہترہونے کا چرچہ کیاجارہاہے توپھر پیراملٹری فورسز کی تعداد میں اضافہ کیوں کیا گیا، نئے بنکر کیوں قائم کئے گئے؟ ’’نیا کشمیر‘‘ کو بھول جائیں اور آئیے ’’نئے ہندوستان‘‘ کی بات کریں۔

 انہوں نے کہاکہ نئے ہندوستان میں آئین کی بات کرنے والے پر ’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ اقلیتوں کو چاہے وہ کوئی ریڈی بان ہویا کوئی فلمی ستارہ سماجی اور معاشی طور پر دھتکارا جاتا ہے،زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے والے کسانوں پر خالصتانی ہونے کا لیبل لگا کریواے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔