سیالکوٹ واقعہ ، سیکڑوں گرفتار ، 900 افراد پر دہشتگردی کا مقدمہ

232

 

اسلام آباد/لاہور/سیالکوٹ/کولمبو(آن لائن+صباح نیوز+اے پی پی+نمائندہ جسارت ) سیالکوٹ میں فیکٹری ملازمین کے تشدد سے سری لنکن منیجرپریانتھا کمارا کی ہلاکت پر تھانہ اگوکی پولیس نے سب انسپکٹر کی مدعیت میں
900افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا جبکہ مرکزی ملزم فرحان ادریس کو بھی گرفتار کرلیاہے۔ایف آئی آر کے مطابق راجکو فیکٹری کے اندر900کے قریب افراد ڈنڈے لیے موجود تھے ،تمام افراد سری لنکن شخص کی لاش کو سڑک پر گھسیٹ رہے تھے، نفری ناکافی ہونے کے باعث ہجوم کو نہ روکا جا سکا، ہجوم نے لاش سڑک پر رکھ کر آگ لگا دی،ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں سری لنکن شہری کو قتل کیا، ملزمان نے سری لنکن شہری کو قتل کر کے اس کی لاش کی بے حرمتی کی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی۔رپورٹ کے مطابق واقعہ صبح 11 بج کر26 منٹ پر پولیس کو رپورٹ ہوا،اس وقت فیکٹری کے ورکرز سڑک پر آچکے تھے جس کے باعث پولیس کو پہنچنے میں تاخیر ہوئی، فیکٹری کی مشین پر مذہبی حوالے سے ایک اسٹیکر لگا تھا، کچھ غیر ملکیوں نے فیکٹری کا وزٹ کرنا تھا، منیجر نے مبینہ طور پر اسٹاف کو اس اسٹیکر کو ہٹانے کا حکم دیا، جب فیکٹری ملازمین نے اسٹیکر نہیں ہٹایا تو منیجرنے ہٹا دیا،واقعہ کے بعد فیکٹری مالکان اور انتظامیہ غائب ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق ڈسپلن اور کام لینے کی وجہ سے کچھ ملازمین فیکٹری منیجرسے نالاں تھے، مذہبی اسٹیکر اتارنے کے حکم پر بدقسمت واقعہ رونما ہوا۔پولیس نے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ قبضے میں لے لی اور اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اس فوٹیج کو دیکھ رہی ہے جس کے ذریعے ملزمان تک پہنچا جارہا ہے،ایسے افراد جنہوں نے اشتعال دلایا ان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔وزیر قانون پنجاب راجا بشارت نے کہا کہ واقعہ کے محرکات میں توہین مذہب کے ساتھ انتظامی پہلوئوں کا جائزہ لیا جارہا ہے ، ذمے داران کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی گئی،سیالکوٹ میں گرجا گھروں اور غیر ملکی فیکٹری ورکرز کی سیکورٹی سخت کر دی گئی،نادرا سے وڈیوز میں نظر آنے والے نامعلوم افراد کی چہروں کی شناخت جاری ہے، جیو فینسنگ سے بھی متعدد افراد کی گرفتاری کا عمل جاری ہے،اب تک کی تحقیقات سے متعلق وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ابتدائی رپورٹ بھجوا دی گئی ہے۔ ادھر سری لنکن منیجر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔سری لنکن منیجر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پریانتھا کی موت دماغ اور چہرے پر ضرب لگنے سے ہوئی۔ تشدد سے پریانتھا کمارا کے جسم کا 99 فیصد حصہ مکمل طور پر جل چکا تھا، بازو کولہے سمیت تمام ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں، پرانتھا کا صرف ایک پائوں ٹھیک تھا باقی پورے جسم میں ایک بھی ہڈی سلامت نہیں بچی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہونے پر وزارت داخلہ پنجاب نے سری لنکن سفارتخانے سے رابطہ کرلیا ہے، پریانتھا کمارا کی لاش آج خصوصی پرواز سے اسلام آباد بھجوائی جائے گی جہاں سے سری لنکن سفارت خانے کے اہلکار لاش کو سری لنکا لے کر جائیں گے۔قبل ازیںلاش لاہور منتقل کردی گئی ہے جب کہ سری لنکن شہری پریا نتھا کمارا کی اہلیہ نیروشی نے پاکستان کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان سے منصفانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے شوہر ایک معصوم انسان تھے،میں نے خبروں میں دیکھا کہ انہیں بیرون ملک اتنا کام کرنے کے بعد اب بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے، میں سری لنکا اور پاکستان کے صدور اور وزیر اعظم سے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہوں تاکہ میرے شوہر اور 2 بچوں کو انصاف مل سکے۔ ان کے بھائی نے بتایا کہ پریا نتھا 2012ء سے سیالکوٹ کی فیکٹری میں ملازمت کر رہے تھے، فیکٹری کے مالک کے بعد میرے بھائی ہی نے فیکٹری کا تمام انتظام سنبھالا ہوا تھا،تعلیمی اعتبار سے پریا نتھا انجینئر تھے، ان کے بیٹوں کی عمریں14اور 9 سال ہیںجب کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان حسان خاور نے گزشتہ روزآئی جی پنجاب رائو سردار علی خان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیالکوٹ فیکٹری میں تشدد سے غیر ملکی شہری کی ہلاکت کے واقعہ کی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب خود مانیٹرنگ کررہے ہیں،13مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ 13مرکزی ملزمان نے اعترافی بیان بھی دیا ہے ۔علاوہ ازیںوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سری لنکن صدر کو یقین دلایا کہ سانحہ سیالکوٹ میں ملوث ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای)میں موجود سری لنکن صدر گوٹابایا راجا پاکسے سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ سیالکوٹ میں پریانتھا دیاودانا کے قتل پر پاکستانی قوم کو بھی غصہ ہے اور قوم سری لنکا سے شرمندہ ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران میں نے سری لنکن صدر کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے 100سے زاید افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور انہیں یقین دلایا کہ ملوث ملزمان کیخلاف سخت کارروائی ہو گی ۔ دوسری جانب سری لنکن صدر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے پر گہری تشویش ہے،ہماری حکومت کو وزیراعظم عمران خان پر مکمل بھروسہ ہے کہ پاکستان انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گا اور ملک میں باقی سری لنکن کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔اس ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے لکھا کہ جناب صدر میں پاکستانی شہری ہوں اور سری لنکن منیجر کے قتل پر بہت افسوس ہے،یہ بدقسمتی والا دن ہے،پاکستانی سری لنکن شہریوں سے معذرت خواہ ہیں،پاکستان نفرت کے آگے کبھی نہیں جھکے گا۔اس سے قبل سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجانے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنا عہد پورا کرتے ہوئے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پاکستان میں مشتعل ہجوم کی جانب سے سری لنکن منیجر پریا نتھا دیاودھنا پر بہیمانہ اور جان لیوا حملے پر صدمہ پہنچا،متاثرہ شخص کی اہلیہ اور خاندان کے غم میں شریک ہوں۔