سری لنکن منیجر کو زندہ نہیں جلایا گیا،بی بی سی

224

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )برطانیہ کے سرکاری نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن منیجر کو زندہ نہیں جلایا گیا۔ریسیکو 1122 کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں تقریباً35:11 منٹ پر وزیر روڈ پر ہنگامہ آرائی کی کال موصول ہوئی تھی، جس کے چند ہی منٹ بعد ٹیم موقع پر پہنچ چکی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت تک پولیس کی نفری کم تھی جبکہ مقتول کو فیکٹری کے اندر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔امدادی اہلکار کے بقول ہم لوگ وردی میں تھے، لوگ مشتعل تھے، ہمارے لیے ممکن نہیں تھا کہ ہم متاثرہ شخص کو کسی بھی طرح کوئی مدد فراہم کرسکیں اور نہ ہی یہ ممکن تھا کہ کوئی مداخلت کریں،اس دوران مشتعل افراد سری لنکن شہری کو تشدد کرتے ہوئے روڈ پر لے آئے تھے۔امدادی کارکن کے مطابق جب متاثرہ شخص کو روڈ پر لایا گیا تو اس وقت تک وہ ہلاک ہوچکا تھا۔ بعد ازاںمشتعل لوگوں نے اس کی نعش کو نذر آتش کیا اور نعرے بازی کرتے رہے۔ اس دوران پولیس نے مداخلت کرنے کی کوشش کی مگر پولیس کی نفری بہت کم تھی جبکہ مشتعل عوام بہت بڑی تعداد میں تھے۔امدادی کارکن کے مطابق تقریباً ساڑھے بارہ بجے کے قریب ہم لوگ جلی ہوئی لاش کو اسپتال پہنچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔بی بی سی کے مطابق موقع کے عینی شاید نے بتایا ہے کہ فیکٹری ملازمین کا احتجاج بہت دیر تک جاری رہا تھا اور اس احتجاج میں اردگرد کے علاقوں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں شامل ہو گئے۔مزید برآں سیالکوٹ سے مقامی صحافی یاسر رضا نے بی بی بی سی بتایا ہے کہ فیکٹری کے اندر صبح ہی سے یہ افواہیں گرم تھیں کہ توہین مذہب کی گئی ہے،جس کے بعد نہ صرف فیکٹری کے اندر سے حالات کشیدہ ہونے کی اطلاعات آرہی تھیں بلکہ ارد گرد کے علاقے کے لوگ بھی مشتعل تھے۔مقامی صحافی کے مطابق دوپہر کے گیارہ، بارہ بجے کے قریب وزیرآباد روڈ پر بڑے احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں،اس کے ساتھ ہی ایسی اطلاعات ملنا شروع ہوئیں کہ فیکٹری کے غیر ملکی منیجر کو جلا دیا گیا ہے۔یاسر رضا کے مطابق ہنگامہ آرائی اور کشیدہ حالات کی اطلاعات صبح سے تھیں مگر موقع پر مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے،اس طرح جوں جوں وقت گزرا مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا، مگر اس وقت بھی صورتحال کو سنبھالا نہیں دیا گیا۔یاسر رضا کے مطابق اب حالات قابو میں ہیں۔