سیاسی مشغلہ

219

ان دنوں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے بڑے چرچے ہیں، بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے ووٹ بھی ہڑپ کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں، گویا ان کی پاکستانیت بھی چھیننے کے حربے بروئے کار لانے کی سازش کی جارہی ہے، ان کے ہاتھوں سے پاکستان کا پرچم چھین کر سیاسی جماعتوں کے پرچم تھمانے کی کوشش کی جارہی ہے، بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کو این آر او دینے کے لیے قانون کو مکڑی کا جالا بنایا جارہا ہے، ہم نے بہت پہلے ہی انھی کالموں میں کہا تھا کہ کلبھوشن کے معاملے میں حکمران بھاشن ہی دیتے رہیں گے سزا دے کر بھارت کو ناراض نہیں کر سکتے، مختلف تاویلات سے خود کو بہادر خان ثابت کرتے رہیں گے، مگر قوم کو اس حقیقت کا ادراک ہے، بعض بہادر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پائوں کتے کو دیکھ کر زمین میں گڑھ جاتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے ووٹنگ مشین کا بل تو پاس کرالیا گیا ہے مگر الیکشن کمیشن اس کے استعمال کا پابند نہیں، جواباً سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا ہم نے نکاح پڑھا کر دلہن الیکشن کمیشن کے حوالے کر دی ہے، اب یہ جانیں اور دلہن جانے ہم گھریلو معاملات میں دخل اندازی کے قائل نہیں، شبلی جی! آپ مداخلت کے مرتکب تو ہو چکے ہیں، نکاح پڑھانا مولانا فضل الرحمن کا کام ہے، کالم لکھنے کے دوران اطلاع ملی کہ کراچی کے چڑیا گھر کے جانوروں کا راشن بحال کر دیا گیا ہے، خبر نگار نے یہ نہیں بتایا کہ خوراک کی بحالی کتنے دن بعد ہوئی، حیرت انگیز بات تو یہ بھی ہے کہ ریاست مدینہ میں جانوروں کو بھوکا پیاسا رکھا گیا اور جب چڑیا گھر کے کرتا دھرتا افسروں نے یقین دہانی کرائی کہ بقایا جات جلد ادا کر دیے جائیں گے، تب خوراک کی سپلائی بحال کر دی گئی، اصولاً تو ذمے داران کو بھوکا پیاسا رکھنا چاہیے تھا تاکہ آئندہ وہ ایسی حرکت کے مرتکب نہ ہوں، ویسے شبلی سرفراز کے فارمولے پر بھی عمل کیا جاسکتا تھا، چڑیا گھر کے جانوروں کا نکاح پڑھا کر کسی کے سپرد کر دیتے یوں ان کی خوراک سے بری الذمہ ہو جاتے کیونکہ دلہن کے نان نفقہ کا ذمے دار تو دولھا ہوتا ہے۔ اگر ہم ملک کے سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت منکشف ہو گی کہ وطن عزیز کے حکمران بالا دست قوتوں کو دلہن ہی تو فراہم کرتے رہے ہیں۔
چند دن قبل شبلی فراز نے کہا تھا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال سے 32لاکھ خصوصی افراد ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتے اب فرما رہے ہیں کہ ووٹنگ مشین انتہائی کارآمد ہے جس کی شفافیت سے انکار ممکن نہیں، اب یہ گمان یقین کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے کہ حکمرانوں نے عروسِ وطن کو عروسِ بالادستاں بنا دیا ہے جہاں جہان بھر کے چھٹے ہوئے لوگوں کا سکہ چلتا ہے اور سکہ بھی ایسا جس کا چت بھی ان کی اور پٹ بھی ان کا، موصوف کے بیان سے
ثابت ہوتا ہے کہ سیاستدان سر کی بازی لگاتے ہیں، اور سیاست کار دھڑ کی بازی لگاتے ہیں، یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب شبلی فراز نے ووٹنگ مشین کے حوالے سے ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرائی تھی، اور تحریری طور پر قومی اسمبلی کو آگاہ کیا تھا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین استعمال کرائی گئی تو لاکھوں خصوصی افراد ووٹ کاسٹ نہیں کر سکیں گے کیونکہ ابھی تک الیکٹرونک مشین میں نابینا افراد کے لیے بریل سسٹم موجود ہی نہیں اگر یہ سسٹم بنانا ہے تو الیکشن سسٹم کو دوبارہ ہدایات دینی ہوں گی، موصوف نے قومی اسمبلی کو اس پریشان کن حقیقت سے بھی آگاہ کیا تھا کہ متعدد پولنگ اسٹیشن ایسے بھی ہیں جہاں معذور افراد کے لیے ریمپ کی سہولت بھی موجود نہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی کس بات پر یقین کیا جائے شاید شبلی فراز کی اپنی کوئی رائے نہیں وہ اپنے سرپرستوں کی ہدایت پر عمل کرنے کے پابند ہیں، رات کو دن اور دن کو رات کہنا ہی ان کی نوکری کو تحفظ فراہم کرتا ہے، خود مختار افراد ایسی بہکی بہکی باتیں نہیں کیا کرتے، بقول ظفر اقبال ’’یہ لوگ صاحب کردار نہیں‘‘۔
چند دن قبل موصوف نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کو اپوزیشن کی سیاسی موت قرار دیا تھا، موصوف نے قوم کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کی تھی کہ اپوزیشن ووٹنگ مشین کا بٹن دبانے کو بھی گناہ سمجھتی ہے، الیکٹرونک ووٹنگ مشین الیکشن قوانین کے مطابق بنائی گئی ہے، اس کے استعمال کا فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے، الیکشن کمیشن چاہے تو اس میں مزید بہتری لا سکتا ہے، پاکستان میں 2ہزار مشینیں روزانہ بنائی جاسکتی ہیں، اسمبلی سے قانون پاس ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کو اس پر کام کرنا ہوگا، ووٹنگ مشین میں ووٹ ڈالنے میں کوئی دشواری نہیں، مگر اسٹیٹس کو کا حامی طبقہ اس تبدیلی کے خلاف ہے، اپوزیشن کو یہ سمجھ لینا چاہیے، نکاح ہو چکا ہے ہم نے دلہن الیکشن کمیشن کے حوالے کر دی ہے، موصوف کا کہنا ہے کہ ایک ووٹنگ مشین پر 150ارب روپے کی باتیں محض پروپیگنڈا ہے کیونکہ ووٹنگ مشین اربوں نہیں کروڑوں میں تیار کی جاسکتی ہے، سیاسی بیانات میں گا گی اور سکتا سکتی کا استعمال سیاست دانوں کا شغل بن چکا ہے جسے شغل ِ رئیساں بھی کہا جاسکتا ہے سو، شبلی فراز کے بیانات کو سیاسی شغل کہنا زیادہ مناسب ہوگا، بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ تحریک انصاف سے وابستہ سیاستدان سیاسی شغل فرما رہے ہیں، سیاست جانے ان کی بلا۔
سیاست ایک مسلسل عمل ہے، اس پر وہی لوگ عمل پیرا ہوتے ہیں، سیاست جن کا شغل نہیں نصب العین ہوتا ہے، وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ تو بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھو رہی ہے اشنان کررہی ہے، موصوف کا یہ ارشاد قابل توجہ ہے کہ اپوزیشن ووٹنگ مشین کا بٹن دبانا بھی گناہ سمجھتی ہے اس ضمن میں ہم صرف اتنا ہی کہیں کے کہ آپ کے اصرار پر قوم سابقہ حکمرانوں کو چور اور ڈاکو سمجھنے لگی تھی، مگر آپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن تو بہت ہی پارسا ہے وہ پرائی دلہن کو ہاتھ لگانا بھی گناہ سمجھتی ہے۔