!لاٹ صاحب

194

 

آخری حصہ

اس شعر کا مورخین نے جو پس منظر لکھا ہے، اس کی رو سے اس کا تعلق خواجہ نظام الدین اولیاء اور امیر خسرو سے ہے، لیکن عام طور پر آج کل اسے ’’اقتدار پرستوں‘‘ کے لیے استعارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ’’کُلاہ‘‘ ایک خاص ہیئت کی ٹوپی ہوتی ہے اور ’’کج کلاہ‘‘ سے مراد ’’ٹیڑھی ٹوپی والا‘‘، کبھی حسین لوگ نازو نخرے کے طور پر یہ ادا اختیار کرتے تھے، چنانچہ لغت میں اس کے معنی ہیں: ’’بانکا، معشوق، اکڑ کی وجہ سے ٹیڑھی ٹوپی پہننے والا، مغرور اور بادشاہ ‘‘، مگر آج کل اس کا عمومی استعمال وہی ہے جو ہم نے سطورِ بالا میں عرض کیا ہے۔
فواد چودھری سے ہمارا مطالبہ ہے کہ پہلے اپنی حکومت کی طرف سے انتہا پسندی، شدّت پسندی اوردہشت گردی کی متفقہ اور مسلّمہ تعریف کرائیں تاکہ پی ٹی آئی سمیت سب جماعتوں کو اُن کے ماضی سمیت اُس معیار پر جانچا جائے اور سب کے لیے ایک ہی ضابطہ اور ایک ہی اصول وضع ہو، یہ روش قابلِ قبول نہیں ہے:
تمہاری زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نا مۂ سیاہ میں تھی
آپ ہی کی بیان کردہ تعریف کے مطابق پی ٹی آئی کے 2014 کے دھرنے پر حکم لگایا جائے گا، کیا عوام کو یہ تلقین کرنا: ’’ریاست کو ٹیکس نہ دیں، یوٹیلیٹی بل ادا نہ کریں‘‘ حبّ الوطنی ہے، ’’مارو، جلائو، گھیرائو، آگ لگادو‘‘ کے نعرے اعلیٰ درجے کی امن پسندی کی علامت ہیں اور مارنے، جلانے، گھیرائو کرنے اور آگ لگانے کی تلقین کرنا اعلیٰ درجے کی حبّ الوطنی ہے، بشرطیکہ یہ آپ سے سرزد ہو۔ نیز مسلم معاشرے میں مذہب کا حوالہ جرم کیوں قرار پاتا ہے، یہ دستور کے کس آرٹیکل اور قانون کی کس دفعہ کا تقاضا ہے، دستور تو قانون سازی کو قرآن وسنّت کے دائرے میں مقیّد کرتا ہے، اُس سے انحراف کی اجازت نہیں دیتا، دستور کا آرٹیکل 31ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرے، دستور میں فیڈرل شریعت کورٹ، سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بنچ اور اسلامی نظریاتی کونسل کس مرض کی دوا ہیں۔ کیا قرآن وسنّت اور مذہب ایک دوسرے کی ضد ہیں، تو حضورِ والا! جب تک موجودہ دستور نافذ العمل ہے، مذہب کا حوالہ تو آئے گا، خواہ آپ کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔
اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجائو اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (البقرہ: 208)‘‘۔ ہمارے لبرلز کو صرف نجی عبادات اور اخلاقیات کی حد تک اسلام گوارا ہے، بشرطیکہ انہیں ان کا مکلف اور جوابدہ نہ بنایا جائے۔ قرآن کی وہ تعلیمات جو نظمِ اجتماعی سے متعلق ہیں، قوتِ نافذہ کا تقاضا کرتی ہیں، اُن کے نفاذ کے لیے اسلام کا اقتدار پر حاکم ہونا ناگزیر ہے، یہ انہیں مطلوب نہیں ہیں، بلکہ ان کا ذکر بھی انہیں ناگوار گزرتا ہے، شاید العیاذ باللہ! نظمِ اجتماعی سے متعلق قرآن وسنّت کی تعلیمات اُن کے نزدیک منسوخ ہیں یا معطّل ہیں یا قابلِ عمل نہیں ہیں، اسی لیے ریاست وسیاست میں مذہب کا حوالہ اُن پر گراں گزرتا ہے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق عمل نہ کرنے کو قرآن کفر، ظلم اور فسق قرار دیتا ہے، مولانا امین احسن اصلاحی المائدہ: ۴۴ تا ۴۷ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’یہ آیت بھی اگرچہ یہود کے جرائم کے بیان کے سیاق میں ہے، لیکن یہی جرم مسلمانوں سے صادر ہو (جس کی شہادت ہرمسلمان ملک میں موجود ہے) تو میں نہیں سمجھتا کہ اُس کا حکم اس سے الگ کس بنیاد پر ہوگا، خدا کا قانون تو سب کے لیے ایک ہی ہے، (تدبر قرآن)‘‘۔
مفسرین کرام نے ان آیات کی جو تفسیر بیان کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے : اگر کوئی اعتقاداً اللہ کے احکام کا منکر ہے تو وہ کفرِ اعتقادی اور کلامی ہے، اگر کوئی اعتقاداً تو اللہ کے احکام کو مانتا ہے، لیکن اُن پر عمل کرنے سے انکاری ہے، تو یہ کفرِ عملی ہے، اسے سیدنا عبداللہ بن عباس نے پہلے کفر سے کم تر قرار دیا ہے، اگر اپنی سرکشی کی بنا پر اللہ کی شریعت پر عمل نہیں کرتا، اللہ اور اس کے بندوں کی حق تلفی کرتا ہے، تو یہ صریح ظلم ہے، اگر اپنی بشری کوتاہی کی بنا پر عمل نہیں کرتا تو یہ فسق ہے، جیسے آج کل بالعموم مسلمان اس میں مبتلا ہیں۔ البتہ فواد چودھری کا یہ کہنا بجا ہے: ’’ہمیں بھارت سے نہیں، اندر سے خطرہ ہے‘‘ اور سب سے بڑا خطرہ فواد چودھری جیسے لوگ ہیں، جو دستوری مسلّمات کے بارے میں خود بھی ذہنی اور فکری انتشار میں مبتلا ہیں اور قوم کو بھی اُسی میں مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ دستور اور قانون کو موم کی ناک بنانا چاہتے ہیں، جدھر چاہیں موڑ دیں، جو مَن پسند تاویل چاہیں کردیں، کوئی انہیں روکنے ٹوکنے والا نہ ہو، وہ اپنے آپ کو آخری اور قطعی حجت سمجھتے ہیں، مگر اسلام نے یہ درجہ صرف خاتم النبیّٖنؐ کو عطا کیا ہے: آپؐ کی ہر بات حجتِ قطعی اور غیر مشروط طور پر فرض اور لازم ہے، یہاں چون وچَرا کی گنجائش نہیں ہے۔