الیکشن 2023ء جیتنے کے لیے معیشت کی بے رحم قربانی

400

ڈیڑھ ماہ کے مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پا گیا ہے مگر پاکستان کو قرضہ اس وقت تک نہیں ملے گا جب تک تمام پیشگی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے معاہدے کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1.06 ارب ڈالر ملیں گے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہو جائیں گے، روپے کا زوال رک جائے گا، کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ اور مارکیٹ میں بے یقینی کم ہو جائے گی مگر اس کی ساری قیمت زبردست مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں عوام ادا کریں گے۔ حکومت نے بار بار کے انتباہ کے باوجود 2023 کا الیکشن جیتنے کے لیے غلط پالیسیوں کے ذریعے معیشت کو قربان کر دیا جو بے رحمی ہے مگر پالیسی سازوں میں سے کوئی بھی اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کو تیار نہیں۔ ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے سے ہر چیز مزید مہنگی ہوجائے گی گزشتہ تین سال سے مشکلات میں پھنسے عوام کے مسائل مزید بڑھیں گے۔ گردشی قرضہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آتے وقت گردشی قرضے میں ماہانہ تیس ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا جسے کم کر کے بارہ ارب روپے ماہانہ تک لایا گیا اور دسمبر میں اس کے مکمل خاتمہ کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ گردشی قرضہ کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات کے علاوہ بہت سے بجلی چور کارخانہ داروں اور ان سے ملی بھگت کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کاروائیاں کی گئیں مگر سیاسی مفادات کے لیے جلد ہی یہ سلسلہ بھی روک دیا گیا جس سے کرپٹ افسران اور بجلی چور تاجر خوش ہو گئے جبکہ صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کرنے والوں کو گھر کا راستہ دکھا دیا گیا مگر اب اس کا سارا ملبہ بھی عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ شرائط کے عوام پر کیا اثرات ہوں گئے؟ وزارت خزانہ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر آئی ایم ایف نے وزارت خزانہ کے منصوبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے نئی تجاویز میں شرح سود بڑھانے اور ڈالر کا مارکیٹ ریٹ مقرر کرنے کا کہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر ان شرائط پر عمل کیا جاتا ہے تو ڈالر کی قدر آنے والے دنوں میں مزید بڑھے گی جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیا پر مزید ٹیکس لگا کر بھی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔
پاکستانی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ قرض پروگرام بحالی کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف کی نئی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ تازہ قرضے کی قسط کب ملے گی؟ اس پر حکام کا کہنا تھا کہ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ قرض پروگرام کی بحالی کا حتمی اعلان آئی ایم ایف بورڈ کرے گا۔ البتہ آئی ایم ایف کی جانب سے قرضے کی چوتھی قسط جاری کرنے کے حوالے سے تاحال مکمل خاموشی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے چھٹے جائزہ مذاکرات مقررہ مدت میں مکمل نہ ہو سکے اور اضافی دس دن گزر جانے کے باوجود فریقین کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ امریکا میں مذاکرات کے کئی ادوار چلے جن میں مستقبل میں پروگرام جاری رکھنے اور نئی قسط کے اجرا کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔
سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ دور میں آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کے لیے چھے ارب ڈالرز کے مجموعی پیکیج کا اعلان ہوا تھا۔ ان میں سے دو ارب ڈالرز کی تین اقساط میں سے دو 2019ء کے جولائی اور دسمبر میں پاکستان کو ملیں جبکہ تیسری قسط رواں برس مارچ میں مل چکی ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پالیسی سطح کے مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو نہ صرف آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالرز کی قسط ملے گی بلکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی فنڈز مل سکیں گے۔ لیکن اس میں سب سے بڑی شرط یہ ہیں کہ حکومت اضافی ٹیکس لگائے، شرح سود میں اضافہ، گیس کی قیمت میں اضافہ اور اپنے اخراجات میں کٹوتی کرے۔ آئی ایم ایف کی یہ ایسی شرائط ہیں جن کا اثر براہ راست عام آدمی پر پڑے گا۔ ’تنخواہ دار طبقے پر اس کا بوجھ پڑے گا۔ پٹرول گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ مزید مہنگائی ہوگی۔ روپے کی قدر مزید کم ہوگی۔ یہ سب عناصر مل کر معیشت پر منفی اثر مرتب کریں گے‘۔ آئی ایم ایف رواں مالی سال 58 کھرب کے بجائے 63 کھرب روپے ٹیکس جمع کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت نے نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بھی عوام کو منتقل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ نجکاری پروگرام میں تیزی لانے کی یقین دہانی بھی کروا دی گئی ہے لیکن ماضی میں مختلف شعبوں کو دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ کے خاتمے، مختلف اشیا پر ڈیوٹیز اور اضافی انکم ٹیکس لگانے سمیت 500 ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکس لگانے کا آئی ایم ایف کا مطالبہ پورا کرنا سیاسی طور پر حکومت کے لیے مشکل لگ رہا ہے۔ ’ملک میں مہنگائی پہلے ہی زیادہ ہے اور اضافی ٹیکس لگانے سے مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ آگے الیکشن کا سال بھی آ رہا ہے، لہٰذا آئی ایم ایف سے اس کی مرضی کی شرائط پر سمجھوتا نہیں ہو پا رہا۔
اس سلسلے میں بتاتا چلوں کہ آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ کمرشل بینکوں میں سرکاری اداروں کے 50 ہزار اکاؤنٹس بند کیے جائیں اور اسٹیٹ بینک کے پاس سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں ساری رقم رکھی جائے۔ یہ شرط پہلے بھی عائد کی گئی تھی لیکن حکومت نے کچھ مہلت مانگ لی تھی۔ گورنر اور ڈپٹی کو اسٹیٹ بینک ملک سے باہر جانے کی کھلی اجازت دی جائے اور مرکزی بینک کو مکمل خود مختاری دی جائے۔ حکومت کے اقتصادی امور ڈویژن نے قرضوں سے متعلق تفصیلات جاری کردی ہیں، جن کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے تین ماہ میں تین ارب 10 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا جبکہ اسی دوران 17 ارب روپے کی گرانٹس موصول ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو جولائی تا ستمبر چین سے سات کروڑ 33 لاکھ روپے قرض ملا۔ حکومت نے باہمی معاہدوں کے تحت سات کروڑ 69 لاکھ ڈالر قرض لیا جبکہ امریکا سے پاکستان کو تین ماہ میں دو کروڑ 72 لاکھ ڈالر قرض ملا۔ اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 45 کروڑ 99 لاکھ ڈالر قرض فراہم کیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ملٹی لیٹرل مالی اداروں سے ایک ارب 56 کروڑ ڈالر قرض لیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومت نے کمرشل بینکوں سے 45 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا قرض لیا۔ حکومت کو مختلف ممالک اور ملٹی لیٹرل اداروں سے 10 کروڑ ڈالر کی گرانٹس بھی ملی ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق سعودی امداد کے اس موقع پر ملنے سے پاکستانی کی آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات میں پوزیشن مضبوط ہوگی۔