مغربی ثقافت کا عام ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے،وزیراعظم

215
جہلم: وزیراعظم عمران خان القادر یونیورسٹی کے تعلیمی بلاک کے افتتاح کے بعد دعا مانگ رہے ہیں

اسلام آباد/جہلم (آن لائن+مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے مغربی کلچر کو تباہی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ مغربی ثقافت کا عام ہونا ہے۔پیر کو جہلم میں القادر یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ استعماریت کی وجہ سے مسلمان دنیا میں ذہنی غلام ہیں، ذہنی غلامی جسمانی غلامی سے زیادہ بری ہے، عظیم قوم بننے کے لیے عظیم کردار چاہییں، سچ اور انصاف کے بغیر کوئی بڑا لیڈر نہیں بن سکتا۔ وزیراعظم کے بقول ہمارے نظام تعلیم میں فرق ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا،ہمارا تعلیمی نظام ہی ہماری کامیابی کے آڑے آگیا، تعلیمی نظام میں یکسانیت ضروری ہے،جس سے غریب کو فائدہ ہوگا،پاکستان کو جامعات میں تحقیق کی ضرورت ہے،پرائم منسٹریونیورسٹی بنا رہا ہوں جو دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹی ہوگی۔عمران خان نے کہا کہ کسی ملک پر کرپٹ لیڈر سے بڑا عذاب کوئی نہیں ہوسکتا ،جب کرپشن کو برائی نہ سمجھا جائے تو معاشرے میں محنت کون کرے گا ؟ جب ہم کرپشن کو برا نہیں سمجھتے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے،اخلاقیات کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،نوجوانوں کی سیرت النبیﷺ کے ذریعے اخلاقی تربیت کرنی ہے، سیرت النبیﷺ پر عمل کے بغیر ہم کسی مقام کو حاصل نہیں کر سکتے اور عظیم قومیں عظیم کردار سے بنتی ہیں، اسلام کے خلاف جب بھی کوئی معاملہ ہوتا ہے پاکستان سب سے پہلے کھڑا ہوتا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاہورمیں ایک سیمینار ہوا جس میں عدالت عظمیٰ کے ججز بلائے گئے، سیمینار میں اس فردکو بھی مہمان خصوصی بلایا گیا جو سزایافتہ ہے اورملک کا پیسہ چوری کر کے باہر بھاگا ہوا ہے، سیمینار میں سزا یافتہ شخص کو بطور مہمان خصوصی بلانے سے پیغام گیا کہ ڈاکا مارنا ہے تو بڑا ڈاکا مارو،سب سے بڑی برائی یہی ہے کہ ہم چوروں کو برا نہیں سمجھتے۔انہوں نے کہاکہ میں یہ نہیں سمجھتا کہ دیگر لوگوں سے بہتر دین سمجھتا ہوں لیکن میں تاریخ کا طالب علم ہوں اور تاریخ کا بڑا مطالعہ کیا، میری عمر تقریباً پاکستان جتنی ہے اور میں نے پاکستان کو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے دیکھا، ایک وقت ایسا بھی تھا کہ پاکستان اس خطے میں سب سے تیزی سے ترقی کررہا تھا اور پاکستانیوں کی دنیا میں عزت تھی، ہمارے صدر جب 60کی دہائی میں امریکا گئے تو امریکی صدر خود ان کا ائرپورٹ پر استقبال کرنے آئے، ایک کتاب میں اس بات کاذکر کیا گیا کہ پاکستان ایشیاء کا کیلیفورنیا بننے جارہاہے اور پھر ہم نے اس کا زوال بھی دیکھا، نیچے بھی آتے دیکھا اوراس لیے میری طرح کا آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا، جس کا بڑا نام تھا، اس لیے وہ سیاست میں آیاکیونکہ سیاست میں جتنے لوگ آئے ہیں ان کو تو کوئی پہلے نہیں جانتا تھا، ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی، بعد میں سیاست میں ان کا نام آیا لیکن مجھے تو سارے جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ مجھے دے چکا تھا،اللہ تعالیٰ جو سب سے بڑا تحفہ دیتا ہے وہ ایمان کاتحفہ ہے۔وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ قرآن میں یہ بھی آیت ہے کہ ایمان والے انسان ایمان والے انسان کو پہچان جائیں گے کیونکہ جو ایمان والا انسان ہوتا ہے وہ کئی چیزوں سے آزاد ہوجاتا ہے،جو زمین میں زنجیریں انسان کو اس کا پوٹینشل حاصل کرنے کے لئے روک کررکھتی ہیں ، ایمان وہ زنجیریں توڑ دیتا ہے، علامہ اقبال اُس کو اقبال کا شاہین کہتے ہیں ، وہ زنجیریں توڑ کر اوپرجاتا ہے اوروہ زنجیریں پیسے کی،طاقت، شہرت اور ذات کی ہیں، جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی سے عظیم مخلوق بنایا، فرشتوں سے بھی اوپر تواس کا مطلب ہے کہ انسان میں وہ پوٹینشل ہے جو کسی میں بھی نہیں لیکن اس پوٹینشل کو حاصل کرنے کے لیے وہ زنجیریں توڑنی پڑتی ہیں، ایمان وہ زنجیریں توڑ دیتا ہے۔عمران خان کا مزید کہنا تھاکہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اس کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک اسلام کے نام پر نہیں بنا۔ جتنا میں پڑھتا گیا اور جتنا اللہ تعالیٰ میرا ایمان مضبوط کرتا گیا میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جب تک ہم سیرت النبیﷺ پر نہیں چلیں گے تب تک ہم وہ مقام حاصل نہیں کرسکتے جو علامہ اقبال کا خواب تھا۔