دنیا کو جوڑنے والا ادارہ اب خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار

303

فیس بک کمپنی بحیثیت دنیا کو جوڑنے والے پلیٹ فارم کے دہائیوں پرانی اپنی شناخت کھو رہی ہے.

فیس بُک کے ایک سابق عہدیدار کی طرف سے کانگریس کو فراہم کردہ ہزاروں صفحات پر مشتمل اندرونی دستاویزات میں متعدد اندرونی تنازعات کا انکشاف کیا گیا ہے، جہاں مسائل تو بہت زیادہ ہیں مگر حل اور حل کی خواہش بھی کرنے والے بہت کم ہیں۔

فیس بُک کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ادارہ مسلسل اپنے اچھے ارادوں کے اعلان کے باوجود سوشل نیٹ ورک میں بڑھتے ہوئے اور بعض اوقات پیدا ہونے والے حقیقی نقصانات کو دور کرنے کے لیے سست روی یا سائیڈ لائن ہونے کی کوششیں کر رہا ہے۔

اس صورتحال کی حتمی ذمہ داری سی ای او مارک زکربرگ پر عائد ہوتی ہے، جنہیں فیس بُک کی ایک سابق ایمپلائی فرانسس ہوگن نے کارپوریشن پر آمرانہ طاقت کے طور پر بیان کیا ہے جو دنیا بھر کے تقریباً 3 بلین لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے اور مفت خدمات فراہم کرتی ہے۔

سیراکیوز یونیورسٹی کے کمیونیکیشنز کے پروفیسر جینیفر گریگیل جنہوں نے برسوں سے فیس بک کو قریب سے فالو کیا ہے، نے کہا، “کچھ بھی ہو، ساری ذمہ داری مارک پر منحصر کرتی ہے کیونکہ انہیں سارا استحقاق حاصل ہے اور یہ ہمیشہ بڑھتا ہی رہا اور بڑھ رہا ہے.”

زکربرگ کی فیس بک پر ایک آہنی گرفت ہے۔ وہ کمپنی کے ووٹنگ کے زیادہ تر حصص رکھتے ہیں، وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو کنٹرول کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ایسے ایگزیکٹوز سے گھیرتے ہیں جو ان کے وژن پر سوال نہیں اٹھاتے۔

کانگریس کو فراہم کردہ فیس بُک کے ڈاکومینٹس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ زکربرگ ابھی تک امریکہ اور یورپ میں فیس بک صارفیں کی کم ہوتی تعداد اور سکڑتی مصروفیات پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ کمپنی اپنے سب سے اہم صارفین یعنی نوعمروں اور جوانوں کی دلچسپی کو برقرار رکھنے میں بھی ناکام نظر آرہی ہے.

نومبر 2020 میں فیس بُک کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق نوجوان فیس بک پر اب بہت کم آن لائن ہورہے ہیں کیونکہ وہ اسے “غیر متعلقہ مواد” کے ساتھ ساتھ ایک “پرانے نیٹ ورک” کے طور پر دیکھتے ہیں جو ان کے لیے محدود ہے۔ وہ اسے ‘بورنگ، گمراہ کن اور منفی’ بتاتے ہیں۔