قومی اثاثہ

265

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قوموں کے زوال کی بنیاد ذہنی پستی کی جڑوں میں ہوتی ہے جوں جوں یہ جڑیں پھیلتی ہیں قومیں سکڑنے لگتی ہیں لیکن جو قومیں اساتذہ، شعراء، ادباء اور سائنسدانوں کی عزت کرتی ہیں دنیا میں محترم اور باوقار ہوتی ہیں۔ پاک بھارت کے افلاس کی بنیادی وجہ ذہنی پستی ہے اور المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس معاملے میں بھارت کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے وہاں فنکاروں کی بہت عزت کی جاتی ہے شہنائی نواز کو نوازا جاتا ہے اس کی نماز جنازہ میں وزیراعظم اور صدر مملکت سمیت تمام اہم عہداران شامل ہونا باعث فخر سمجھتے ہیں مگر ہمارے ہاں گانے بجانے والوں کو مراثی کہا جاتا ہے بدنصیبی یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں استاد کو بے چارہ کہا جاتا ہے ترقی یافتہ ممالک میں استاد عدالت میں پیش ہو تو جج کھڑے ہوکر اس کا استقبال کرتا ہے معروف ادیب اشفاق احمد بیرون ملک کی کسی یونیورسٹی میں لیکچرار تھے ایک دن دیر ہوگئی تو انہوںنے اپنی بائیک یا کار کی رفتار بڑھا دی ٹریفک پولیس نے ان کا چالان کردیا جب وہ عدالت میں پیش ہوئے اور جج کو معلوم ہوا کہ وہ استاد ہیں تو ان کے احترام میں کھڑا ہوگیا اور ہمارا یہ حال ہے کہ کسی ٹیچر کو رشتہ دینا بھی توہین سمجھتے ہیں۔
بھارت فنکاروں ہی کی نہیں سائنسدانوں کی بھی بہت قدر کرتا ہے انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنا باعث اعزاز سمجھتا ہے بھارت کے ایٹمی سائنسدان عبدالکلام جو مسلمان تھے انہیں ملک کا صدر بنا دیا اور ہم نے اپنے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر جس حق کے مستحق تھے جو قدردانی ان کا استحقاق تھی انہیں اس سے محروم رکھا گیا ہماری ذہنی پستی کا یہ عالم ہے کہ جب ممنون حسین کو صدر مملکت بنایا گیا تو حکومت مخالفین نے کہا کہ ایک حلوائی کو صدر مملکت بنا کر صدر کے عہدے کی توہین کی گئی ہے مگر بھارت میں ڈاکٹر عبدالسلام جو مسلمان بھی تھے انہیں صدر مملکت بنادیا تو سب نے اس فیصلے کوسراہا کسی نے نہیں کہا کہ ایک مچھیرے کے بیٹے کو صدارت کے عہدے پر فائز کرکے عہدے کو رسوا کیا گیا ہے۔
وطن عزیز بلکہ برصغیر کے نامورو ممتاز شاعر اور ڈراما نگار ظہور نظر کی رحلت پر بھارت کے میڈیا نے بھرپور کورج دی مگر اہل بہاول پور جو ظہور نظر کو ماما کہا کرتے تھے ان کا نمازجنازہ پڑھنے کے بھی رواہ دارنہ تھے ڈاکٹر عبدالقدیر کی رحلت پر پاکستانی میڈیا نے وہ کوریج نہ دی جس کے وہ مستحق تھے حتی کہ وزیراعظم سمیت صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے اہم ترین عہدے داروں نمازجنازہ میں شامل نہ ہوئے سوائے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو موت سے بہت ڈرلگتا ہے یہی خوف نمازجنازہ سے روکتا ہے۔ موت سے ڈرنا اچھی بات ہے موت کا خوف، خدا ترسی اور خوف خدا کا باعث ہوتا ہے خوف خدا آدمی کو انسانیت کے منصب سے کرنے نہیں دیتا مگر خان صاحب میں اس کے آثار نہیں پائے جاتے ان کی تمام کارگردگی تقاریر تک محدود ہے۔ عوام کو سطح غربت سے گراکر بھی مطمئن نہیں بلکہ مزید مہنگائی اور بیروزگاری کا علم بلندکیے ہوئے ہیں ان کا یہ کہنا کہ گھبرانہ نہیںکا مطلب یہی ہے کہ مہنگائی کا سونامی تمہارے گھروں سے ٹکرانے والاہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر قوم کا اثاثہ تھے قوم کے محسن تھے بھارت کے جنگی جنون کو لگام لگانے کے موجب تھے بھارت پاکستان پر لشکر کشی کے پاگل پن میں مبتلا ہے مگر ڈاکٹر عبدالقدیر نے پاکستان کو ایٹمی قوت بناکر اسے بے بس کردیا ہے بھارت کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ اعصاب کے ساتھ اس کا دماغ بھی مفلوج ہوچکا ہے اگر وطن عزیز ایٹمی قوت کا حامل نہ ہوتا تو بھارت سرحدوں پے چھیڑچھاڑ کرنے کے بجانے حملے کرتا بھارت نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں سرحدوں پر فوج بھیج دی تھی اس صورت حال میں جنرل ضیاء الحق نے بھارتی وزیراعظم سے کہا سرحدوں سے فون ہٹاؤ یا ایٹمی حملے کے لیے تیار ہو جاؤ انگلی کسی وقت بھی حرکت میں آسکتی ہے یہ کسی حیرت انگیزبات ہے کہ عمران خان امپائر کی انگلی ہلنے کے منتظر رہتے ہیں بھارت جنرل ضیاء الحق کی دھمکی کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا اس نے اپنی فوجیں سرحد سے ہٹالیں۔ اس کا کریڈٹ ڈاکٹر عبدالقدیرکو جاتا ہے وہ قوم کے محسن ہی نہیں ملک کے محافظ بھی تھے۔
وطن عزیز میں کئی صنعت کار اور سرمایہ دار اپنے شعبے کے آئیکون ہیں مگر قومی آئیکون صرف ڈاکٹر عبدالقدیر ہیں قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق کے ذریعے ان کی وفات کو خراج تحسین پیش کیا گیا حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ کسی شہرکا نام ڈاکٹر عبدالقدیر رکھنے کی تجویز پیش کی جاتی اور ان کا مقبرہ بنانے کا منصوبہ بنایا جاتا اور قوم اسے خوش دلی سے قبول بھی کرلیتی کیونکہ قوم ڈاکٹر عبدالقدیر کو اپنا محسن سمجھتی ہے قوم کا اثاثہ سمجھتی ہے یہ ڈاکٹر صاحب کی خدمات کا ثمر ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ نہیں کرسکتا صرف خواہش کرسکتا ہے خواب دیکھ سکتا ہے محسن کشی کی انتہا یہ ہے کہ قوم کے منظور نظر کی خدمات کا خوش دلی سے اظہار بھی نہیں کیا گیا حالانکہ قوم کا منظور نظر حکومت کا بھی منظور نظر ہوتا ہے مگر حکومتوں نے انہیں صرف نظر کرکے ان کی خدمات کا صلہ دینے کے بجائے انہیں نظرانداز کردیا۔ اگر نواب شاہ کو بے نظیر بھٹو کا نام دیا جاسکتا ہے تو کسی شہر کو ڈاکٹر صاحب سے بھی منسوب کیا جاسکتا ہے قوم بھی اسے قبول کرلے گی نواب شاہ کو بے نظیر بھٹوسے منسوب کیا گیا مگر قوم نے اسے مسترد کردیا کراچی کے ایک علاقے کو ذوالفقارعلی بھٹو سے منسوب کیا گیا مگر اہل کراچی نے اسے تسلیم نہیں کیا کیونکہ قوم جانتی ہے کہ انہوں نے ملک و قوم کے خدمت کے بجائے اپنی اور اپنے آقاؤں کی خدمت کی ہے مگر ڈاکٹر صاحب کی خدمات صرف اور صرف ملک و قوم کے لیے تھی ڈاکٹر صاحب اپنی طویل نظر بندی سے بہت دل برداشتہ تھے کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ حکومتوں کے رویہ سے اتنے آزرہ خاطر تھے کہتے تھے کہ پاکستان نہ آتے تو اچھا ہوتا اردو کی ممتاز ادیبہ قرآۃ العین حیدر سرکاری آفیسران کے رویہ اور روش سے بددل ہوکر واپس بھارت چلی گئیں شنید یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر عبدالکلام بھی پاکستان آئے تھے مگر بدظن ہوکر بھارت چلے گئے تھے۔
اور تو اور کارواں کے ساتھ
رہنماؤں نے رہزنی کی ہے
مگر حکمران شرمندہ ہونے کے بجائے یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے۔
کیا کہوں کارکردگی اپنی
صرف تعمیل حکم کی کی ہے
عوام کو بھی اس حقیقت کا احساس ہوچکا ہے کہ کوئی بھی حکومت ڈاکٹر صاحب کی خدمات کے اعتراف میں کسی شہر کو ان سے منسوب نہیں کرے گی کیوں کہ وہ تو تعمیل حکم کی پابند ہے ڈاکٹر عبدالقدیر کا تعلق اورنگزئی قبیلے سے تھا۔ خیبر پختون خوا کے کسی شہر کو ڈاکٹر صاحب سے منسوب کیا جاسکتا ہے اور پختون اس سربلندی اور سرفرازی پر فخر محسوس کریں گے۔ مگر ایسا ہونا دشوار دکھائی دیتا ہے کیوں کہ ہمارے حکمران درآمد ہدایات کے پابند ہوتے ہیں غلاموں کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔