امریکا، روس اور افغانستان کے زخم

309

 

امریکا کہتا ہے کہ مضبوط، خوشحال اور جمہوری پاکستان دنیا کے لیے اہم ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کے لیے امریکی خیالات بیان کردیے لیکن امریکا کے بارے میں افغان وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں اس پر بھی غور کی ضرورت ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ امریکا کابل حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں سے باز رہے۔ ہمیں داعش سے نمٹنے کے لیے امریکی تعاون کی ضرورت نہیں۔ امریکا ایک جانب پاکستان کو خوشحال مضبوط اور جمہوری دیکھنا چاہتا ہے لیکن پاکستان کی بدحالی کے لیے غیر مستحکم کرنے کے اقدامات اور غیر جمہوری قوتوں کی مدد بھی کرتا رہتا ہے۔ دوسری جانب جس طالبان سے امریکا نے شکست کھائی ہے اب ان سے دوحا میں مذاکرات بحال کرلیے ہیں۔ ایک طرف وہ پاکستان کو خوشحال بنانا چاہتا ہے۔ دوسری طرف افغانستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ جب کہ وینڈی شرمین نے پاکستان آکر پاکستان کی بہت تعریفیں کیں لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ امریکا کابل حکومت کو غیر مستحکم بھی کررہا ہے اور پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں بہتری کے لیے کام بھی کرتا رہے گا۔ یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ امریکا اور طالبان ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی انداز میں دھمکیوں والے بیانات جاری کرنے میں مصروف ہیں اور ساتھ ہی دوحا میں مذاکرات بھی شروع ہیں۔ طالبان کے نمائندے سہیل شاہین نے امریکا سے ہونے والے معاہدے پر نظرثانی کی بات بھی کی ہے۔ یعنی گزشتہ 40 برس سے سوئی پاکستان اور افغانستان کے امن پر اٹکی ہوئی ہے۔ کبھی دنیا کو افغانستان کا امن عزیز ہوتا ہے کبھی پاکستان کا… اگر اسے ہم پرائی جنگ کا حصہ قرار دیں تو عجیب لگے گا لیکن یہ حقیقت ہے کہ افغانستان کے امن کے لیے اس ملک میں مداخلت بھی پرائی جنگ کا حصہ ہے۔ ہمیں دوسرے ملک کے امن سے زیادہ اپنے ملک کے امن کی فکر کرنی ہے اور پاکستان میں امن ہوگا تو وہ افغانستان کی مدد کرے گا۔ بالکل اُسی طرح جب فضائی سفر کے دوران طیارہ ہچکولے کھائے تو فضائی میزبان کہتے ہیں کہ پہلے
خود ماسک لگائیں پھر بچوں کو دیکھیں۔ پہلے خود لائف جیکٹ پہنیں پھر بچوں کو پہنائیں، مدد تو اس وقت کی جاسکے گی جب خود پرامن ہوں گے۔
امریکا ایک جانب تو پاکستان کو افغانستان کے معاملات درست کرنے یعنی اپنے مرضی کے مطابق کرنے کی ہدایت کررہا ہے۔ دوسری طرف مذاکرات میں طالبان کے مطالبات مان کر ان کے فنڈز بھی بحال کررہا ہے۔ اس طرح خود طالبان سے اچھے تعلقات رکھ کر پاکستان کو ان سے الجھانا چاہتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ سول ملٹری بحران کو اگر افغان مسئلے کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکا کی پٹائی اور انخلا پر پی ٹی آئی والوں کا عمران خان کو کریڈٹ دینا اور آئی ایس آئی کا کارنامہ قرار دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا مسئلہ بھی کھڑا ہوگیا۔ خیر یہ تو برسبیل تذکرہ تھا، اصل معاملہ تو افغانستان یا پاکستان کا امن ہے۔ دونوں میں سے کون سا اور کس ملک کا امن اہم ہے اس کا فیصلہ یا ترجیح پاکستانی حکمرانوں کو طے کرنی ہے لیکن جنرل پرویز اور اب بھی فوج کا یہی کہنا ہے کہ پہلے اپنے گھر کو مضبوط کریں گے۔ لہٰذا ایسا ہی کرنا چاہیے۔
افغانستان میں جو حالات ہیں وہ صاف ظاہر کررہے ہیں کہ وہاں موجود امریکا بھارت گٹھ جوڑ کام دکھا رہا ہے۔ ہر جمعے کو کسی نہ کسی امام بارگاہ میں دھماکا ہورہا ہے، ان ایجنٹوں کی کوشش ہے کہ سنی اور ہزارہ لڑ پڑیں پھر یہ لڑائی ایران افغانستان لڑائی بنے لیکن اب تک دونوں فریقوں نے ایسا ردعمل نہیں دیا بلکہ سب اسے افغان دشمنوں کی کارستانی سمجھتے ہیں اور کوئی ردعمل نہیں دے رہے۔ یہی صورت پاکستان کی طرف ہے کبھی ایف سی کو نشانہ بنایا جارہا ہے کبھی رینجرز کو کبھی براہ راست پاک فوج کو یعنی پاکستان بھی پرامن نہیں بلکہ پاکستان کو پرامن رکھنے والوں ہی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اور سب جانتے ہیں کہ بھارتی ایجنٹ ہی یہ کام کررہے ہیں، اس کے بعد امریکا کی اس بات پر کیسے یقین کرلیا جائے کہ وہ پرامن پاکستان یا پرامن افغانستان چاہتا ہے۔ درحقیقت امریکا دنیا میں کہیں امن نہیں چاہتا۔ اگر دنیا میں امن ہوگیا تو اس کے اسلحے کے ٹھیکیداروں کا کاروبار کیسے چلے گا۔ اقوام متحدہ کے امدادی امور سے کیسے سرگرم ہوں گے دنیا بھر کے بڑے بڑے کاروباری اداروں سے امن کے نام پر فنڈز لے کر دہشت گرد گروہوں تک پہنچانا مشکل ہوجائے گا۔ اس لیے امریکا، پاکستان، افغانستان یا مشرق وسطیٰ کہیں بھی امن نہیں ہونے دے گا۔ ایک جگہ سے پٹے گا تو نیا محاذ کھولے گا۔
جو صورت اور کیفیت امریکا کی ہے وہی روس کی بھی ہے۔ جب وہ سوویت یونین تھا تو وہ افغانستان میں پٹا تھا اور خوب پٹا تھا اس لیے اسے جو زخم لگا ہے اُسے وہ کیسے بھول سکتا ہے۔ اپنی ہزیمت کا بدلہ میدان میں لینے کی تو ہمت نہیں وہ بھی افغانستان کی ہر تباہی پر خوش ہوتا ہے۔ یہی حال امریکا کا ہے اسے تو تازہ زخم لگا ہے اس لیے افغانستان کو پرامن رہنے ہی نہیں دیتا۔ اور مسلمانوں کے ہاتھوں جس جس کو زخم لگا ہے وہ ہزار سال گزرنے کے باوجود نہیں بھولا، ہندو نہیں بھولے، عیسائی نہیں بھولے تو یہ امریکا و روس کیسے بھولیں گے۔ جس قسم کا بیانیہ پاکستان کے وعدہ خلاف حکمرانوں نے اختیار کیا ہے۔ دراصل وہ ایک بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ چناں چہ امریکا کہتا ہے کہ طالبان وعدے پورے کریں۔ پاکستان کہتا ہے کہ طالبان وعدے پورے کریں۔ اب روس کہتا ہے کہ اگر طالبان چاہتے ہیں کہ دنیا انہیں تسلیم کرے تو پہلے وعدے پورے۔ یہ جتنا احمقانہ مطالبہ ہے اسے اتنے ہی احمق لوگ دہرا رہے ہیں۔ طالبان اپنے وعدوں اور عمل کے معاملے میں اللہ اور افغان عوام کو جوابدہ ہیں نہ کہ امریکا اقوام متحدہ یا پاکستان اور یورپ وغیرہ کو۔ افغانستان کو پرامن اور مستحکم دیکھنے کی بات کرنے والے امریکا نے افغان مرکزی بینک تک طالبان کو رسائی دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس سارے معاملے کے تین پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار دوسرے طالبان سے خواتین کی ملازمت اور تعلیم کے مطالبات تیسرے نام نہاد انسانی حقوق جن کو امریکا و روس 40 برس تک پامال کرتے رہے لیکن امریکا، روس، پاکستان سمیت ان تمام ممالک سے یہ سوال ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں کیا ہورہا تھا اور کون کون سا ملک ان مذاکرات کو تسلیم نہیں کررہا تھا۔ سب نے تسلیم کیا اور جب معاہدہ ہوا تو اس کے الفاظ تھے یہ مذاکرات امارت اسلامیہ افغانستان اور امریکا کے مابین ہوئے یعنی افغانستان کی اسلامی حکومت اور امریکا کے مابین۔ اس کے بعد طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا سوال ختم ہوگیا۔ اس معاہدے ہی کو تو کہا جارہا ہے کہ اس میں کہیں لڑکیوں کی تعلیم انسانی حقوق اور عالمی اداروں کے ضوابط کا ذکر ہے۔ یعنی طالبان حکومت سے مطالبات ہیں۔ دوسرا مسئلہ خواتین یا لڑکیوں کی تعلیم۔ تو لڑکیوں کے پرائمری اسکول کھلے ہوئے ہیں، سیکنڈری بھی کھل گئے۔ اعلیٰ تعلیم بھی دی جائے گی۔ خواتین کی ملازمت پر سوال ہے کہ کیا ضرورت ہے۔ اگر گھر کا مرد اتنا کما سکتا ہے کہ گھر چل جائے اور نہ چلے تو حکومت کفالت کرے گی۔ یہ معاملہ افغان حکومت اور ان کے عوام کا ہے۔ وہ افغان خواتین کو ملازمت کی ضرورت پڑنے ہی نہیں دیں گے اور اگر پڑی تو وہ اس کا اسلام کے دائرے میں راستہ نکال لیں گے اور تیسری بات کی تو اوقات ہی نہیں جو ممالک خود انسانی حقوق اور افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں وہ تو یہ مطالبہ ہی نہیں کرسکتے۔ اور وعدے پورے کرنے میں امریکا کا ریکارڈ سب سے زیادہ خراب ہے۔ پاکستان کے ایف 16 طیارے ہوں یا عراق کے کیمیکل ہتھیار اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ہتھیار، کہاں ہیں وہ ہتھیار امریکا نے ہتھیار پیش کرنے کا وعدہ آج تک پورا نہیں کیا۔