افغان طالبان ڈالر بند کردیں

342

امریکا مستقل افغانستان میں فاقہ کشی اور معاشی بدحالی کی جھوٹی افواہیں پھیلا رہا ہے۔ افغانستان عوامی فاقہ کشی سے بچ سکتا ہے اور WGAE نے اس سلسلہ میں حکمت عملی تجویز کی ہے۔ افواہ سازی کی اس مہم کا مقصد طالبان کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی ماتحتی قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ اس ضمن میں امریکا یہ منصوبہ بندی کر رہا ہے کہ افغانستان میں ڈالروں کی بھرمار کر دے۔ وہ طالبان کو اس بات پر راضی کرنا چاہتا ہے کہ یہ ڈالر حکومت کو نہ دیے جائیں بلکہ سامراج کے پٹھوئوں کے ذریعہ ان کو عوام میں تقسیم کیا جاتا رہے۔ اگر اس منصوبے پر عمل کیا گیا تو افغانستان کی قومی حاکمیت بری طرح مجروح ہو جائے گی۔ ڈالروں کی آمدو خرچ پر حکومتی کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ افغانی کرنسی بے قدر ہوتی چلی جائے گی اور زر کا یہ تقسیمی نظام بڑے پیمانے پر معاشی کرپشن کو فروغ دے گا۔ ان حالات میں افغان حکومت کی خود مختاری کے کوئی معنی نہیں رہیں گے۔ طالبان کے پہلے دور میں بھی1996 تا 2001 کے دوران بھی طالبان کی حکومت کی ایک بنیادی کمزوری یہ رہی تھی کہ اس کا کنٹرول بیرونی کرنسیوں کی آمدورفت پر بالکل واجبی تھا۔ پاکستانی روپیہ اور ڈالر افغان معیشت میں آزادانہ گردش کرتے رہے جس کے نتیجے میں افغانستان کی قومی کرنسی بے قدر ہوتی رہی اور ساہوکاروں اور کرنسی خرید و فروخت کرنے والوں کو سودی سٹے بازی کی بنیاد پر کاروبار جاری رکھنے کا موقع ملا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ طالبان کی حکومت اس امریکی چال کو ناکام بنا دے اور ایک ایسا نظام زر نافذ کرے جس سے ملکی معاشی خودمختاری مستحکم ہو۔ یہ بات طالبان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہر سرمایہ دارانہ زر کی طرح ڈالر بھی ایک ایسا زر ہے جو امریکی حکومت کے سودی تمسکات کی بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے۔ اگر افغان نظام زر ڈالرائز ہو گیا تو اس کا تعلق بالواسطہ طور پر عالمی سودی نظام سے قائم اور مستحکم ہوتا چلا جائے گا اور جتنی بیرونی سرمایہ کاری اور امداد افغانستان میں آئے گی وہ سب افغان نظام زر کو عالمی سودی بازاروں سے منسلک کرنے کا کام انجام دے گی۔ ملک میں غیر سودی اور غراری (speculative) تمویلی (فنانشل) نظام قائم کرنا ہے تو لازم ہے کہ:
1۔ افغان معیشت میں ذریعہ تبدل اور پیمانہ قدر (Medium of exchange) صرف ملک کی اپنی کرنسی ہو۔ WGAE کی تجویز ہے کہ یہ کرنسی اسلامی دینار ہو۔
2۔ اس کرنسی کے اجرا کی اجارہ داری حکومت افغانستان کے پاس ہو اور اس سے متعلق قرضہ جات کی اجارہ داری بھی قومیائے گئے بینکوں کی اجارہ داری میں ہو۔ اسلامی دینار ایک ایسی کرنسی ہو جس کی ساکھ کسی شے (سونا چاندی یا بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر) سے وابستہ نہ ہو۔
3۔ بیرونی ترسیل زر کے تمام ذرائع (برآمدات، درآمدات، سرمایہ کاری، امداد) پر حکومتی اجارہ داری قائم ہو۔
4۔ اسلامی دینار کی ملکی اور بین الاقوامی قدر حکومت خود متعین کرے۔ تمام حاصل شدہ بیرون زر حکومت کی تحویل میں ہو اور حکومت اسی بیرونی زر کی ملکی تقسیم کرے، اس کو متعین شدہ شرح تبدل کے مطابق اسلامی دینار میں تبدیل کر کے۔
5۔ غیر ملکی کرنسی کی ملک میں استعمال پر مطلق پابندی نافذ کی جائے اور فوج کے ذریعے اس کے حکم کی تنفیذ کی جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
6۔ ایران سے ایک علاقائی کرنسی یونین کے قیام کے لیے مکالمہ کی ابتدا کی جائے۔
7۔ ایران، پاکستان اور ترکی سے تجارت شے کے بدلے شے کے ذریعے فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔
8۔ ایران، پاکستان اور ترکی کے مرکزی بینکوں سے غیر سودی بنیادوں پر Currency Swap Arrangement کے لیے مکالمہ شروع کیا جائے۔
9۔ کرنسی نظام کو ملکی معاشی خود مختاری کا ذریعہ بنانے کے لیے یہ پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔
بالفرض اگر افغانستان میں قحط کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے اسے اس سے بچانا ہے تو کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ افواہیں روکنے کے لیے
1۔ تمام غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو ملک سے فوراً نکال دینا چاہیے اور اقوام متحدہ کے اداروں کی اشاعتی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دینا چاہیے کیونکہ یہی ایجنسیاں مفروضہ خوراکی بحران کی جھوٹی خبریں پھیلا کر عوام کو گمراہ کرتی ہیں۔
2۔ ملکی میڈیا کو قومیا لینا چاہیے کہ اس میں بیٹھے سامراجی آلہ کار افواہ سازی کی اس مہم کو جاری نہ رکھ سکیں۔
3۔ مرکزی، صوبائی اور مقامی سطح پر خوراکی انتظامیہ کا قیام جو ملکی، صوبائی اور مقامی سطح پر سہ ماہی بنیادوں پر خوراکی ضروریات اور رسد کا تخمینہ جلد از جلد لگائیں۔
4۔ ان تخمینوں کی بنیاد پر 22-2021ء کے لیے ایک ملکی خوراکی منصوبہ کی تیاری جو علاقائی سطح پر فراہمی خوراک کی نشان دہی کرے۔ اور
مرکزی اور صوبائی سطح پر ریاستی اجناسی ذخیرہ کا قیام
نظام ترسیل خوراک پر ریاستی کنٹرول
کاشت کاروں سے فاضل پیداوار (اجناس کی پیداوار کا وہ حصہ جو گھرانے استعمال نہیں کرتے) کو متعین قیمتوں پر خریدنے کا قیام یعنی خوراکی کاروبار پر ریاستی اجارہ داری کا قیام
اجناس کی جو قیمتیں 22-2021ء کے لیے متعین کی جائیں وہ 2021ء کی بازاری قیمتوں کے مطابق ہوں۔
اگر کوئی خوراکی امداد سرمایہ دارانہ ادارہ فراہم کرے تو وہ براہ راست مرکزی ذخیرہ اجناس میں جمع کی جائے اور اس کی عوامی ترسیل میں کسی غیر ملکی ادارہ بالخصوص اقوام متحدہ کے اداروں کا کوئی کردار نہ ہو۔
بین الاقوامی تجارت کو قومیا لیا جائے۔ تمام درآمدات اور برآمدات حکومت کے ذریعے جاری کیے جائیں اور تمام زر مبادلہ حکومتی تحویل میں ہو۔
اگر ملکی خوراکی ضروریات ملکی خوراکی رسد سے زیادہ ہوں تو ان کو درآمدات سے پورا کیا جائے۔ کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ خوراکی برآمدات مسلم ممالک بالخصوص ایران، ترکی ، پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا سے ہوں۔ بہت شدید ہو تو افغان خوراک فنڈ قائم کیا جائے۔
بنیادی طورپر افغانستان خوراکی طور پر خودکفیل ہونے کی پوری استطاعت رکھتا ہے۔ کیونکہ وہاں کی آبادی کی اکثریت اپنا رزق خود پیدا کرتی ہے لیکن انقلاب کے پہلے سال ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر تاریخ میں کئی مرتبہ اس قسم کے بحرانوں سے کامیابی سے نبٹا جا چکا ہے۔