الوداع ڈاکٹر عبدالقدیر خان

754

سچی بات یہ ہے کہ وہ مر تو اسی دن گیا تھا جس دن حاکم وقت نے اس کی ڈی بریفنگ کی تھی اور پوری قوم کے سامنے ٹی وی پر لا کر ایک مجرم کے طور پر پیش کیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یہ سب دل پر جبر کر کے کیا ہوگا انہیں قوم کے لیے قربانی پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہوگا ورنہ وہ موت کو قبول کر لیتے مگر اس ذلت کو قبول نہ کرتے۔ انہیں کہا گیا کہ پاکستان کو خطرہ ہے اور یہ خطرہ اُسی وقت ٹل سکتا ہے جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان قوم کے سامنے آکر اپنے ناکردہ گناہوں کا اعتراف کریں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے قوم کی خاطر یہ ذلت قبول کر لی اور صدر پرویز مشرف نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیا انہیں گھر میں قید کر دیا گیا جس کے خلاف ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور عدالت نے ان کی ڈی بریفنگ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 6فروری 2009ء کو انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ رہائی کے بعد بھی انہیں عملاً نظر بندی کا سامنا تھا اور حساس ادارے کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ یہ احسان فراموش قوم کا ہیرو تھا جو آج دنیا سے رخصت ہو گیا اب انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔ کسی نے سچ کہا تھا کہ ’دفنائیں گے مگر اعزاز کے ساتھ‘۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھارت سے ہجرت کرکے 1951ء میں پاکستان آئے تھے۔ ان کے والدین بھوپال میں رہتے تھے مگر انہوں نے پاکستان جانے کو ترجیح دی۔ وہ پشتون تھے اور ان کے والد عبدالغفور اسکول ٹیچر تھے۔ ان کے خاندان کے باقی افراد 1947ء ہی میں پاکستان آ گئے تھے اور انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے والدین کو کئی خط لکھے کہ وہ بھی پاکستان آ جائیں۔ عبدالقدیر خان نے میٹرک بھوپال سے پاس کیا تھا اوراس کے بعد ان کے والدین کراچی ہجرت کر کے آ گئے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خا ن نے ڈی جے سائنس کالج میں داخلہ لے لیا۔ 1956ء میں انہوں نے بی ایس سی فزکس کیا اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں انسپکٹر بھرتی ہوگئے۔ اسی دوران انہوں نے مغربی جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالر شپ اپلائی کیا۔ 1961ء میں وہ مغربی برلن تعلیم حاصل کرنے کے لیے چلے گئے۔ مغربی جرمنی سے وہ ہالینڈ گئے جہاں سے انہوں نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور پی ایچ ڈی کے لیے بلجیم چلے گئے۔ انہوں نے اپنے پروفیسر کی سرپرستی میں اپنی ڈگری مکمل کی اور ایمسٹرڈم میں ان کے پروفیسر کی سفارش پر انجینئرنگ فرم میں ملازمت مل گئی۔ یہ کمپنی یورینکو کی سب کنٹریکٹر کمپنی تھی جو گیس سے یورنیم کو افزودہ کرنے پر کام کر رہی تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یورینکو نے ایک اعلیٰ عہدے پر اپنے پاس بلا لیا اور وہ یورینیم کی افزودگی کے کام پر لگ گئے۔ اس وقت تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات موجود نہیں تھی کہ وہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے لیے کام کریں گے۔ یہ تو بھلا ہو بھارت کا کہ اس نے budha smiling کے نام سے ایٹمی دھماکے کر دیے۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ احساس ہوا کہ انہیں اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ پاکستان بھی خفیہ طریقے سے ایٹمی پروگرام شروع کر چکا تھا اور ڈاکٹر منیر احمد اس پروگرام کی سربراہی کر رہے تھے۔ 1974ء میں انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اس حوالے سے خط لکھا مگر کسی نے اس خط پر توجہ نہ دی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے سفیر کے ذریعے دوبارہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے رابطہ کیا تو ان کا سیکورٹی چیک کیا گیا بعدازاں انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان بلا لیا اور غلام اسحق خان، آغا شاہی اور مبشر حسن کی موجودگی میں وزیراعظم کو بریفنگ دی اس پر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ ان کی بات میں وزن ہے۔ پاکستان اس وقت پلوٹونیم سے ایٹم بم تیار کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انہیں یورینیم سے افزودگی کا راستہ دکھایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے کہا گیا کہ وہ ہالینڈ ہی میں رہیں اور اس سارے عمل کے حوالے سے معلومات حاصل کر کے پروجیکٹ 706 کی رہنمائی کرتے رہیں۔ 1975ء میں یورینکو نے منیر احمد خان سے ملاقاتوں کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حساس مقامات پر ڈیوٹی دینے سے فارغ کر دیا، اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہو گئے اور پاکستان چلے آئے۔ 1976ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی پروگرام میں شمولیت اختیار کر لی اور خلیل قریشی کے ساتھ مل کر نیوکلیئر پروگرام کو آگے بڑھایا۔ اس موقع پر اس پروگرام میں پہلے سے موجود سائنسدانوں میں اختلاف پیدا ہو گئے۔ بشیر الدین محمود اس وقت یورینیم ڈویژن کے سربراہ تھے۔ خان اور بشیر الدین محمود ساتھ ساتھ نہ چل سکے اس پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ساری صورتحال سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کوآگاہ کیا۔ وزیراعظم نے بشیر الدین محمود کی جگہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یورینیم ڈویژن کا سربراہ بنا دیا اور ان کے ڈویژن کو اس پروگرام سے الگ کر دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ڈویژن براہ راست فوج کی نگرانی میں کام کرتا رہا۔ ڈاکٹر خان چیف سائنٹسٹ تھے اور آرمی انجینئرز کی مدد سے انہوں نے ویران جگہ کہوٹا کو اپنی لیبارٹری کے لیے چن لیا اور یوں کہوٹا کے ریسرچ سینٹر کی ابتدا ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے فوجی حلقے انہیں سنٹری فیوج خان کہا کرتے۔ ضیاء الحق نے جب 1983ء میں اس لیبارٹری کا دورہ کیا تو انہوں نے اسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے موسوم کر دیا۔ بعدازاں ایٹمی پروگرام پر کام کرنے والے دوسرے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اصل ہیرو وہ ہیں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف شو مین تھا۔
ایمسٹرڈم کی ایک مقامی عدالت نے 1985ء میں ان کی غیر موجودگی میں چار برس کی سزا سنا دی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایس ایم ظفر ایڈووکیٹ کے ذریعے اپنا مقدمہ لڑا۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ جو معلومات ان کے پاس موجود تھیں یا انہوں نے جس کے لیے کہا تھا وہ ساری کی ساری فزکس کی پڑھائی کے دوران سلیبس کا حصہ تھی اور وہ تمام طالب علموں کو پڑھائی جاتی ہیں چونکہ پاکستان میں لائبریریز نہیں ہیں اس لیے انہیں کتابوں رسائل اور ریسرچ پیپرز کی ضرورت تھی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ یہ مضمون اس طوالت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس قوم کا سپوت تھا اور اس نے اپنی زندگی اس قوم پر وار دی۔ اس کے خلاف بے شمار پروپیگنڈہ کیا گیا مگر وہ سارے کا سارا ختم ہوا۔