وہ دعوے کہاں گئے؟

427

چاہے کتنے ہی دعوے کیے جائیں مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی پالیسی کی کامیابی کے لیے حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ پچھلے ہفتہ دبئی نے مودی حکومت سے ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر میں صنعتی پارکس کی تعمیر، ایک میڈیکل کالج اور ایک اسپیشلسٹ اسپتال کے قیام کے بارے میں سمجھوتا کیا ہے۔
ہندوستان کے وزیر تجارت پیوش گویل نے اس سمجھوتے کو ہندوستان کے زیر انتظا م کشمیر میں ہندوستان کی بالا دستی تسلیم کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ہندوستان کے وزیر تجارت کا جو بھی دعویٰ ہو لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سمجھوتا پاکستان کی کھلم کھلا ناکامی ہے۔ خاص طور پر اس امر کے پیش نظر کہ 71ء میں جب متحدہ عرب امارات قائم ہوئی تھی تو پاکستان پہلا ملک تھا جس نے یو اے ای کو تسلیم کیا تھا اور پاکستان کو فخر رہا ہے کہ اس کے یو اے ای کے ساتھ لا جواب تعلقات رہے ہیں۔ ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر میں صنعتی پارکس کی تعمیر اور میڈیکل کالج اور اسپیشلسٹ اسپتال کے قیام کے بارے میں دبئی کے سمجھوتے سے پاکستان کی پالیسی کو ناقابل تلافی زک پہنچی ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سمجھوتا اچانک ہوا ہے بلکہ پچھلے ایک عرصہ سے ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قربت اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا تھا۔ پاکستان کی خارجہ امور کے پالیسی سازوں کو یقینا ان حالات کے بارے میں علم تھا لیکن افسوس انہوں نے اس طرف خاص توجہ نہیں دی۔
پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے خاص تعلقات پر فخر رہا ہے لیکن اس میدان میں بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان، پاکستان سے بازی لیتا جارہا ہے اور ہندوستان، سعودی عر ب کے ساتھ اہم شعبوں میں بڑی تیزی سے قریب آتا جارہا ہے۔ ان میں ایک تازہ ترین شعبہ دفاع کا ہے۔
گزشتہ اگست میں پہلی بار سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان مشترکہ بحری مشقیں ہوئیں جن میں ہندوستان کی بحریہ کے اہم جہازوں نے حصہ لیا۔ ان مشترکہ بحری مشقوں کو ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے میدان میں ایک اہم باب قرار دیا گیا۔ دفاعی تجزیہ کار اس بات کو بے حد اہمیت دیتے ہیں کہ ہندوستان کی بحریہ کے جہاز متحدہ عرب امارات کی خلیج عمان مسقط کی بندرگاہ میں بڑی باقاعدگی سے آتے جاتے ہیں اور وہاں طویل عرصہ کے لیے لنگر انداز ہوتے ہیں۔ یہ بندرگاہ پاکستان کی گوادر کی بندرگاہ کے عین سامنے ہے اور زیادہ دور نہیں ہے۔ اس علاقے میں ہندوستان کی بحریہ کی آمد و رفت گوادر کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بلا شبہ پاکستان کی بحریہ اس خطرے سے بخوبی واقف لیکن خطرات اپنی جگہ برقرار ہیں اور خاص طور پر جب ہندوستان کی بحریہ کا اس علاقہ میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز ان خطرات کا کس طرح مقابلہ کرتے ہیں۔ یا محض خود ستائی کے انداز میں اپنی پالیسی کی کامیابی کا دعویٰ کرتے رہیں گے۔