بلدیہ عظمیٰ کراچی محکمہ لینڈ کے ریکارڈ تک غیر سرکاری افراد کی رسائی کا انکشاف

227

کراچی( رپورٹ: محمد انور) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اہم ترین محکمہ لینڈ کے کمپیوٹر آرکائیو سیکشن کو غیر متعلقہ غیرسرکاری ملازمین کے سپرد کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف ایڈمنسٹریٹر کراچی و صوبائی مشیر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم ڈاکٹر ایس ایم فاروق کے محکمہ لینڈ کے دفاتر پر اچانک چھاپے کے نتیجے میں ہوا۔ اس کارروائی کی رپورٹ ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب اور میٹروپولیٹن کمشنر کو بھیج دی گئی۔ ایڈمنسٹریٹر سیکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کی خصوصی ہدایت پر 3 روز قبل سینئر ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز نے محکمہ لینڈ کے دفاتر کا اچانک معائنہ کیا اور عملے کی حاضری چیک کی۔اس دوران سینئر ڈائریکٹر نے لینڈ ڈپارٹمنٹ کے کمپیوٹر آرکائیو ڈپارٹمنٹ کا جائزہ بھی لیا حاضری رجسٹر چیک کرتے ہوئے آرکائیو سیکشن میں موجود غیر متعلقہ افراد سے باز پرس کی ان کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ دینے پر متعلقہ افسران سے ان کے بارے میں دریافت کیا جس پر انہیں بتایا گیا کہ یہ سابق ڈائریکٹر طارق صدیقی کے لوگ ہیں ان کا کے ایم سی سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ تینوں طارق صدیقی کے آدمی ہیں اورانہیں بلدیہ عظمیٰ کے دیگر افسران کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق کمپیوٹر ڈپارٹمنٹ کے آرکائیو سیکشن میں غیر متعلقہ افراد،عاطف ، اسد ،فہداور اعظم کمپیوٹر پر کام کر رہے تھے۔ ان میں اعظم نامی ایک شخص ڈی ایم سی کا ریٹائرڈ ملازم بتایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کارروائی سے یہ شواہد ملے ہیں کہ چاروں افراد کو سرکاری امورو دستاویزات تک رسائی حاصل تھی جس کی نوعیت بدنیتی اور بد دیانتی تھی۔ سینئر ڈائریکٹر نے اس کارروائی کے بعد ڈائریکٹر لینڈسمیت دیگر افسران سے کمپیوٹر ڈپارٹمنٹ میں غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر 3روز کے اندر وضاحت طلب کر لی ہے۔ اس اچانک کارروائی پر ایڈمنسٹریٹر کے ذرائع نے بتایا اس کارروائی کا حکم ایڈمنسٹریٹر نے جاری کیا تھا ۔ ان کا موقف تھا کہ بلدیہ عظمیٰ کے نظام کی اصلاح کے لیے کچھ غیر معمولی اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس بارے میں مزید معلومات کے لیے جب ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب سے رابطہ قائم کیا گیا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم نے بھی فون کال ریسیو کرنے سے گریز کیا۔