امریکا،اسرائیل ،بھارت اور امارات میں گٹھ جوڑ

121

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت، اسرائیل، امریکا اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اپنے چہار رکنی اتحاد کے پہلے اجلاس میں اقتصادی تعاون کے لیے بین الاقوامی فورم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آن لائن منعقدہ اجلاس میں بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر، اسرائیلی یائر لیپید، امریکی انتھونی بلنکن اور اماراتی شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے شرکت کی۔بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے اجلاس کے بارے میں بتایا کہ مذاکرات میں ہم نے اقتصادی بڑھوتی اور عالمی مسائل پر زیادہ قریبی تعاون کے موضوع پر بات چیت کی، اور مختصر مدت میں ایک اور اجلاس کے انعقاد پر اتفاق کیا ہے۔اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ 4ممالک کے درمیان اتحاد انفراسٹرکچر، نقل وحمل، بحری تحفظ اور دیگر موضوعات پر مل کر کام کرنے میں مددگار ثابت ہو گا ۔امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ اجلاس میں علاقائی وعالمی سطح پر مشترکہ خدشات سمیت اقتصادی و سیاسی تعاون میں فروغ کی اہمیت کا جائزہ لیا گیا۔ دوسری جانب تیونس کے صدر قیس سعید کی طرف سے اسرائیل کے حوالے سے ایک متنازع بیان سامنے آنے کے بعد عوامی اور سیاسی حلقوں میں ان کے خلاف سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ صدر قیس سعید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی ریاست اب تیونس کے لیے دشمن نہیں رہی۔ ان کے اس بیان پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔خیال رہے کہ صدر قیس سعید پارلیمان کومعطل کرنے اور منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے بعد سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں متنازع ہوچکے ہیں۔ ان کے اسرائیل کی حمایت پرمبنی بیان نے عوام میں ان کے حوالے سے مایوسی میں اضافہ کیا ہے۔ایک نجی ٹی وی چینل موزابیک پر نشر ایک بیان میں سابق تیونسی وزیر خارجہ احمد ونیس نے کہا کہ صدر قیس سعید کے لیے اسرائیل اب دشمن نہیں رہا ہے۔ونیس نے کہا کہ تیونس کسی کا دشمن نہیں، تاہم اسرائیل کے ساتھ دوستی کا دم بھرنے کا کوئی جواز نہیں۔